آخر کب تک؟

Khanesh Rathi

20 اپریل 2019



١٩٤٧ میں قاٸداعظم محمد علی جناح نے پہلی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اقلیتوں کو برابر کا شہری قرار دیا۔ قاٸداعظم محمد علی جناح نے فرمایا، ”آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان Pakistan میں اپنی کسی بھی عبادت گاه میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو ریاست پاکستان Pakistan کا اس سے کوٸی لینا دینا نہیں۔“

گذشتہ برس کی مردم شماری کی تحت ٢٠٧ ملین آبادی والی ملک میں ٩٦.٢٨ فیصد مسلمان، ١.٥٩ فیصد عیسائی، ١.٦٠ فیصد ہندو، ٠.٢٢ نچلی طبقے کے لوگ اور ٠.٠٧ فیصد باقی عقیدوں والے لوگ ہیں۔

دنیا کے عظیم رینماٶں قاٸداعظم اور علامہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا، ایک فلاحی ریاست کا وہ اپنی نظروں سے پورا ہوتا ہوا نہیں دِکھ رہا۔ آگے کی پیشنگوئی کرنے سےپہلے میں آپ کو ایک بات بتاتاچلوں اگر ماضی کے اوراق اور حال کی صورتحال پر نظر دوڑاہیں تو بہت سے حقائق ہم پر واضح ہو جائیں گے

میں یہاں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے رہنماٶں کے خواب اور ان کے ارشادات پر عمل نہیں ہوا اور ہم اس وجہ سے مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔ نہیں ہم آج بھی ایک مہذب اور باشعور قوم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اور اگر ضرورت ہے تو عدل و انصاف کے صحیح نظام کی۔ کرپشن کے خاتمے کی۔ امن اور خوشحالی کی۔

ضرورت ہے ایک ایسے معاشرے کی جہاں برابری ہو امیر اور غریب میں۔ جہاں پر اکثریت کو اقلیت پر فوقیت نہ ہو۔جہاں ایک ماں خود کو اور اپنی بیٹیوں کو محفوظ سمجھے۔ جہاں بوڑھی ماں کو اپنی زمین سے قبضہ ختم کروانے کے لیے تھانہ کچہری کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ کیا ہم ایک ایسی معاشرے کی توقع کر سکتے ہیں جہاں کسی لڑکی پر بری نظر ڈالنے والے کو سخت سزا دی جاۓ۔ ایسا معاشرہ جہاں کوئی شخص بھوک افلاس سے، بیروزگاری سے یا پھر قرض کے فکر سے آبگاد نہ کرے۔

اگر ضرورت ہے تو ایک ہندو ماں کو مرنے سے بچانے کی جو اپنی بیٹی کے غم میں تڑپ رہی ہے جس کو اغوا کر کےاُس کا مذھب بدل کر اس کو زبردستی مسلمان بنایا گیا ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ہندو باپ کو انصاف پہچانا جو در در کی ٹھوکریں کھا کر اس عذاب میں مبتلا ہے اور اس ظلم سے اُس کے بیوی بھگوان کو پیاری ہوگٸ۔

قاٸداعظم کے فرمودات کے مطابق ریاست کے سب شہری برابر ہیں۔

آئین پاکستان Pakistan کے آرٹیکل ٣٦ کے تحت اقلیتوں کے شہری حقوق اور مفادات کی حفاظت کرنا ریاست کی زمہ داری ہے۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ریاست یہ ذمہ داری نبھانے سے بالکل قاصر ہے۔ کسی رینا یا روینا کو انصاف نہیں ملتا یا پھر کسی آسیہ مسیح کو اپنی زندگی کے دس سال جیل میں کاٹنے پڑتے ہیں اور پھر جا کی قانون کی دیوی اُن پر مہربان ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر ہم اقلیوں کو کہا جاتا ہے کہ ایسی صورتحال میں ریاست سے انصاف کی توقع نہ کرو اور چپ چاپ بیٹھ جاٶ۔ اور اگر انصاف لینے کے کوشش کرتے ہیں تو کورٹ کچہریوں میں ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے۔

اس عظیم ملک جہاں کا ہندو، عیسائی، سکھ یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا فرد اس ملک کے لئے جان بھی قربان کرنے کو تیار ہے۔ اس کی تعمیر و ترقی کے لےشب و روز محنت کرتا ہے اور خود کو پاکستانی کہلانے اور بلوانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اس کے باوجود کے اس کی ماں کو بے گناہ دس سال جیل میں رکھاجاتاہے۔ اس کی نابالغ بہن کو زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے۔ اس کے باپ کو بیچ سڑک پر گولیاں ماردی جاتی ہیں۔ اقلیتوں کا کوٹہ جو ان کے لئے مختص کیا گیا ہے اُس کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور اس کے لئے اقلیتوں کو خاکروب اور چوکیدار کی آسامیوں پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر اُس پر کیا گزتی ہے کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا اور یہ سب میں قارائین کرام پر چھوڑتا ہوں۔

اور سب سےدُکھ رنج والم والی بات یہ ہے کہ ہمیں ہماری شناخت سے محروم کیا جاتا ہے۔ سکھ، عیسائی اور ہندوں کو غیر مسلم کہہ کر پکارہ جاتا ہے۔

جب دوسرے ممالک سے آۓ ہوۓ رشتے دار ہماری حالت ذار محسوس کرتے ہیں وہ ہمیں یہاں سے ہجرت کے لئے اُکساتے ہیں، انہیں کیا معلوم کہ اپنی ملک یا اپنی دھرتی ماں کو خیرباد کہنا کتنا کٹھن کام ہے۔

ہمارے باپ دادا سب یہی پیدا ہوۓ ہیں اورسب یہں دفن ہیں۔ یہ ہماری دھرتی ماں ہے۔ ہم اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ کافی لوگ ان حالات سے تنگ آکر دوسرے ممالک میں نقل مکانی کر چکے ہیں اور بہت سے لوگ اپنی دھرتی سے محبت کی وجہ سے یہاں ٹکے ہوۓ ہیں۔

میں اپنے ہم وطن پاکستانیوں سے ایک سوال پوچھنے کی حبسارت کر رہا ہوں۔ اگر کوئی مسلمان لڑکی مجھ سے پیار کرتی ہو اور میں اُس کے سامنے یہ شرط رکھوں کہ تم اپنا مذہب چھوڑ کر میرا مذہب اپنالو تب میں تم سے شادی کرلوں گا اور وہ ایسا کرنے پر رضامندی اختیار کرتی ہے۔ تو پھر میرے پاکستانی بھائیوں کا اور ریاست کے اداروں کا کیا ردعمل ہوگا جو ہمیشہ ہم سے روا رکھے گۓ سلوک پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

یہ زیادتیاں کب بند ہونگی؟ ہم لوگوں کو برابر کا شہری کب تصور کیا جائی گا؟ قاٸداعظم محمد علی جناح کا خواب کب پورا ہوگا؟ ہندو، سکھ اور عیسائی کب اپنے نام سے پکارے جائیں گے؟ بجاۓ غیر مسلم کے۔ آخر کب تک ہمیں یہ زیادتیاں برداشت کرنے پڑیں گی؟ آخر کب تک؟

 211