صدر ایوب بنام صدر علوی

فیض عام - سہیل وڑائچ

19 اپریل 2019

saddar ayub banam saddar alvi

مکافات نگر

صدارتی محلہ

مکان نمبر 58ٹوبی

ڈئیر مسٹر پریزیڈنٹ عارف علوی صاحب

السلام علیکم!

امید ہے آپ قصر صدارت میں مزے سے مشاعروں کے لطف اُٹھا رہے ہوںگے۔ صدارتی محلہ مکافات نگر میں آج کل آپ کا بہت ذکر ہورہا ہے، کہا جارہا ہے کہ پاکستان Pakistan میں پھر سے صدارتی نظام لایا جارہا ہے۔ گزشتہ رات پاکستان Pakistan کے پہلے صدر اسکندر مرزا کے گھر دعوت تھی، جس میں میرے علاوہ صدر یحییٰ خان اور صدر ضیاءالحق بھی شامل ہوئے۔ صدر مشرف کی کرسی خالی رکھی گئی، مقصد اُن کی علامتی حاضری ظاہر کرنا تھا۔ اِن تمام صدور نے میری سربراہی میں ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا مقصد وطن عزیز میں پھر سے صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ میرا یہ خط اِسی سلسلے کی پہلی کڑ ی ہے۔

ڈئیر صدر صاحب!

ہمیں اطلاع ملی ہے کہ محلہ جمہوریت میں ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں دو دن پہلے سابق وزرائےاعظم کی ایک ملاقات ہوئی۔ سہروردی، بھٹو، جونیجو اور بینظیر اس معاملہ میں پیش پیش تھے۔ اُنہوں نے میٹنگ میں صدارتی نظام کے خلاف قرارداد مذمت بھی پیش کی۔ میری سیاسی حریف فاطمہ جناح بھی اجلاس میں شریک ہوئیں اور صدارتی نظام کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ مذاقاً یہ بھی کہا کہ صدارتی نظام لائلپور کا گھنٹہ گھر ہے، جس میں شہر کے آٹھ بڑے بازاروں کا راستہ کھلتا ہے۔ یہ خبر بھی ملی ہے کہ اُن وزرائےاعظم نے قائداعظم سے ملاقات کر کے اُنہیں شکایت لگائی ہے کہ ملک میں ایک بار پھر صدارتی نظام لانے کی سازش ہو رہی ہے۔ اِس حوالے سے قائداعظم جلد ہی ایک پالیسی بیان جاری کریں گے۔ ہمیں چاہئے کہ اِس بیان کے جاری ہونے سے پہلے پہلے ہی صدارتی نظام کو نافذ کردیں۔ مکافات نگر میں اس بات پر بہت بحث ہوئی کہ آپ سویلین صدر ہیں، اِس لئے آپ صدر کے اختیارات اور طاقت سے واقف ہی نہیں، اس لئے آپ کو خط لکھنے کا فائدہ نہیں۔ ضیاءالحق نے کہا کہ فضل الٰہی، رفیق تارڑ اور علوی چونکہ جمہوری ادوار میں صدر بنے، اس لئے وہ صدارتی نظام کی برکات سے واقف ہی نہیں، صدر کا عہدہ قومی یکجہتی کی علامت ہوتا ہے، میں، ضیاءالحق اور پھر مشرف، ہم سب کلی اختیارات کے مالک رہے، ہم نے اپنے وزیراعظموں کو مکمل کنٹرول میں رکھا۔ میں نے تو ملک کے اندر صدارتی نظام نافذ بھی کردیا تھا مگر فاطمہ جناح، مودودی، چوہدری محمد علی اور نوابزادہ نصراللہ خان پارلیمانی نظام پر اڑ گئے، قوم بھی اڑ گئی، مظاہرے شروع ہو گئے اور یوں مجھے گول میز کانفرنس میں ماننا پڑ گیا کہ ملک میں دوبارہ پارلیمانی نظام ہی رائج کردیا جائے گا۔

ڈئیر علوی صاحب!

میں نے اپنے دور میں یہ ثابت کر دیا تھا کہ قائداعظم کے پارلیمانی نظام نافذ کرنے کے باوجود وہ دل سے دراصل صدارتی نظام کے حامی تھے۔ شریف الدین پیرزادہ نے قائداعظم کی ایک ڈائری بھی پیش کی تھی، جس میں صدارتی نظام کی تعریف کی گئی تھی، بعد میں پتہ چلا کہ یہ پیرزادہ کی اپنی سوچ تھی، یہی وجہ ہے کہ مکافات نگر میں شریف الدین پیرزادہ نے کئی بار قائداعظم کو معافی نامے لکھ کر بھیجے ہیں مگر قائداعظم نے ابھی تک اُسے معاف کیا ہے اور نہ ہی اُس سے ملاقات کی ہے۔ ہم نے تو پیرزادہ کو صدارتی محلہ میں مدعو کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ یہاں بھی ہمیں قانونی اور آئینی مشورے دینا جاری رکھے مگر پیرزادہ قائداعظم سے شرمندہ ہے، ان کا سامنا نہیں کر سکتا، اِس لئے بار بار معافی نامے لکھ کر بھیجتا ہے۔

ڈئیر پریذیڈنٹ!

ہمیں علم ہے کہ وزیراعظم آپ کی اتنی عزت نہیں کرتا۔ سعودی ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے عشائیے میں بھری محفل میں کہہ دیا ’’علوی کھڑے ہو کر تقریر کرو‘‘ میرے، ضیاءالحق، مشرف یا یحییٰ خان کے زمانے میں کسی وزیراعظم کو یہ حوصلہ نہیں تھا۔ میری تم سے گزارش ہے کہ اگر تمہیں اپنے عہدے کی عزت مقصود ہے تو غلام اسحٰق خان اور فاروق لغاری کی طرح حقیقی صدر بننے کی کوشش کرو، تمہیں آئین کے تحت اختیار ہے کہ وزیروں کو ایوان صدر بلا کر ان سے بریفنگ لیا کرو، جن وزیروں کی کارکردگی اچھی نہیں اُنہیں ایک خط لکھ کر ان سے باز پرس کرو، تم دیکھو گے کہ ایوان صدر فوراً اہمیت اختیار کر جائے گا، طاقتور حلقے بھی تمہاری طرف متوجہ ہوں گے، تم میں پوری صلاحیت ہے کہ تم طاقتور سویلین صدر بن سکتے ہو۔ تمہاری صلاحیتیں وزیراعظم سے کہیں زیادہ ہیں۔ دراصل اس ملک کے مسائل کی جڑ ہی وزیراعظم کا عہدہ ہے۔ وزیراعظم کو عوامی طاقت کا نشہ چڑھ جاتا ہے۔ بھٹو اتنا طاقتور ہو گیا تھا کہ اسے ہٹائے بغیر چارہ نہیںتھا، بینظیر اور نواز شریف Nawaz Sharif بھی عوامی طاقت کا گھمنڈ رکھتے تھے، اپنی من مانی کرتے تھے، جونیجو کو دیکھ لو، ضیاءالحق نے اُسے سندھڑی سے اٹھا کر وزیراعظم بنایا، وہ اپنے آپ کو اصلی وزیراعظم سمجھنے لگا اور صدر ضیاءالحق سے الجھ گیا۔ سب وزرائے اعظموں کا انجام برا ہوا کیونکہ ان سب میں ایک ہی برائی تھی، یہ خود کو صدر سے بڑا سمجھنے لگے تھے۔

مسٹر علوی!

میں اپنے بیٹے کیپٹن گوہر ایوب خان کو کہوں گا کہ تم سے ملے، مجھے علم ہے کہ میرا قابل پوتا عمر ایوب تمہیں ملتا رہتا ہے۔ ضیاءالحق کا بیٹا اعجاز الحق بھی تم سے مل کر صدارتی نظام کے فوائد پر بات کرے گا۔ ہم نے صدر مشرف کو بھی پیغام بھیجا ہے کہ وہ اپنے کسی دوست کے ذریعے تم سے رابطہ کرے اور تمہیں صدارتی کلب کا مستقل ممبر بننے کی دعوت دے۔ سچ تو یہ ہے کہ پارلیمانی نظام چل نہیں پارہا۔ جمہوریت کی ہمارے جیسے ملک میں ضرورت نہیں، ابھی ترقی اہم ہے اور وہ صرف ڈنڈے سے ہو سکتی ہے۔ اس ملک کے عوام کی اکثریت جاہل اور ناخواندہ ہے، اس لئے عوام کے ہاتھوں میں اختیار دینا اور وزیراعظم کو مضبوط بنانا سراسر نقصان دہ ہے۔ اس ملک میں صوبوں کی بھی ضرورت نہیں۔ یہاں ابھی نہ سیاسی آزادیوں کی ضرورت ہے اور نہ صحافتی آزادی کی۔ ملک کے اندر مکمل سنسر شپ ہونا چاہئے، ٹی وی چینلز اور تمام اخبارات قومی ملکیت میں لے لئے جائیں، میں نے اپنے دور میں مشرق، امروز اور پاکستان Pakistan ٹائمز کو قومی ملکیت میں لے کر آزادی صحافت کا گلا گھونٹ دیا تھا، اسی لئے میرے زمانے میں کوئی چوں تک نہیں کرسکتا تھا۔ ضیاءالحق نے سنسر شپ نافذ کی اور بڑی کامیابی سے ملک کو چلایا، آئین چند صفحوں کی کتاب ہے اسے مقدس نہ سمجھو، ملک مقدس ہے، آئین کو چھوڑو۔ صدارتی نظام کے حق میں باہر نکلو اور صدارتی نظام کے پہلے صدر بنو۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔

مخلص

جنرل (ر) ایوب خان

 342