عزم و ہمت کی داستان

کل اور آج - عمار چوہدری

19 اپریل 2019

 azam o hemat ki dastan

اگر ہم سمجھتے ہیں ہماری زندگی کٹھن ہے تو اس کہانی کے بعد ہمیں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔اس شخص کی ٹانگیں نہیں ہیں‘ لیکن وہ ٹانگوں والوں کو چلنا سکھاتا ہے‘اس شخص کے بازو بھی نہیں ہیں لیکن وہ بازوئوں والوں کو تھامنا سکھاتا ہے۔ اپنی تمام تر معذوری کے باوجود اس نے وہ کر دکھایا جو بہت سارے تندرست بھی نہیں کر سکتے۔ خودانحصاری کی عمدہ ترین مثال‘ یہ شخص ایسے لوگوں کو جینے کے طریقے سکھاتا ہے جو اپنی تمام تر جسمانی صحت اور ذہنی صلاحیتوں کے باوجود معاشرے میں دوسروں کے محتاج بنے رہتے ہیں۔ اس شخص کا نام ووئے چچ ہے۔ یہ پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں اور بازوئوں سے معذور ہے اور آج کل کیلیفورنیا میں مقیم ہے۔ پیشے کے لحاظ سے یہ اس وقت موٹیویشنل سپیکر ہے اور ایک غیر منافع بخش تنظیم ''بغیر اعضا کے زندگی‘‘ کا سربراہ ہے۔ یہ تنظیم پیدائشی یا حادثاتی طور پر معذور ہونے والے افراد کو زندگی میں واپس لانے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ یہ انہیں جینے کا گُر سکھاتی ہے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے میںمددگار ثابت ہوتی ہے۔

چچ4دسمبر1982ء کو آسٹریلیا کے شہر بریسبین میں قیام پذیر ایک سرب خاندان میں پیدا ہوا۔ وہ اپنے والدین کی پہلی اولاد تھا اور ٹیٹراامیلیا نامی ایک منفرد بیماری ‘جس کی سائنس کوئی توجیح پیش نہیں کر سکی‘ کا شکار اور ٹانگوں اور بازوئوں سے محروم پیدا ہوا۔ کسی قسم کی پیشگی معلومات نہ ہونے کی بنا پر نوزائیدہ بچے کی معذوری دیکھ کر والدین کو انتہائی صدمہ ہوا۔ چچ کے صرف بائیں دھڑ کے نیچے ایک چھوٹا سا دو انگلیوں والا پائوں لگا ہوا ہے۔حیران کن امر یہ تھا کہ پیدائش کے وقت معذوری کے باوجود صحت مند تھا۔ اس کے والدین کے ہاں اس کے بعد بھی دو بچے پیدا ہوئے لیکن ان میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں تھا۔ چچ کا بچپن بہت پریشان کن گزرا۔ مین سٹریم سکولوں میں قانونی طور پر منع ہونے کے باوجود اسے داخلہ تو مل گیا‘ مگر اپنے ساتھی طالب علموں کی طرف سے تضحیک کا نشانہ بننے سے اسے کوئی نہ بچا سکا۔ سات سال کی عمر میں اسے مصنوعی اعضا لگانے کی کوشش کی گئی۔ ان اعضا کے ساتھ بھی وہ اپنے آپ کو دوسروں جیسا نہ پا سکتا۔ یہ کوششیں اس کے لئے خوشیوں کا باعث بننے کی بجائے مزید غم اور دکھ کا باعث بنیں۔ جب وہ اچھل اچھل کر چلتا تو بچے اس کا مذاق اڑاتے۔ دل شکنی اور نفسیاتی دبائو کے احساس کی وجہ سے محض آٹھ سال کی عمر میں اس نے پہلی بار خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ عمر کے دسویں سال ایک بار پھر اس نے ڈوب کر مرنے کا ارادہ کیا۔ پانی میں اتر جانے کے باوجود اپنے والدین کی محبت کا سوچ کر اس نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا۔ چچ ہمیشہ اپنے آپ سے سوال کرتا تھا کہ وہ دوسرے بچوں سے مختلف کیوں ہے؟ اس کی تخلیق کا آخر مقصد کیا ہے؟ وہ اپنے بازوئوں اور ٹانگوں کے اُگنے کی دعائیں مانگنے لگا لیکن بالآخر جب اسے یقین ہو گیا کہ یہ دعائیں قبول نہیں ہو سکتیں تو اس نے زندگی کو اسی حالت میں قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے ایک فیصلہ اور کیا۔ یہ اس کی زندگی کا اہم ترین موڑ تھا۔ ایسے مراحل ہم سب کی زندگی میں آتے ہیں جب ہم کسی سانحے یا مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں‘ یہ میک یا بریک کا وقت ہوتا ہے۔ انسان ایسے لمحات میں مکمل طور پر تباہی کی جانب بھی گامزن ہو سکتا ہے اور کامیابی اور کامرانی کا سفر بھی اختیار کر سکتا ہے۔وہ اگر مایوسی کی دلدل میں اتر جائے تو پھر اس کی رہی سہی زندگی بھی غرق ہو جاتی ہے اور وہ مکمل طور پر ایک ناکام انسان ثابت ہوتا ہے اور اگر اپنے دکھ اور اپنی مشکلات کو وہ چیلنج کے طور پر قبول کر لے تو اسی چیلنج کے ذریعے وہ زندگی کی طوفانی موجوں اور تندوتیز ہوائوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندر کا سینہ چیر سکتا ہے اور کنارے تک پہنچ جاتا ہے۔ چچ بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن اس کا جسم اس کا ساتھ دینے کو تیار نہ تھا۔ تاہم اس نے اپنے اسی جسم کو اپنی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا اس کے پاس دیگر انسانوں کے مقابلے میں اعضا کم ضرور ہیں لیکن اس کے پاس جو دماغ موجود ہے وہ کسی سے کم نہیں ہے اور یہ دماغ ہی ہے جسے استعمال کر کے وہ جسمانی صحت مند افراد سے بھی زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ بڑھتی عمر کے ساتھ چچ اپنی معذوری کے ساتھ نباہ کرتے ہوئے جینے کے ڈھنگ سیکھنے لگا‘ حتیٰ کہ اس نے جان لیا کہ روز مرہ کے کئی کاموں کے لئے تو بازوئوں اور ٹانگوں کا ہونا ضروری بھی نہیں ہے۔ آہستہ آہستہ چچ نے دانت صاف کرنا‘ اپنے بالوں کو برش کرنا‘ کمپیوٹر چلانا‘ ٹائپ کرنا‘ اپنی شیو کرنا‘ ٹینس گیند کو پھینکنا‘ پانی کا گلاس لینا‘ ٹیلی فون کا جواب دینا حتیٰ کہ تیاری ‘ کچھ کھیل اور ورزشیں بھی سیکھ لیں۔ ایک روز وہ اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا کہ اس کے پاس اس کا ایک دوست آیا۔ اس نے دوست سے پوچھا کہ کیا وہ چائے پئے گا۔ دوست حیران ہو کربولا کہ چائے تو مجھے بنانی نہیں آتی جبکہ میرے اعضا بھی سلامت ہیں اور اگر بنانی بھی آتی ہو تو میں یہ کام خود نہیں کرتا بلکہ مجھے یہ چیزیں تیار مل جاتی ہیں تو تم یہ سب کیسے کرو گے ۔ چچ مسکرایا اور بولا: انسان کوئی بھی کام کرتا ہے تو سب سے پہلے اسے دماغ سے سگنل ملتا ہے۔ دماغ اگر یہ سگنل دے کہ یہ کام تم نہیں کر سکتے تو انسان یونہی بے کار پڑا رہتا ہے۔ وہ بہت کچھ کر سکنے کے باوجود میدان عمل میں قدم نہیں رکھتا ‘جبکہ یہی دماغ اگر انسان کو حرکت میں رہنے کا سگنل دے تو انسان بغیر اعضا کے بھی مشکل سے مشکل کام سرانجام دے سکتا ہے۔ چچ نے اپنے دوست کے لئے چائے بھی بنائی اور سینڈوچ بھی۔ یہ چچ کی زندگی کا بہترین دن تھا۔

ساتویں جماعت میںاسے اپنی سکول کی ٹیم کا کپتان منتخب کر لیا گیا۔سٹوڈنٹس کونسل کی معاونت کرتے ہوئے چچ نے مستحق اور معذور طلبہ کے لئے فنڈز جمع کئے۔سترہ سال کا تھا تو تقاریب میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اس وقت تک وہ کئی خواب دیکھ چکا تھا۔ اب تعبیر پانے کا وقت تھا۔ انیس سال کی عمر میں اس نے اپنی خوابوں کو عملی تعبیر دینا شروع کی۔ اس کے خواب ان لوگوں کے لئے تھے جو اس کی طرح کسی جسمانی مشکل میں گرفتار تھے اور زندگی کے میدان میں ہار مان کر بیٹھے تھے۔ اس نے ایسے لوگوں کو پیغام دیا کہ وہ امید کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ اس کے ان لیکچرز کے باعث ایسے لوگ بھی متحرک ہو گئے جو بالکل صحیح سلامت تھے لیکن کام چوری اور ہڈ حرامی کے باعث تنکا تک توڑنے کو تیار نہ تھے۔ اس نے ایسے لوگوں میں غیرت اور حمیت پیدا کی۔ وہ دنیا کے کئی ممالک میں گیا اور لوگوں کو اپنی زندگی کی کہانی بتائی۔ وہ یہاں نہیں رکا بلکہ اکیس برس کی عمر میں اس نے اپنی گریجوایشن اکائونٹنگ اور پلاننگ میں مکمل کی۔2005ء میں چچ کو ینگ آسٹریلین آف دی ایئر کے اعزاز کے لئے نامزد کیا گیا۔ 2010ء تک چچ دنیا کے پانچ براعظموں کے 22ممالک میں گھوم کر 30لاکھ سے زیادہ لوگوں سے خطاب کر چکا تھا۔ اس کے سامعین میں طلبہ سے لیکر اعلیٰ حکام‘ کاروباری شخصیات اور ادارہ جاتی سربراہ شامل ہوتے تھے۔ وہ جہاں جاتا‘ اخبارات اور ٹی وی چینلز اس کے انٹرویو لینے کے لئے قطار میں لگ جاتے۔ اس کے حالاتِ زندگی پر خصوصی فیچر لکھے جانے لگے اور اسے دل شکستہ لوگوں کے لئے امید کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ وہ کئی بین الاقوامی شہرت یافتہ کتابوں کا مصنف بنا اور کئی فلموں میں کام کر کے ایوارڈ بھی جیت چکا ہے۔

آپ چچ کی کہانی دیکھیں اور پاکستان Pakistan کے ان تیرہ کروڑ نوجوانوں پر نظر ڈالیں جن کی اکثریت گلے شکوئوں اور وسائل کی عدم دستیابی کا گلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو یونہی ضائع کر رہی ہے۔ درحقیقت سب سے زیادہ مشکل زندگی اس شخص کی ہے جس کا دماغ اس کے قابو میں نہیںہے۔ اگر کوئی شخص ذہنی مریض نہیں ہے تو پھر اسے قدرت سے گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے‘ پھر اس کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے‘ کیونکہ اگر انسان کا دماغ کام کرتا ہے‘ اگر وہ اچھے برے کی تمیز کر لیتا ہے تو پھر وہ دنیا کا ہر کام کر سکتا ہے‘ وہ ہر کامیابی سمیٹ سکتا ہے!

 143