شریفوں کی شرافتیں!

اعمال نامہ - ارشاد بھٹی

18 اپریل 2019

shareefon ki sharftee !

پانامہ لیکس ہوئیں، نواز خاندان کا نام آیا، سلمان شہباز کا معروف صحافیوں کو موبائل پیغام آ گیا’’خدا کا شکر، ہم محفوظ، ہمارے خاندان کا نام نہیں آیا‘‘ 3سال بعد آج شہباز خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ Money laundering ، پتا چلے، حسن، حسین سیر تو حمزہ، سلمان سوا سیر، اہل خانہ کو بھی نہ بخشا، گھر کی خواتین، جعلی نام، فرضی شناختی کارڈ، مشکوک سرمایہ کاری، بات کریں، کہا جائے خوفِ خدا کرو، خواتین کو تو بخش دو، پہلی بات، یہ تو آپ کو سوچنا چاہئے تھا، دوسری بات، بینک ریکارڈ بتا رہا شہباز شریف Shehbaz Sharif کی پہلی اہلیہ نصرت شہباز کے اکاؤنٹ سے پیسے جائیں شہباز شریف Shehbaz Sharif کی تیسری اہلیہ تہمینہ درانی کو، ان پیسوں سے وہ 3فلیٹس خریدیں، وہی تہمینہ درانی جو بڑے فخر سے بتائیں، میں تو عبدالستار ایدھی کی مرید، میرے پاس تو 10مرلہ گھر کے علاوہ کچھ نہیں، آگے سنئے، نصرت شہباز کے پاس پیسے کہاں سے آئے، بینک ریکارڈ ہی بتائے، 21اپریل 2010ء کو الزرونی ایکسچینج کے ذریعے محمد انجم 20ہزار ڈالر سرمایہ کاری کی مد میں نصرت شہباز کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے، حالانکہ بتایا تو یہ جائے کہ نصرت شہباز گھریلو خاتون، یہ الزرونی وہی کمپنی جس کا زرداری جعلی اکاؤنٹس کمپنیوں میں بھی نام، برلاس جنرل ٹریڈنگ کے بعد دوسری کمپنی جس کا زرداری صاحب، ہاؤس آف شریفس دونوں طرف نام آ چکا، آگے سنئے، پھر وہ غریب پھیری والا محبوب علی، جسے اب حمزہ، سلمان پہچان ہی نہیں رہے، اس نے بھی 14دسمبر 2007کو 1لاکھ 27ہزار ڈالر سرمایہ کاری کیلئے نصرت شہباز کے اکاؤنٹ میں بھیجے۔

تیسری بات،شریفس یہ کیوں بھول جائیں، بے نظیر بھٹو بھی بیٹی، ماں، کردار کشی چھوڑیں، آپ کی حکومت میں سیف الرحمان، جسٹس قیوم کی برکتوں سے وہ بچوں سمیت تھانے، کچہریوں میں رُلتی رہیں، جمائما خان بھی بیٹی، ماں، نایاب ٹائلز کا مقدمہ آپ نے بنوایا، سال بھر پاکستان Pakistan نہ آ سکیں، عائشہ احد بھی بیٹی، ماں، کیا کیا نہ کیا حمزہ شہباز نے، ماڈل ٹاؤن میں آپ کی حکومت میں بیٹیوں، ماؤں کے منہ میں گولیاں ماری گئیں، ان کی نقلی تعزیت کیلئے بھی آپ نہ گئے، دو جعلی بول ہمدردی کے بھی نہیں، قصور کی زینب بھی معصوم بیٹی، اس کے لئے نکلے لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں، معذرت نہ پشیمانی، 11کروڑ کے پنجاب میں ہزاروں دکھی بیٹیاں، مائیں تھانے، کچہریوں میں رُلتی، فریادیں کرتی رہیں، آج اپنی بیٹیوں، ماؤں پر تڑپ رہے، تب ٹس سے مس کیوں نہ ہوئے۔

یہ بھی سنتے جائیے، نواز شریف Nawaz Sharif سے مریم تک، شہباز شریف Shehbaz Sharif سے سلمان تک، آئے روز یہ کہیں، ہمارا تو ہر دور میں احتساب ہوا، کوئی پوچھے کس دور میں ہوا اصل احتساب، بھٹو دور میں چند فیکٹریاں ہاتھ سے نکلیں مگر یہ بھی تو بتا دیا کریں ضیاء دور میں اس احتساب کی کیسے سود سمیت وصولی کی، پی پی دور میں اتفاق فاؤنڈری کا اسکریپ بھرا ’جوناتھن‘ جہاز 3ماہ بندرگاہ پر روکنے پر جتنا شور مچایا گیا، اتنی ہی خاموشی سے اسی دور میں اتفاق فاؤنڈری نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی، پرویز مشرف دور، جس میں کہا لٹ گئے، اجڑ گئے، آمر نے کہیں کا نہ چھوڑا، ابھی شہباز خاندان کے منی لانڈرنگ Money laundering کیس میں اس دور کے بارے میں جو تفصیلات، ایک ٹریلر دیکھ لیں، جب شریف خاندان ڈیل کے بعد سعودیہ میں سرور محل کے سرور میں کھویا ہوا تھا، تب پاکستان Pakistan میں حمزہ کا یوں احتساب ہو رہا تھا کہ کاروبار پہ کاروبار، کمپنیوں پہ کمپنیاں، جی ہاں،مشرف دور میں یکم فروری 2005کو یورپین ٹریڈنگ کارپوریشن بن گئی، 12مئی 2005کو مدینہ ٹریڈنگ، 29جون 2005کو شریف فیڈ ملز پرائیویٹ لمیٹڈ بنی، 17اپریل 2006مدینہ کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ، 10اپریل 2007کو شریف پولٹری فارمز، 7اکتوبر 2006یونیٹا پاور لمیٹڈ بنالی، لیکن اُتوں اُتوں ہائے ساڈا ککھ نہ رہیا، اندازہ کریں بھٹو، بی بی، پرویز مشرف کے ایسے لذیذ احتساب کہ آج بھی 35چالیس فیکٹریاں، پاور ہاؤسز پاکستان Pakistan میں، 5براعظموں میں جائیدادیں، دودھ، مرغی، انڈے، آٹے، تیل، گھی، ٹنڈے، بھنڈی سمیت بھانت بھانت کے کاروبار اس کے علاوہ۔

مگر یہ سچ بولیں، ناممکن بلکہ مجھے تو لگ رہا، پانامہ لیکس تاریخ دہرائی جا رہی، وہی جھوٹ، وہی غلط بیانیاں، وہی چالبازیاں، تب حسن، حسین، مریم سے سنتے، ہم پبلک آفس ہولڈر ہی نہیں، کیسی پبلک منی، کیسی لانڈرنگ، کیسی کرپشن، آج حمزہ، سلمان کہہ رہے، یہ کہانی تب کی، جب ہم پبلک آفس ہولڈر ہی نہیں تھے، تب نواز خاندان کہہ رہا تھا، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر ہم سے پوچھے، نیب کو کیا تکلیف، اب شہباز خاندان کہہ رہا اسٹیٹ بینک، ایف بی آر پوچھے نیب کیوں پوچھ رہا، سب کو نیب آرڈیننس 1999کا سیکشن 9-Aکا 5پبلک آفس ہولڈر پڑھانا چاہئے، جس میں پبلک آفس ہولڈر کے dependent، بے نامی جائیداد اور ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثوں سمیت سب کچھ واضح، کچھ کسر رہ جائے تو اینٹی منی لانڈرنگ Money laundering ایکٹ 2010کا سیکشن 3پڑھ لیں، ٹھنڈ پڑ جائے گی۔

حمزہ کی سنتے جائیے، درجنوں پریس کانفرنسز، بیسیوں دھمکیوں بھرے بیانات، مگر 5ماہ، 5پیشیاں، اس ایک سوال کا جواب بھی نہیں کہ ’’2005سے 2017کے دوران اثاثوں میں اضافہ کیسے ہوا، 18کروڑ کہاں سے آئے، کچھ پتا نہیں‘‘، ایک بار تو چونک کر نیب ٹیم سے پوچھا ’’یہ پیسے میرے اکاؤنٹ میں آئے‘‘، میری بیمار والدہ کو بھی نوٹس بھیج دیا گیا، یہ واویلا کرتے حمزہ کو تحریری طور پر کہا گیا کہ آپ اگلی پیشی پر والدہ نصرت شہباز کے حوالے سے ریکارڈ لیکر آئیں، ریکارڈ کیا لانا، نیب ٹیم نے والدہ کے بار ے میں سوال کئے، بولے ’’والدہ سے متعلق جو پوچھنا، وہ والدہ سے ہی پوچھیں‘‘ یہ بھی سنتے جائیے، سلمان شہباز فرما رہے تھے ’’میں کسی محبوب علی، منظور احمد، مشتاق محمد المعروف مشتاق چینی کو نہیں جانتا‘‘ حالانکہ محبوب علی وہ غریب پھیری والا جو نصرت شہباز، حمزہ شہباز کے ساتھ 3اپریل 2008کو سلمان کے اکاؤنٹ میں بھی سوا لاکھ ڈالر جمع کرا چکا جبکہ پاپڑ فروش منظور احمد نے تو 29جولائی 2008کو سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ 86ہزار ڈالر سمیت کئی بار رقمیں جمع کرائیں، جہاں تک مشتاق محمد المعروف مشتاق چینی کی بات، وہ تو نیب کو یہاں تک بتا چکا ’’میر ی جانب سے سلمان شہباز کو بطور قرضہ دی گئی رقم بھی دراصل سلمان شہباز کی ہی تھی، رقم بذریعہ ٹی ٹی میرے اکاؤنٹ میں آئی، میں نے اسی طرح سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں واپس بھیج دی‘‘۔

دو دن پہلے منگل کو نیب نہ صرف شہباز خاندان کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں 20صفحاتی رپورٹ کے ساتھ انہی ثبوتوں کا ایک پلندہ جمع کرا چکا بلکہ 32سوالوں پر مشتمل ایک سوالنامہ نصرت شہباز، دونوں بیٹیوں رابعہ عمران، جویریہ علی اور سلمان شہباز کی اہلیہ کو بھجوا چکا، ثبوت بتا رہے، ان خواتین کے اکاؤنٹس میں بھی مشکوک رقوم آئیں، گئیں، یہ سب کمپنیوں کی شیئرز ہولڈرز بھی لیکن شریفوں نے خواتین کے نام پر یہ سب ابھی نہیں کیا، حدیبیہ پیپر مل میں ہاؤس آف شریفس، قریبی رشتہ دار وہ 20خواتین، جن کے نام پر کی گئی منی لانڈرنگ Money laundering کو اسحاق ڈار نے خود مانا، دل تو بہت چاہا کہ ان خواتین کے نام لکھوں مگر ماؤں بہنوں کا احترام آڑے آگیا، پھر بھی اگر کوئی عبرت یا اصلیت کیلئے کچھ جاننا چاہے تو حدیبیہ پیپر مل فائل پڑھ لے یا دو دن پہلے نیب کا لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرایا ثبوتوں کا پلندہ دیکھ لے، شریفوں کی ’شرافتیں‘ آنکھیں کھول دیں۔

 219