شادی خانہ فسادی

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

17 اپریل 2019

shadi khanah fasadi

دور حاضر میں اس موضوع سے زیادہ شاید ہی کوئی ٹاپک اہم ہو۔۔اس بات میں کسی شک وشبے کی گنجایش نہیں رہ گئی کہ شادی اب آسان کام نہیں رہ گئی۔خرچہ ہوتا اور وہ بھی ٹکا کے ہوتا ۔۔اپنے اپنے شہروں میں جدید طرز کے میرج ہالز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شادیاں اب فریضہ کم اور شو آف کرنے کا نمونہ زیادہ بن چکی ہیں۔

۔اوچھے اور احمق پن کا مظاہرہ اس حد تک کیا جاے گا کہ ملتان کی ایک شادی میں پنجرے میں ایک شیر ڈال کر بارات میں شامل کیا گیا تھا ۔۔اب دو باتیں سمجھ آتیں ہیں کہ شیر کو ڈسپلے پر لگایا کیوں ؟؟ یا تو شیر شہ بالا تھا ۔۔یا ملتانیوں نے شیر نا دیکھا تھا کبھی۔اس لیے شادی کو سرکس میں تبدیل کیا گیا ۔

۔ایک شادی میں دیکھا کہ پیسے کی برسات کی گئی سڑک پر پیسہ ہی پیسہ تھا ۔موبایل فون بانٹے گئے۔میرے دل میں شدید خواہش ہوئی کہ یہ شادی نیب کی نظر میں آجاے ان کی لتریشن کے بعد فالتو پیسہ لے کر واپس بھیج دیا جاے۔

۔بے جا نمود و نمایش اور نمایاں ہونے کی خواہش میں آج کل تو ٹرینڈ بن چکا ہے کہ عجیب وغریب طریقے سے سلیبریشن کی جاے تاکہ ہم ہائی لائٹ ہو کر میڈیا کی نظر میں آجائیں ۔۔جیسا کہ ایک شادی میں دیکھا شاید کرینز یا لفٹر کی مدد سے دلہا دلہن ہواوں میں اڑتے ہوے آے اور اسٹیج پر لینڈ کیا۔۔بے غیرتی نہیں تو کیا ہے؟؟اب اس شادی میں موجود جن میریڈ عورتوں نے وہ جھولا دیکھا ہوگا ۔۔میں شرطیہ کہتی ہوں شام کو شوہروں کو طعنے مارے ہونگیں کہ

"دیکھ لو ببلو کے پپا محبت تو وہ کرتا ہے اڑا کر سٹیج پر لےگیا۔۔تم کو محبت ہوتی تو ایسا ہی کرتے"

اور ببلو کا پپا ٹھنڈا سانس بھر کر اس بندے کو کوسے گا جس نے یہ جھولا ایجاد کیا ہوگا۔۔

ایک شادی میں دیکھا ہیوی بائکس اور برانڈڈ گاڑیوں پر بارات آئی تھی۔۔سب کرایے کی تھیں کیا مل گیا اس نوٹنکی سے؟؟کرایے کی چیز سے عزت میں اضافہ آخر فائدہ کیا دیتا ہے ؟؟

ایک واقعہ یاد آیا ہمارے رشتے داروں میں شادی تھی۔۔دلہے کا بیان سنا کہ میں بگھی پر سوار ہو کر بارات لے کر جاونگا ۔اور بگھی پہلے شہر کا راونڈ لگاے گی پھر آگے جائینگیں۔۔ابو نے سنا تو مسکرا دیے ۔۔اور بولے

" اس طرح کرنے سے کیا یہ گورنر لگ جاے گا؟"

سلیبریٹیز کی شادیوں کو فالو کرنے کے چکروں میں اپنا کباڑہ نکلوا لیتے ہیں۔۔اور ادھر شادی ختم ہوتی ہے ادھر قرضہ شروع۔۔ہمارے ہمسایوں میں پچھلے دنوں ایسی ہی ایک شادی تھی۔۔کیٹرنگ اور لائیٹنگ کا سامان کراچی سے منگایا گیا ۔۔دو ٹرک سامان کے بھرے ہوے تین دن گلی میں ٹھہراے گئے کہ سارا علاقہ دیکھ لے۔۔ایک بندے کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ ہر آتے جاتے بندے کو پکڑ کر بتانا یہ سامان کراچی سے آیا ہے ۔اور وہ ایسا ہی کر رہا تھا ۔

اب تجسس ہونا فطری بات تھی کہ ایسا کیا انتظام جو بہاولپوریوں سے نا ہو سکتا تھا۔۔اور میں نے جب دیکھا تو ویسا ہی انتظام تھا جیسا یہاں کے ویڈنگ پلینرز کرتے ہیں کوئی خصوصی شے ایسی نا تھی جو یہاں سے انوکھی ہوتی ہاں البتہ سامان کے ساتھ آیے دو بنگالی بندے ضرور یونیک تھے جو بہاولپور میں نا تھے ۔۔

بس اوچھا پن کہ پیسہ کیسے شو کیا جاے۔۔

مردانے کے الگ سے جو فنکشن ہوتے ہیں اس کے کیا ہی کہنے ۔۔ڈانسرز سنگرز کو بلا کر یہ لوگ لاکھوں روپے ایک ہی رات میں خرچ کر دیتے ہیں ۔میرا حکومت کے لیے ایک مخلصانہ مشورہ ہوگا کہ ان پروگرامز میں چند جاسوس چھوڑ دیے جائیں ۔۔جو جتنا پیسہ اڑایں ان کا بایو ڈیٹا جمع کرلیں ۔۔کل کو نیب کے کام آے گا۔

۔بلکہ جن موٹی پارٹیوں اور سیاستدانوں سے پیسہ نکلوانا اوکھا ہو رہا ہے ۔ان کے لیے ایسے ہی فنکشنز کا انتظام کر دیا کریں۔۔آپ کو ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس مل جاے گا ۔ان کو انٹرٹینمنٹ مل جاے گی۔۔واویلا بھی نہیں کریں گے خوشی سے دے گیں۔۔

خیر ۔۔ہمارا موضوع تھا شادیوں پر کی گئی فضول خرچیوں کا سد باب ہونا چاہیے۔۔بے شک اپنا پیسہ لٹاتے ہیں ۔ہمارے پلے سے نہیں جا رہا۔لیکن ایک غلط روایت تو ڈال رہے ہوتے ہیں۔۔معاشرے میں فساد تو ڈال دیا بے تکی سلیبریشن سے۔۔اب کوئی احمق اٹھے گا آپ سے بڑھ کر بے وقوفی کرے گا۔۔کچھ تو اپنے مذہب کی تعلیمات سے سیکھیں۔۔ایسا کیوں نہیں کرتے ۔۔کہ اپنی شادیوں پر صدقہ خیرات کرو۔۔کسی مدرسے یا یتیم خانے میں کھانا بنٹواو۔۔لیکن اچھائی اور خیر پھیلاتے موت لاحق ہوتی ہے۔۔ایسے لوگ دس فی صد بھی نا ہونگیں جو اس طرح کی خرافات سے بچے ہوے ہیں۔۔۔

۔مہندی بارات ولیمہ پر کپڑے جیولری سے لے کر کھانے تک اور فوٹو گرافی سے لے کر سجاوٹ تک۔۔ایک دلہن کو گھر بدلوانے میں دونوں پارٹیاں بے تحاشہ پیسہ خرچ کرتی ہیں۔۔۔کوئی انسانوں والے کام کرلو معاشرے کو مشکل شکل نا دو ۔

 168