تجھ کو پرائی کیا پڑی!

زیر بحث - عارف نظامی

15 اپریل 2019

tujh ko parai kya pari !

بھارت India میںعام انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ نریندرمودی نے پہلے روز ہی بہار میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈینگ ماری کہ لوک سبھا کے انتخابی نتائج (تقریباًجو ایک ماہ بعد آئیں گے) سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کا اتحاد ختم ہو جائے گا۔ مودی کا کہنا تھا کہ شکست کے خوف سے اپوزیشن جھوٹے الزامات لگا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مودی اقتدار میں واپس آئے گا تو کرپشن،موروثی سیاست اور غریب کے نام پر لوٹ مار ختم ہو جائے گی اور مذہب اورذات پات کی بنیاد پر مزید سیاست نہیں کی جا سکے گی ۔ جی ہا ں! یہ تمام نعرے اوردعوے قر یباًوہی ہیں جو عمران خان Imran Khan کی قیادت میں تحریک انصاف اپنی الیکشن مہم اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی کرتی آ رہی ہے۔ الیکشن تجزیوں کے مطابق اگرچہ امکان غالب ہے کہ اپوزیشن پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی لیکن جیت پھر بھی مودی کی ہو گی۔ اس پس منظر میں وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کا یہ بیان کہ بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کی عام انتخابات میں فتح سے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان قیام امن اور مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل لیے بامقصد بات چیت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ نہ جانے عمران خان Imran Khan کو ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں ایسی مداخلت کرنے کا کیا شوق ہے جس سے پاکستان Pakistan کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ حال ہی میں عمران خان Imran Khan نے افغانستان Afghanistan کے معاملات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہاں ایک عبوری حکومت کی نگرانی میں عام انتخابات کرانے چاہئیں۔ فطری طور پر افغان صدر اور حکومت کے علاوہ اشرف غنی کے مخالفین نے بھی متذکرہ بیان کو افغانستان Afghanistan کے اندرونی معاملات میں مداخلت قراردیتے ہوئے پسند نہیں کیا۔ افغان حکومت نے تو اپنے سفیر مشال عاطف کو واپس بلا کر انتہائی اقدام بھی کر ڈالاتھا۔ عذر گناہ ازبد تر گناہ، ہماری وزارت خارجہ نے یہ وضاحت کی وزیر اعظم Prime Minister نے انتخابات کے پاکستانی ماڈل کی جانب اشارہ کیا تھا جس میں الیکشن کا انعقاد عبوری حکومت کی زیر نگرانی ہوتا ہے اور اس بیان کو افغانستان Afghanistan کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور نہیں کیا جانا چاہیے تھا،پاکستان Pakistan کا افغانستان Afghanistan میں اس کے علاوہ اور کوئی مفاد نہیں کہ امن کو ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے فروغ دیا جائے جس کے مالک اور سربراہ افغان ہوں۔ افغانستان Afghanistan میں طالبان سمیت پاکستان Pakistan کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ پاکستان Pakistan اس کے ساتھ back yard یعنی اپنے پچھواڑے کی طرح سلوک کرتا ہے کہ کابل میں جو بھی حکومت کانظام آئے اس کی مرضی کا ہونا چاہیے۔بالکل اسی طرح جیسے جب بھارتی Indian ہارڈلائنراور میڈیا کہتے ہیں کہ ہم ایک سپر طاقت ہیں اور پاکستان Pakistan میں تو جمہوریت کا وجود ہی نہیں بلکہ یہاں فوج کا راج ہے تو ہمیں بطور خوددار اورآ زادملک کے بہت برالگتا ہے۔ اب جبکہ بھارت India کے عام انتخابات میں کانگریس اور بھارتی Indian ہ جنتاپارٹی کے مابین گھمسان کارن پڑا ہوا ہے،ہمیںاس پرائی لڑائی میں ٹانگ اڑانے کی کیا ضرورت ہے۔غالباً خان صاحب نظریاتی طور پر خود کو نریندرمودی کے ہم آہنگ سمجھتے ہیں کیونکہ مودی کا بھی دعویٰ ہے وہ بہت سادہ منش ہے اورکرپشن اور موروثی سیاست کے خلاف ہے۔ لگتا ہے عمران خان Imran Khan کا تاریخ کا مطالعہ کمزور ہے۔ یہ تو درست ہے کہ بی جے پی BJP کے پہلے دور میں جب اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم تھے، پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں ہوئیں۔ واجپائی بس یاترا پر لاہور آئے لیکن اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کو یہ پیش رفت ایک آنکھ نہ بھائی، اس وقت خفیہ طور پر کارگل کی مہم جوئی کی تیاری کی شروعات ہو چکی تھیں۔ مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد 2001ء میں آگرہ سمٹ میں جنرل پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان کشمیر سمیت دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب مسائل پر بات چیت ہوئی لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ عمران خان Imran Khan نے غیر ملکی صحافیوں کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں اگرچہ بھارتی Indian مسلمانوں کی حالت زار کا ذکر کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ کانگریس کی حکومت کو پاکستان Pakistan سے کوئی بھی بات چیت کر نے کی صورت میں یہی خطرہ لاحق رہے گا کہ انتہا پسند بھارتی Indian اپو زیشن کا ردعمل منفی ہو گا۔ بات اصولی طو ر پر تو ٹھیک ہے لیکن نریندرمودی نہ تو واجپائی ہے اور نہ ہی ایل کے ایڈوانی بلکہ ایک ایسا شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مودی کی مسلم کش اور پاکستان Pakistan دشمن پالیسیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔یہ بھی انوکھی منطق ہے کہ ایک طرف وزیر خارجہ بارہا اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ آئندہ چند روز میں بھارت India دوبارہ پاکستان Pakistan پر حملہ کر سکتا ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi کیلئے دعا گو ہیں۔ پاکستان Pakistan جب سے ایٹمی طاقت بنا ہے نریندرمودی نے اپنی پیشروحکومتوں کے برعکس پہلی مرتبہ پلوامہ Pulwama واقعہ پاکستان Pakistan کے سرمڑھ کر پاکستان Pakistan کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے بالا کوٹ پر بمباری کرنے کی جرأت کی۔ واضح رہے کہ واجپائی کی حکومت نے کارگل تنازعہ کے باوجود بھارتی Indian فضائیہ کو سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ لائن آف کنٹرول کی بھی خلاف ورزی نہ کریں۔ مقام شکر ہے کہ پاکستانی ائیرفورس نے بڑی مہارت کے ساتھ بھارت India کے دانت کھٹے کر دیئے لیکن دنیا بھر میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا کہ ایک ایٹمی طاقت کا دوسری ایٹمی طاقت پر حملہ پوری انسانیت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی Indian عام انتخابات میں سوشل میڈیا کے ناجائز استعمال سے جعلی، خود ساختہ خبریں بڑی مہارت سے پھیلائی جا رہی ہیں۔بالاکوٹ پر حملے کے موقع پر بھی 2005ء کے زلزلے سے ہونے والی تباہی کی ایک فوٹیج دکھا کر دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی Indian فضائیہ نے دشمن کا کیمپ تباہ کر دیا ہے۔ گویا کہ پی ٹی آئی PTI اور بی جے پی BJP کی حکومت کے درمیان یہ قدر بھی مشترک ہے کہ اخبارات اور ٹیلی ویژن کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی سچ اور جھوٹ کی پروا کیے بغیر خوب پراپیگنڈا کیا جائے۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے، یہ وہی نریندرمودی ہیں جن کے حوالے سے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو پی ٹی آئی PTI سمیت اپو زیشن یہ کہتے نہیں تھکتی تھی کہ ’مودی کا جو یارہے، غدار ہے ‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو مودی کی اپنے دوست سٹیل میگنیٹ سجن جندال کے ساتھ ان کی نواسی کی شادی پر آنے اور بھارتی Indian جاسوس کلبھوشن یادیو kulbhushan yadav کے بارے میں مبینہ طور پر نرم رویہ رکھنے کی پاداش میں سکیورٹی رسک تک قرار دیا جاتا رہا۔ اب عمران خان Imran Khan بھی نواز شریف Nawaz Sharif والی غلطیاں دہرارہے ہیں ریاستوں کے درمیان ذاتی تعلقات نہیں بلکہ قومی مفادات ارفع ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے دور کے مقابلے میں ماحول کافی بدل چکا ہے اور مقتدر قوتیں اور سیاسی حکومتیں بھارت India کے ساتھ سلسلہ جنبانی آگے بڑھانا چاہتی ہیں لیکن اس ضمن میں معروضی حقائق سے روگردانی مہنگی پڑسکتی ہے۔ اسرائیل میں انتہا پسند، مسلمان اور فلسطینی دشمن نیتن یاہو دوبارہ وزیر اعظم Prime Minister منتخب ہو گیا ہے۔ اگر کہا جائے کہ نیتن یاہو ہارڈ لائنر ہے اور وہ فلسطین کا مسئلہ حل کردے گایہ مضحکہ خیز ہو گا کیونکہ نیتن یاہو جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور اور دوٹوک حمایت حاصل ہے ، وہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عندیہ دے چکا ہے اور ایسا ہی کرے گا۔ ماضی میں ایسی مثالیں یقینا ملتی ہیںجہاں ہارڈ لائنر اور کیمونسٹ دشمن امریکی صدر نے چین China اور روس Russia سے بہتر تعلقات کی بنیاد رکھی۔ 1970ء میں امریکی صدر رچرڈنکسن نے اپنے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہینری کسنجر کا پاکستان Pakistan کے ذریعے چین China کا خفیہ دورہ کرایا جس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین China کوامریکہ United States نے تسلیم کر لیا اور ابھی تک یہی پالیسی جاری ہے۔اسی طرح 80کی دہائی میں امر یکی صدر رونلڈ ریگن نے جو سوویت یونین کو Evil Empire کہتے تھے اس کے ساتھ بقائے باہمی کی پالیسی کا آغاز کیا ۔یہ رہنما دور اندیش اور مدبر تھے لیکن مودی اور عمران خان Imran Khan فی الحال یہ دعویٰ نہیں کر سکتے۔لہٰذا بہتر ہو گا کہ بھارتی Indian انتخابات پر سرکاری سطح پر رائے زنی کرنے کے بجائے تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں۔ یقینا پاکستان Pakistan کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہاں کس پارٹی کی حکومت بنتی ہے لیکن جسے بھی بھارتی Indian عوام منتخب کریں گے اس سے پاکستان Pakistan کو مذاکرات تو کرنا ہی پڑیں گے۔

 111