برانڈ نامہ

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

14 اپریل 2019

Brand Nama

زیادہ پیچھے نہیں جاتے آج سے آٹھ دس سال پہلے تک نا تو برانڈز کا نام سنا تھا نا ہی عوام میں اس ٹرینڈ نے زیادہ مقبولیت پائی تھی۔۔لیکن ان آٹھ دس سالوں بعد آج اگر دیکھا جاے۔۔برانڈز کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔۔اوریہ واحد ٹرینڈ ہے جو ہر شہر میں یکساں طریقے سے مقبول ہورہا ہے۔۔

ٹھیک ہے برینڈز اچھی لگتی ہیں جو افورڈ کر سکتے ہیں تو لے لیں ۔۔لیکن مسئلہ ان کو ہوتا ہے جو افورڈ نہیں کرسکتے صرف اپنا سٹیٹس بلند کرنے اور اندھی تقلید کی خاطر ۔۔ اب چاہے قرضہ لیں چاہے تمام جمع پونجی دو چار چیزیں برینڈ کی لے کر بیٹھ جائیں۔۔۔برینڈز کے کپڑے جوتیاں، بیگز ،واچز۔۔وغیرہ وغیرہ لے تو بیٹھیں گے لیکن دوسروں کا جینا حرام کیے رکھیں گے۔۔ایسے احباب یقیناً ہر بندہ رکھتا ہے۔جن کو برانڈ کی بیماری ہوتی ہے۔۔آپ اگر برانڈ پہنتے ہیں تب تو خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔۔اور بدقسمتی سے اگر آپ برانڈ نہیں پہنتے ۔تب آپ کو ہر طریقے سے قائل کرنے کی کوشش کی جاے گی کہ عزت صرف برانڈ پہننے میں ہے۔۔جب بھی ملیں ان کو ہر برانڈ فنگر ٹپس پر یاد ہوگی۔۔جہاں جہاں سیلز لگیں ہونگی یا لگنے والی ہونگیں۔

۔بہرحال مجھے بڑی چڑ ہوتی ہے ایسے لوگوں سے۔۔میرا یہ ماننا ہے کہ مادی اشیاء میں اتنی طاقت ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ آپ کی خوشیاں ان کی محتاج ہوں ۔۔آپ کا سکون برانڈز کے پاس گروی ہو۔۔مہنگے کپڑوں اور جوتیوں پہن لینے سےعزت میں اضافہ قطعا نہیں ہوتا ۔۔کرتوت اور اعمال کسی برانڈ کے پیچھے نہیں چھپتے۔ہمیں جو لوگ پسند نہیں ہیں چاہے وہ دنیا کی مہنگی سے مہنگی برانڈ بھی پہن کر ہمارے سامنے آجائیں تو پتہ ہے کیا ریمارکس ہوتے ہیں؟؟

" بندہ تو کمینہ ہے کپڑے اچھے پہنے ہیں بس"

۔۔یعنی بندے کی تعریف کپڑے پھر بھی نہیں اگلوا سکے ۔اس کے لیے کردار ایسا بنانا ہوگا جس میں کپڑوں کا سرے سے رول نا ہوگا ۔۔مجھے یہ بتاتے ہوے قطعا کوئی عار محسوس نہیں ہورہی کہ مجھے آج تک دو تین کے علاوہ کسی برانڈ کا نام تک نہیں معلوم۔۔ایک بار تو یوں حد بنی کہ کسی دعوت میں ایک برانڈ کانشس خاتون نے میرے کپڑوں کی تعریف کرنے کے بعد پوچھا "وردہ " کا ہے نا؟؟ میں نے نفی میں سر ہلایا ۔۔" نہیں آنٹی میرا اپنا ہے۔میں تو وردہ کو جانتی بھی نہیں"

انہوں نے دوبارہ وضاحت دی ۔۔کہ"زیادہ بنو مت ۔۔وردہ برانڈ کا سوٹ ہے یہ؟؟'

میں مسکرا دی سوٹ اچھا تھا بے شک لیکن اس برانڈ کا پھر بھی نا تھا۔ خیر یہ برانڈ سمجھ رہیں تھیں تو میں کس لیے تردید کرتی لہذا بولی "جی۔۔۔ کیا غضب کی نظر پائی ہے آپ نے بھی "

آنٹی خوشی سے پھولے نا سمائی۔جس بوتیک پر جاو جو مرضی کپڑا اٹھا لو ۔قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہوگی اور سینکڑوں برانڈز کا نام فنگر ٹپس پر دکان داروں کو یاد ہوگا۔۔کئی بار میں تنگ آکر کہونگی

"بھائی خدا کے واسطے مجھے فیصل آباد کی ٹیکسٹائل ملز والا کپڑا ہی دکھا دو۔۔"

لیکن لگتا ہے اب نان برانڈ چیز ملنا ناممکنات میں شامل ہوتا جارہا ہے۔۔۔بچوں کے گارمنٹس لینے جاو وہ تباہی ڈالے بیٹھے ہوتے ہیں کہ سمجھ سے باہر۔۔ہر دوسری شاپ پر ایک ہی ڈرامہ کہ برانڈ ہے۔۔بچے کے لیے سوٹ پسند آیا قیمت پوچھی ۔۔جب شاپ کیپر نے قیمت بتائی میں نے حیران ہوکر اسکو دیکھا

" کیا وجہ اتنی قیمت کس لیے؟؟"

اس نے فورا سوٹ پر لگے ٹیگز دکھائے

"یہ دیکھیں آپی اس کے برانڈڈ ٹیگز پر بھی تھائی لینڈ کا مونوگرام ہے"

میں نے بدمزگی سے اسکو دیکھا " ٹیگز کی وجہ سے اتنا مہنگا ہے تو اتار لو اور اپنے کپڑوں پر لگا دو میرے کس کام کے یہ ٹیگز"

یہ پھر سےان کپڑوں کی.برتری مجھ پر جتانے لگا۔۔تنگ آکر میں نے اس کو ایک ہی قیمت بتائی اور اس نے تھوڑے پس و پیش کے بعد دے دیا ۔۔لیکن سوٹ تب بھی مجھے مہنگا پڑا تھا۔۔اب تو اس کا وطیرہ ہی بن گیا ہے ہر کپڑے کی شان میں قصیدہ پڑھے گااور جب قیمت بتاے گا مجھ سے برداشت نا ہوگا اور ہر بار ایک ہی جواب دونگی " دکان کا بل اور کرایہ سارا مجھ سے مت لو انسان بنو"

حیرانی ہوتی ہے اتنے مہنگے کپڑے۔۔۔۔جتنا بھی خرچہ ایڈ کرلو ایک سوٹ حد سے حد بھی دو چار ہزار سے زیادہ کا نہیں لگ رہا ہوتا ۔۔اور یہاں برانڈ کے سادہ سوٹ آٹھ سے دس ہزار کے تو نارمل رینج میں شمار ہوتے ہیں۔تو صاف بات ہے کپڑا نہیں بک رہا نام بِک رہا ہے۔۔

پرانی بات ہے ایک برانڈ کانشس کزن آیا ہوا تھا ۔اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دکھائی۔۔دیکھیں آپی اندازہ لگائیں کتنے کی ہوگی۔۔؟ میں نے لاپروائی سے اس سے لی الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔بے قراری سے بولا " آرام سے پکڑیں۔۔۔یہ چیزیں نازک ہوتی ہیں " میں نے سوال کیا "اچھا۔۔۔کیسے پکڑوں؟؟ رکو میں ہاتھ ڈیٹول سے دھو کر آتی ہوں۔۔پھر نیچے چٹائی بچھا کر بیٹھتی ہوں پھر دیکھوں گی اس گھڑی کو" یہ جھینپ کر بولا " اب یہ بات بھی نہیں ۔۔چھوڑیں آپ قیمت بتائیں۔۔" میں نے جو اندازہ لگایا اس سے تین گنا زیادہ قیمت تھی۔کزن الگ خفا ہوا کہ ایسی اعلی چیز کی اتنی کم قیمت لگانا توہین تھی اس گھڑی کی۔اور گھڑی کی کمپنی کو پتہ چل جاتا ہتک عزت کا کیس الگ بن جاتا۔

خیر ۔۔برانڈ لینے والوں پر مجھے اعتراض نہیں ۔۔لو بے شک لو ۔۔آپ زیادہ کما رہے ہیں تو حق بنتا ہے دوسرے بھی کھائیں۔۔لیکن مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والوں سے گزارش ہے ۔پہننی ہے پہن لو میں نے روکا کب ۔۔لیکن برانڈ پہن کر دوسروں کا جینا عذاب نا کیا کریں۔ان برانڈز کو سر پر اتنا سر سوار نا کریں۔۔ ان برانڈز سے پہلے بھی لوگ جی رہے تھے ۔۔اب بھی جی رہے ہیں۔۔میں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے ہیں ۔۔ان میں مرد و عورتیں دونوں شامل ہیں۔۔یہ لوگ صرف برانڈز لینے کی خاطر جاب کر رہے ہیں۔۔ کافی عورتیں جی ہاں۔۔۔۔۔یہ عورتیں جاب اسی لیے کر رہی ہیں کہ شوہر برانڈز افورڈ نہیں کرسکتا ۔۔۔اور انہوں نے ہر صورت برانڈ پہننی ہے۔۔خوشی اور دل کا سکون ان دونوں کا تعلق کسی برانڈ سے نہیں۔۔۔محبت کو ہی دیکھ لیں۔۔۔جو بندہ آپ کو سب سے زیادہ پیاراہوگا ۔۔اس نےجو مرضی کپڑا پہنا ہوگا دھیان ہی نہیں جاے گا ۔۔آپ کو ہر صورت پیارا لگے گا۔۔۔

 151