کیا ایک روٹی ملے گی؟

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

14 اپریل 2019

Kiya Ak Roti Mily gi

اگر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما مشتاق غنی نے عوام سے یہ کہا ہے کہ وہ دو کے بجائے ایک روٹی کھانے کے لیے تیار ہو جائیں تو وفاقی وزیر برائے آبی ذخائرفیصل واوڈا نے خوشخبری دی ہے کہ چند ہفتوں کی بات ہے پھر پاکستان Pakistan میں خوشحالی ہی خوشحالی ہو گی، نوکریاں ہی نوکریاں ہوں گی، کاروبار اتنا آسان ہو جائے گا کہ پان والا اور ٹھیلے والے بھی ٹیکس دے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال دیا ہے اور اب اگلے ڈیڑھ دو سال میں معیشت استحکام کے راستے پر گامزن رہے گی۔ جیسے ہر کوئی فیصل واوڈا کی یہ بات سمجھنے میں ناکام ہے کہ چند ہفتوں میں کہاں سے پاکستان Pakistan میں خوشحالی ہی خوشحالی آ جائے گی، اسی طرح بڑے بڑے معیشت دان اسد عمر اور اُن کی پالیسیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اب تو بین الاقوامی معاشی ادارے پاکستان Pakistan کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اُس کے مطابق تو مشتاق غنی کی وارننگ کو سنجیدگی سے لینا چاہئے لیکن سوال یہ ہے کہ جس طرح معاشی حالات خراب ہو رہے ہیں کیا عوام کو ایک روٹی کھانے کو مل جائے گی؟

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے ایک اخباری بیان کے مطابق تحریک انصاف حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے اب تک تقریباً مزید چالیس لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے پہنچ چکے ہیں جبکہ آنے والے حالات مزید بدتر ہوں گے۔ اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر اشفاق نے بھی وارننگ دی ہے کہ پاکستان Pakistan میں بیروزگاری میں بہت اضافہ ہوگا کیونکہ ترقی کی رفتار کو موجودہ حکومت کے پالیسیوں کی وجہ سے بہت کم کر دیا گیا ہے۔ اپنی تازہ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے پاکستان Pakistan کی اقتصادی شرح نمو میں کمی اور بیروزگاری میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آئوٹ لک رپورٹ 2019ء کے مطابق رواں مالی سال میں پاکستان Pakistan کی اقتصادی شرح نمو 2.9فیصد اور آئندہ مالی سال میں 2.8فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بیروزگاری کی شرح 6.1اور آئندہ مالی سال میں 6.2فیصد رہے گی۔ آئی ایم ایف نے وسط مدتی عرصے کے دوران پاکستان Pakistan کی اوسط اقتصادی شرح نمو 2.5فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2024ء میں پاکستان Pakistan کی شرح نمو 2.5فیصد ہو گی۔

آئی ایم ایف کی طرح عالمی بینک (ورلڈ بینک) نے بھی تنبیہ کی ہے کہ پاکستانی معیشت 2سال خراب رہے گی، پیداوار کم، مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ عالمی بینک نے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی علاقائی رپورٹ بعنوان ’’ایکسپورٹ وانٹڈ‘‘ میں کہا ہے کہ مالی سال 2019ء میں پاکستان Pakistan کی اقتصادی ترقی کی شرح 3.4اور مالی سال 2020ء میں 2.7فیصد رہنے کی توقع ہے، ہنگامی اصلاحات نافذ کی جائیں تو 2021ء تک پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان Pakistan کی معاشی ترقی کی شرح خطے میں سب سے کم اور مہنگائی میں اضافہ ہونے کی پیشگوئی کر دی ہے۔ اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ پاکستان Pakistan میں ترقی کی شرح اس سال کم اور اگلے سال مزید کم ہو گی، 2019ء میں شرح نمو خطے کی کم تر 3.9فیصد پر رہے گی جبکہ 2020ء میں 3.6فیصد ہوگی اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

ان تمام بین الاقوامی اداروں اور اقتصادی امور کے ماہرین کی پیش گوئیوں کو دیکھا جائے تو پاکستان Pakistan کے لیے معاشی طور پر بدترین دن آنے والے ہیں۔ عام عوام کے لیے ایک طرف مہنگائی بڑھے گی تو دوسری طرف بیروز گاری اور غربت میں اضافہ ہو گا، یعنی لوگوں کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہوں گی۔ جب بیروزگاری بڑھے گی، غربت میں اضافہ ہو گا تو جرائم بھی بڑھیں گے۔ جن کو ’’چور، ڈاکو‘‘ کہتے ہیں، اُن کے دور میں ترقی کی شرح بہت بہتر اور مہنگائی کم تھی۔ نجانے یہ کیسے ’’اچھے‘‘ اور ’’قابل و ایماندار‘‘ آ گئے ہیں کہ بیروزگاری اور غربت میں اضافہ کر دیا ہے، مہنگائی انتہائوں کو پہنچا دی ہے اور ملک کی معاشی ترقی کی رفتار بھی نہایت سست کر دی ہے۔ لوگوں نے تو امیدیں لگا رکھی تھیں کہ ایک کروڑ نوکریاں ملیں گی، اُن کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی، پاکستان Pakistan معاشی طور پر ترقی کرے گا لیکن جو نظر آ رہا ہے وہ بہت مایوس کن اور تشویش ناک ہے۔ دعا ہے جو فیصل واوڈا نے کہا وہ سچ ثابت ہو لیکن ڈر ہے مشتاق غنی کی بات پوری ہونے جا رہی ہے اورخوف یہ ہے کہ کیا عوام کو ایک روٹی بھی ملے گی یا نہیں۔

 154