آیت الکرسی اور ڈنڈا

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

12 اپریل 2019

aayat al kursi aur danda

پرانی یادوں کا ہماری زندگی میں بڑا اہم رول ہوتا ہے ۔یہ بہت بڑی موڈ چینجر ہوتی ہیں۔۔کچھ یادیں جب بھی دماغ میں اتریں۔۔۔ اداس کردیتی ہیں جبکہ کچھ یادیں بے ساختہ مسکرانے پر مجبور کردیتی ہیں۔۔ایسی ہی ایک یاد صبح ناشتہ بنانے کے دوران میرے دماغ میں اتری اور مجھے بے ساختہ مسکرانے پر مجبور کردیا ۔۔تو سوچا آپ لوگوں سے شئیر کیا جاے۔۔

واقعہ ان دنوں کا ہے جب میں تیسری جماعت کی طالبہ تھی۔۔چھوٹے ماموں ٹیوشن پڑھاتے تھے ان کے کل ملا کر ہم تین سٹوڈنٹس تھے ایک میں دوسری میری بہن اور تیسری چھوٹی خالہ۔۔ماموں کو ہماری ماوں کی طرف سے سختی کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی اور ہمیں پورا یقین تھا یہ ہماری کھال بھی اتار لیتےتو ہماری امیوں کے ماتھے پر ایک بل بھی نہیں آنا تھا لہذا اس ماموں سے ہماری جان جاتی تھی۔۔ ہماری اس کمزوری اور اپنی اس خوبی سے یہ بخوبی واقف تھے ۔۔

ایک دن بیٹھے بٹھاے ماموں نے ہم سے سوال کیا "آیت الکرسی اور دعاے قنوت منہ زبانی کس کس کو آتی ہے "؟؟ . ہم نےشرمندگی سے سر جھکا لیے۔انہوں نے پہلے تو لتاڑا ٹھیک ٹھاک اور ہمیں وارننگ دی

"۔کال شام کو تم تینوں سے آیت الکرسی سنوں گا اور پرسوں دعاے قنوت ۔۔کان کھول کر سن لو جس کو یاد نا ہوئی اس کی ہڈیاں توڑنے میں دلچسپی ہوگی مجھے"

ہم نے فق چہروں کے ساتھ ان سے ڈکٹیشن لے لی۔ رات جیسے تیسے گزاری۔اگلا دن چھٹی کا تھا ہم سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اب یاد کرکے ایک دوسرے کو سنائیں۔خالہ زیادہ پریشان تھیں کیونکہ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ پریشر میں ان سے یاد نا ہوتا کچھ ۔۔اور میرا حال ان کے الٹ تھا کہ مجھ سے پریشر میں بہترین کام ہوتا تھا۔۔یہ بار بار بے بسی سے کہتی میری مدد کرو مجھے مار نہیں کھانی۔۔میں نے یاد بھی کیا تو مجھے بھائی کو دیکھتے ہی بھول جاے گا۔۔مجھے پتہ تھا یہ درست کہہ رہی تھی۔

ان کی بات سنتے ہوے سامنے دیوار پر نظر پڑی۔۔ خوبصورت سی فریم ٹنگی ہوئی تھی جس پر آیت الکرسی لکھی تھی آئیڈیا دماغ میں آچکا تھا ۔۔میں نے اس کو سمجھایا آج جب لان میں ماموں سننے بیٹھیں گے۔جب ہم سنانے لگےگیں ماموں کے بیک پر موجود پودوں کی باڑ میں چھپ کر چھوٹی بہن( جس کو دعا سنانے سے استثنیٰ حاصل تھا )فریم شو کراے گی اور ہم سب آرام سے پڑھ لے گیں ۔ماموں کو شک بھی نہیں ہوگا اور مار سے بھی بچ جائینگیں ۔

چھوٹی کو راضی کرنا بہت آسان تھا یہ ہر ایڈونچر ہمارے ساتھ خوشی خوشی کرتی تھی ۔خالہ خوشی سے اچھل پڑی۔۔پلان اتنا شاندار تھا کہ میں نے بھی دعا یاد نا کی کہ جب نقل سے کام ہوجاے گا اب کون یاد کرے۔۔شام ہوئی ہم نے جا کے ماموں کی کرسی لان میں ایسے اینگل سے سیٹ کی کہ ان کے پیچھے موجود پودوں میں چھپ کر فریم دکھائی جا سکے ۔بہن بھی پودوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئی ۔۔چٹائی بچھا کر ایکسائٹمنٹ سے انکا انتظار کرنے لگے۔

دل میں ڈر بھی تھا کہ پکڑے گئے تو بے موت مارے جائنگیں۔۔لہذا نروس Russia بھی تھے کہ غلطی نہیں کرنی۔

۔ماموں آگئے سب سے پہلے خالہ کو کھڑا کیا انہوں نے ۔۔چھوٹی کو گرین سگنل مل چکا تھا ۔اس نے اسطرح فریم تھام لی جیسے ائیر پورٹ پر لوگوں نے نام والے بورڈ اٹھاے ہوتے ہیں۔۔خالہ نے کمال مہارت سے آیت الکرسی دیکھ دیکھ کر سنا دی ۔ماموں حیران ہوے شاباش دی پھر مجھ سے چھوٹی کو کھڑا کیا ۔اس نے بھی وقفے وقفے سے ماموں کےپیچھے والے فریم سے دیکھ دیکھ کر سنا دی ۔ماموں بہت خوش ہوے۔اب میری باری آئی ساتھ میں میری بدقسمتی بھی منتظر تھی۔۔

جیسے ہی میں سنانے لگی فریم والی محترمہ کو بڑی زور سے چھینک آئی ۔یہ جس چوکی پر چڑھ کر کھڑی تھی اس پر سے اسکا بیلنس آوٹ ہوا اور یہ فریم سمیت پودوں پر آن گری۔میری قوت گویائی دو وجوہات کی وجہ سے سلب ہوگئی ۔ایک تو یہ کہ اب فریم سے دیکھ کر نا پڑھ سکتی تھی ۔۔اور دوسری وجہ یہ کہ اپنا انجام بھی نظر آرہا تھا ۔ماموں کھڑے ہوے بہن کو جا کر پودوں سے نکالا ۔اور ساتھ ہی وہ فریم بھی نکالا حو ایک شاخ میں پھسا ہوا تھا ۔

۔ان کی نظر فریم پر نظر پڑی اور ہماری اس ڈنڈے پر جس سے ہماری ہڈیاں ٹوٹنی تھیں۔۔چھوٹی پودوں سے نکلنے کے بعد ایک طرف کو بھاگی۔۔ماموں نے ہمیں خون آشام نظروں سے دیکھا ۔۔سزا کے طور پر ڈنڈے پڑے اور ٹھیک ٹھاک پڑے۔۔ہماری طبیعت صاف کرنے کے بعد بولے

" اب ذرا اپنی سہولت کار کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرواو ۔"

۔مرتے کیا نا کرتے ہم اس کو ڈھونڈنے لگے ۔۔کسی کمرے میں نا مل رہی تھی آخر میں کچن کی باری آئی ۔۔میری نظر اس پر پڑ چکی تھی ۔۔یہ نانی کے نعمت خانے میں چھپی بیٹھی تھی ۔۔اس کی خوش قسمتی کہ ماموں کا اس طرف دھیان ہی نا گیا۔۔انہوں نے مایوسی سے ادھر ادھر دیکھا کہ آخریہ ننھی شیطان گئی تو گئی کہاں۔۔

تھک ہار کر واپس نکلنے لگے جیسے ہی دروازے میں قدم رکھا چھوٹی کو پھر سے چھینک آئی ..ماموں الٹے قدموں پلٹے اب انکو جگہ کی نشاندہی ہوچکی تھی۔۔ماموں نے اسکو انوکھی سزا یوں دی کہ نعمت خانے کو باہر سے تالہ لگا دیا اور کہا یہ شام تک اس میں بند رہے گی ۔۔اس کو مار کھانے سے یہ سزا بہرحال آسان لگی اور چپ چاپ بیٹھی رہی۔۔ہمیں رات نو بجے تک کھڑے ہو کر یاد کرکے سنانا پڑا۔۔ٹانگیں تو شل ہوگئیں تھیں۔۔لیکن دعاے قنوت اور آیت الکرسی بہرحال حفظ ہوچکی تھیں۔

 96