پاپڑ فروش نے 10 لاکھ ڈالر کیسے بھیج دیئے؟

11 اپریل 2019

papad farosh ne 10 laakh dollar kaisay bhaij diye ?

لاہور: (دنیا کامران خان کے ساتھ) پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ منی لانڈرنگ Money laundering کیسز کی جکڑ میں ہے، آصف زرداری، فریال تالپور سمیت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں پر آئندہ 3 سے 4 ماہ کے دوران تقریباً 3 درجن ریفرنس بنیں گے، جن میں جعلی بینک اکاؤنٹس، کرپشن اور منی لانڈرنگ Money laundering کے کیسز شامل ہیں جبکہ شریف خاندان پر بھی جس میں ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز شامل ہیں۔

منی لانڈرنگ Money laundering کے حوالے سے مقدمات بنانے کے لئے کافی مواد نیب کے ہاتھ میں آیا ہے اور کچھ لوگ جو اس خاندان کے لئے مبینہ طور پر کام کیا کرتے تھے انھوں نے اس کی تفصیلات نیب کے حوالے کر دی ہیں، انکوائری شروع ہوچکی ہے اور یہ سب کچھ پچھلے 8 سے 10 روز میں ہوا ہے، وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی صدارت میں ہونے والے پنجاب کابینہ کے اجلاس میں نیب کو ملنے والے تازہ شواہد کی روشنی میں شریف فیملی کے خلاف نئے کیسز درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت گفتگو سیاسی مفاہمت کی جاتی ہے لیکن عمران خان Imran Khan اور ان کی پارٹی تحریک انصاف کا ہمیشہ سے یہ مؤ قف رہا ہے کہ انھوں نے اسی مؤقف پر الیکشن لڑا ہے کہ وہ پاکستان Pakistan کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت نے کرپشن کی ہے اور وہ ان کو پکڑیں گے اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، کوئی این آر او نہیں دیں گے اور اب بھی ان کا مسلسل اصرار ہے کہ وہ زرداری یا شریف خاندان کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

میزبان نے بتایا کہ نیب کو دونوں جماعتوں کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ Money laundering کے حوالے سے بڑی کامیابیاں ملی ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت کے بارے میں تو نیب کے پاس پہلے ہی معلومات تھیں، جے آئی ٹی نے اس سلسلے میں گرانقدر خدمات انجام دی تھیں اور بہت زیادہ مواد جمع کیا تھا۔ اب شریف خاندان کے حوالے سے نیب کو بڑا بریک تھرو ملا ہے۔ یہ اس وقت سامنے آیا جب رمضان شوگر ملز کے شریف خاندان کے لئے مبینہ طور کام کرنے والے ایک شخص مشتاق چینی کو لاہور ایئرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب کے مطابق مشتاق چینی نے صرف ایک ٹرانزیکشن کے ذریعے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں 70 کروڑ روپے منتقل کئے تھے۔ یاد رہے کہ سلمان شہباز، شہباز خاندان کے تمام بزنس امور کے کرتا دھرتا ہیں۔ پاکستان Pakistan کے تمام بڑے بزنس گروپوں کے ساتھ ان کا گہرا تعلق ہوتا تھا اس حوالے سے آنے والے دنوں میں بہت اہم چیزیں سامنے آنے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مشتاق چینی شریف خاندان کے لئے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ Money laundering کرتا تھا۔ نیب منی لانڈرنگ Money laundering سے متعلق ایسی کئی دستاویزات حاصل کر چکی ہے جن میں مختلف اشخاص حمزہ شہباز کے نام ٹیلیگرافک ٹرانسفر کے ذریعے بھاری رقوم بیرون ملک بھجواتے رہے۔ نیب دستاویزات کے مطابق صرف 6 ٹرانزیکشنز کے ذریعے لگ بھگ 8 ارب روپے کی منی لانڈرنگ Money laundering ہوئی ہے، نیب کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد حمزہ شہباز کی ذاتی دولت میں 2 ہزار فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور سلمان شہباز کے اثاثے ساڑھے 8 ہزار گنا بڑھ کر تقریباً 3 ارب روپے ہو گئے، اب تک اربوں روپے کے اثاثے سامنے آچکے ہیں، نیب اس بارے میں بھرپور تحقیقات کر رہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف زرداری پر جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ Money laundering پر لگائے گئے الزامات کے ساتھ بڑی مماثلت نظر آرہی ہے، بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif خاندان نے مبینہ طور پر وہی طریقہ کار استعمال کیا ہے۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم Prime Minister کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں یہ بریک تھرو ہوا ہے اس کی انکوائری نومبر 2018 سے کی جا رہی تھی اور تحقیقات کے دوران شہباز شریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کو طلب کیا گیا اور ان کو سوالنامے دیئے گئے، سوالنامے ملنے کے بعد سلمان شہباز اچانک ملک سے فرار ہو گئے اور آج تک واپس نہیں آئے، پتہ چلا ہے کہ نیب کو اب مزید شواہد ملے ہیں جو حیران کن ہیں۔ پچھلے ہفتے نیب نے ان کے ’کیش بوائز‘ کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا جنھوں نے بتایا کہ یہاں سے پیسہ کیش کی صورت میں باہر بھجوایا جاتا تھا اور وہاں سے جعلی ترسیلات کی صورت میں واپس لایا جاتا تھا۔ اس کیس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیسے بھیجنے والی کی جعلی آئی ڈی استعمال ہوئی، مثال کے طور پر احتساب عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ایک شخص منظور احمد نے حمزہ شہباز کو برطانیہ سے 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم بھیجی ہے لیکن منظور احمد ایک غریب پاپڑ فروش ہے جو برطانیہ تو دور کی بات ہے آج تک کراچی بھی نہیں گیا لیکن اس کے نام پر رقم آرہی ہے یہ منی لانڈرنگ Money laundering ہے جو اینٹی منی لانڈرنگ Money laundering ایکٹ کی خلاف ورزی ہے جس کا اطلاق 2007 سے ہوتا ہے دوسرے حمزہ شہباز کی مجموعی دولت کا 90 فیصد حصہ ترسیلات کے ذریعے آیا ہے اس حوالے سے وہ جو وضاحت دے رہے ہیں وہ جھوٹی ثابت ہوگئی ہے۔ انہوں نے جو اثاثے بنائے ان کا ذریعہ معلوم نہیں۔ اس کو ثابت کرنے کے لئے منی لانڈرنگ Money laundering کی گئی، یہ دو جرم واضح طور پر ثابت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نیب کو 90 دن میں ریفرنس دائر کرنا چاہئے، اگر پوری فیملی کو اکٹھا کر کے دیکھیں تو یہ معاملہ اربوں میں جاتا ہے۔

 76