ہمارے بزرگ vs اولڈ ہومز

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

10 اپریل 2019

hamaray buzurag vs old homz

چند دن سکون سے گزرے ہونگے اور وہ دن آن پہنچا جب چھوٹی نانی نے ایک دلدوز خبر سنائی کہ بڑی نانی کو گلی میں کسی موٹر سائیکل سوار نے ٹکر مار دی جس سے نانی کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔۔مجھے سخت افسوس ہوا ۔ان کی زندگی پہلے ہی انتہائی مشکل دور سے گزر رہی تھی اوپر سے محتاجی۔۔مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ زندگی نے ان کے لیے مزید کانٹے بچھا دیے تھے۔

۔جیسے ہی یہ ہسپتال سے گھر شفٹ ہوئیں میں ان کی عیادت کو گئی۔ کمزوری،تکلیف اور نقاہت نے مل کر ان کو ہڈیوں سے بھرے ایک ڈھانچے میں بدل دیا تھا۔میرا دل دکھ سے بھر گیا۔۔یہ مجھے دیکھ کر بدقت مسکرائیں اٹھ کر بیٹھنے لگیں ۔۔میں نے آسرا دے کر ان کو بٹھایا۔۔کچھ دیر خاموشی سے ان کو دیکھتی رہی۔۔حال کیا پوچھتی میرے سامنے تھا ان کا حال۔۔یہ البتہ کچھ نا کچھ بولتی رہیں مجھے حیرت ہوئی۔۔اتنا صابر کوئی کیسے ہوسکتا ہے۔

ان کی کوئی خصوصی خدمت نا ہو رہی تھی یہ دیکھ کر۔۔میرا دل بھاری ہونے لگا ۔۔میں نے اجازت چاہی ۔اس بار انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ ان کو باقاعدگی سے ملنے جایا کروں۔۔کیونکہ اب وہ بے بس تھیں مجھ سے ملنے نا آسکتی تھیں۔جانے سے پہلے ان کے ہاتھ میں میں نے کچھ پیسے تھماے اس بار انہوں نے کوئی احتجاج نا کیا ۔۔بلکہ آنکھیں نیچی کر کے لے لیے۔۔جب میری طرف نظریں اٹھائیں آنسووں سے بھری تھیں میں نے پریشانی سے دریافت کیا کہ درد ہورہا ہے ٹانگ میں؟؟۔۔ مظبوط لوگوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا بہت تکلیف دہ عمل ہے ۔

۔انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔۔اور آہستہ سے گویا ہوئیں۔۔" نہیں پتر۔۔تکلیف ہمیشہ اللہ نے اتنی ہی دی ہے جتنی میں برداشت کرسگدی ساں۔۔۔پر اس بار زیادتی کر رہا ہے میرے نال"

انہوں نے شکوہ کناں نظروں اوپر خلاوں میں دیکھا آنسو پھر سے بہنے لگے۔۔۔میں رہ نا سکی۔۔۔بول پڑی

" ہاں آپ کی ٹانگ ٹوٹ گئی معذوری وہ بھی بڑھاپے میں ۔۔میں سمجھ سکتی ہوں آپ کی تکلیف"

انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔۔"نا میری دھی اے تکلیف وی گوارا ہے۔۔جسمانی تکلیف دی عادت اے"

میں نے اب سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔یہ ٹھنڈا سانس لے کر بولیں۔۔

۔" خود دار بندے توں اس دی خود داری چھین لی جاے بڑا دکھ ہوندا اے۔۔"

مجھے ان کا اصل درد سمجھ آچکا تھا۔۔ یہ اب مدد لینے پر مجبور ہوچکیں تھیں۔۔یہ محتاج ہوچکیں تھیں۔۔اور یہی چیز ان کو کھا رہی تھی۔۔میرے پاس تسلی کے لیے الفاظ نا تھے۔سو چپ چاپ واپس آگئی۔۔بڑھاپے کی چوٹ تھی بھرنے میں وقت لگنا تھا۔۔میں ہفتے میں ایک آدھ بار ان سے مل آتی ۔۔اور واپسی پر دل گرفتہ ہوتی۔۔سردیاں شروع ہوچکی تھیں۔۔ان کی ٹانگ تھوڑا بہت کام کرنے لگی تھی۔۔ دیواروں کو پکڑ پکڑ کر معمولی سا چلنا پھرنا بھی شروع کردیا تھا انہوں نے۔۔میں نے چند گرم سوٹ جرسی شال وغیرہ ان کو بھجواے۔ خود دینے نا گئی کیونکہ انکو شرمندگی ہوتی اور رونا شروع کردیتیں۔۔

ایسا ہی ایک دن شدید سردی۔۔آدھا دن دھند رہی ۔۔جیسے ہی کچھ چھٹی میں ان سے ملنے چلی گئی۔۔اور جا کر پچھتائی۔ کہ اتنے دن لیٹ بھی کیوں ہوِئی۔۔نانی سردی کی شدت سے کانپ رہی تھیں۔۔اور تیز بخار ہو رہا تھا۔۔گھر میں کوئی بھی نا تھا ۔۔پوچھنے پر بتایا کہ ایک گھنٹے تک آجائیں گے ضروری کام سے گئے ہیں۔۔ مجھے بڑا غصہ آیا ۔لیکن برداشت کے علاوہ چارہ نہیں تھا ۔۔۔ان کے کمرے میں چولہا جل رہا تھا ۔میں نے چاے کا سامان پوچھا کہ کہاں پڑا ہوگا ۔۔تاکہ ان کو چاے بنا دوں ۔۔انہوں نے جواب میں بتایا کہ بہو لوگ کچن کو تالہ لگا کر جاتے ہیں جب کہیں جائیں۔

۔میں نے چکرا کر ان کو دیکھا ۔۔۔واٹ۔۔۔؟؟؟ انہوں نے دکھ سے آنکھیں موند لیں۔۔اب میں الٹے قدموں واپس بھاگی۔۔سامنے سٹور سے خشک دودھ کے پیکٹ، چینی پتی انڈے وغیرہ لے کر واپس آئی ۔۔چاے بنائی انڈے بوائل کیے انکو سہارا دے کر اٹھایا ۔۔پہلے چاے پلائی انڈے کھلائے ساتھ میں دوا دی۔۔تشویش سے ان کو دیکھتی رہی۔۔دل میں ایک سنگین سی سوچ آئی کہ بس کر اللہ میاں ۔۔ان کو اپنے پاس بلا لے۔۔یہ زندگی سے لڑ لڑ کر تھکتی جا رہی ہیں۔ ان کی خود مختاری پر چوٹ پڑی تھی۔۔انہوں نے کبھی ہاتھ نا پھیلاے تھے اور مجھے پتہ تھا اب یہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکیں گی۔

چھوٹی نانی سے پتہ چلتا کہ میں ان کو کچھ کھانے کو بھجواتی تو ان کے پوتے پوتیاں نکال کر کھا لیتے انکو تھوڑا سا دیا جاتا۔۔کپڑے بھجواتی تو جو ان کی پوتیوں کو زیادہ پسند آتے خود لےلیتیں۔ میں جب بھی جاتی ان کی حالت مزید ابتر ۔۔۔اور وہ دن آ ہی گیا آخر جس کا نانی کو شدت سے انتظار تھا ۔۔اس دن کافی دیر ہوگئی ۔بچوں کو تشویش ہوئی کہ اتنا تو نہیں سوتیں جا کے جگانا چاہا۔تب معلوم ہوا کہ ابدی نیند سو چکیں۔۔۔۔

ان کو ہر مشقت ہر تکلیف سے نجات مل چکی تھی۔ان کے دنیا سے کنارہ کرنے کے بعد گوکہ میں ایک اچھی دوست سے محروم ہوچکی تھی۔۔لیکن پھر بھی ایک تسلی ہوئی کہ جنت میں ان کے لیے ہر دکھ ہر غم کا مداوا موجود ہوگا ۔۔۔

بارہا سوچا کہ ہمارے ملک میں بھی اولڈ ہوم ہونے چاہییں ۔۔تاکہ ایسے بزرگوں کو کچھ تو ریلیف ملے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔۔بے شک اچھی اولادیں بھی دیکھی ہیں۔۔جو ماں باپ کی خدمت میں جنت کما رہے ہیں ۔۔لیکن ایسا طبقہ زیادہ دیکھا جن کے لیے بزرگ ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔۔مجھے تو چند ایک ایسے بزرگوں کا پتہ ہوگا۔۔حالات اس سے زیادہ برے ہیں۔۔میں مایوسی ناامیدی اور درد نہیں لکھنا چاہتی تھی۔۔میں چہروں پر آنے والی مسکراہٹ کا سبب بننا چاہتی تھی۔۔لیکن اس ٹاپک نے مجھے مجبور کیا لکھنے کو۔۔

امید کرتی ہوں یہ تحریر گردش کرتی ہوئی ارباب اختیار تک پہنچ جاے۔۔ ایسے بزرگوں کا آخری وقت سکون سے گزارنے کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کرے۔۔اور اس تحریر کو لکھنے کا مقصد تکمیل کو پہنچے۔۔آ خر میں پڑھنے والوں سے ایک گزارش کرنا چاہونگی۔ میرے والدین عمرہ کی سعادت حاصل کرنے گئے ہوے ہیں۔۔اور ابو کی طبیعت ناساز ہے۔۔ ایک بارمیرے امی ابو کے بخیریت و عافیت واپسی کے لیے دعا ضرور کجیئے گا ۔۔۔

 120