زمین پہ وسائل کی قلت

ماجرا - بلال الرشید

10 اپریل 2019

zameen pay wasail ki qillat

''یہ کمیاب وسائل کی دنیا ہے‘‘ یہ جملہ بار بار دُہرایا جاتا ہے۔ معیشت کاسب سے بنیادی اصول ہی یہی ہے کہ وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں (Resources are scarce)‘ لہٰذا احتیاط سے انہیں ان چیزوں پر صرف کرنا چاہیے‘ جن میں صارف کو زیادہ سے زیادہ فائدہ (Utility) حاصل ہو۔ وسائل کی یہ کمیابی ہماری روزمرّہ زندگی کا حصہ ہے۔ وسائل کی کمی نہ ہو تو گھر کا ہر فرد اپنی ذاتی کار ‘بلکہ ہوائی جہاز رکھنا پسند کرے۔ ہمارے پہننے‘ اوڑھنے‘ کھانے پینے کی ہر چیز اور ہر خواہش کی تکمیل میں وسائل کی یہی کمیابی حائل ہے۔ ان وسائل پہ قبضے کی جنگ اس وقت سے جاری ہے‘ جب سے انسان نے ہوش سنبھالا ہے اور تب تک جاری رہے گی‘ جب تک ہم زندہ ہیں۔عمارتیں‘ تیل کے کنویں‘ کوئلے‘ ہیرے کی کانیں۔ انہی وسائل کی خاطر‘ساری زندگی انسان اپنا پسینہ بہاتا ہے ۔

وسائل کی کمیابی اتفاق نہیں‘ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اگر وسائل واقعی کم ہوتے تو آج زمین پہ اتنی زیادہ مخلوقات آباد نہ ہوتیں ۔ 22کروڑ سال پہلے ایک وقت تھا‘ جب اس کرّہ ٔ ارض پہ ڈائنا سارز کی حکومت تھی ۔یہ جانور طاقت‘ وزن اور خوراک کے حساب سے اس قدر بڑے تھے کہ آج بھی ہالی وڈ میں ان پر فلمیں بنائی جا رہی ہیں ۔ دنیا بھر میں دریافت ہونے والے ڈائنا سارز کے ڈھانچے عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں ۔ ان کی بے پناہ خوراک کی ضروریات نا صرف پوری ہوتی رہیں ‘بلکہ پورے پندرہ کروڑ سال تک وہ زمین پہ دندناتے رہے ۔ جب مرے تو قحط سے نہیں‘ بلکہ مبینہ طور پر ایک بہت بڑا دم دار ستارہ گرنے سے پیدا ہونے والی تباہی سے ۔ اس کے مقابلے میں آپ اگر انسان کو دیکھیں تو ہمارے قدیم ترین فاسلز بتاتے ہیں کہ ہمیں یہاں زیادہ سے زیادہ تین لاکھ سال ہوئے ہیں ۔ بندہ سوچنے لگتاہے کہ جو خدا 15کروڑ سال تک اس زمین پہ ڈائنا سارز پالتا رہا ‘ اس کے لیے کیا صرف تین لاکھ سال میں انسان کو پالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ؟ بالکل نہیں ۔

انسان اپنے آپ پہ خرچ ہونے والے وسائل گن سکتاہے ‘لیکن کیا وہ انڈونیشیا Indonesia کے تاریک غاروں میں پلنے والی چمگادڑوں اور انہی کے ساتھ زندگی گزارنے والے کاکروچ گن سکتاہے ؟ یہ سب پیدا ہوتے ہیں ‘ کھاتے پیتے ہیں ‘ بچے پیدا کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں؛ اگر آپ نیلی وہیل (Blue Whale)کے بارے میں پڑھیں تو آپ کو اور بھی حیرت ہوگی ۔ یہ ناپید ہوجانے والے ڈائنا سارز سے بھی بڑی ہے اور آج بھی زندہ ہے ۔ اس کی لمبائی 100فٹ ہوتی ہے اور وزن ڈیڑھ لاکھ کلو گرام۔ ایک اسّی کلوگرام کا آدمی دس کلو وزن بڑھنے پر موٹا اور بھدّا دکھائی دینے لگتاہے‘ نیلی وہیل کا وزن روزانہ کی بنیاد پر 70کلو بڑھتاہے۔ اس کی کم از کم تین اقسام ناپید (Extinct) ہوچکی ہیں۔ سوسال تک انسان نے ان کااس بے دردی سے شکار کیا کہ موجودہ آخری نسل بھی ناپید ہوتے ہوتے بچی۔ اس کی صرف زبان کا وزن اڑدھائی ہزار کلو ہے۔ پہلے سات ماہ کے دوران نیلی وہیل کا بچہ روزانہ کم و بیش 400لٹر دودھ پیتا ہے۔اپنی خوراک میں تقریباً مکمل طور پر یہ دو انچ کے ایک حقیر کیڑے Krillپہ منحصر ہے۔ ایک جوان نیلی وہیل روزانہ کم و بیش ایسے چار کروڑ کیڑے کھا جاتی ہے۔ اگلے روز چار کروڑ مزید موجود ہوتے ہیں۔ اب ذرا ایک لمحے کو سوچئے‘ جو سمندر میں ایسے جاندار پال رہا ہے اور جو زمین پہ ڈائنا سار پالتا رہا‘ آپ کا کیا خیال ہے کہ انسان کو زیادہ خوراک دینا اس کے لیے مشکل ہے؟ کیا سمندر سے دس بارہ ایسے جاندار نکال کر قحط کے ماروں کو نہیں دے سکتا۔ کیوں نہیں‘ لیکن اس کی کتاب میں اس وقت قحط سے اموات درج ہوتی ہیں۔ یہ کتاب ایک مکمل منصوبے کے تحت بنائی گئی ہے اور اس کا ایک لفظ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہو سکتا۔ چلئے فرض کیجیے‘ آپ کو قحط سے پالا نہ پڑا‘ آپ کو تمام تر وسائل میسر آئے‘ پھر کیا آپ بڑھاپے ‘ بیماری ‘ تکلیف اور موت سے بچ سکتے ہیں ؟ موت سے زیادہ تکلیف دہ چیز کیا ہوسکتی ہے ؟ سیدھی سی بات یہ ہے کہ زمین پہ جن جانداروں کو پیدا کیا گیا تھا‘ انہیں بہرحال موت کا ذائقہ چکھنا تھا اور یہ موت جان بوجھ کر تکلیف دہ رکھی گئی ہے ‘تاکہ جاندار اس موت سے بھاگیں ۔ہر حال میں زندہ رہنے کی کوشش کریں ۔

اب ذرا ہیرے جواہرات‘ سونے چاندی پر آجائیے۔ سونا ایک ایسی ٹھوس‘ پائیدار قسم کی دھات ہے‘ جو دوسرے عناصر کے ساتھ تعامل نہیں کرتی۔ یہ چمکدار رنگ رکھتی ہے۔ اسے انسانوں نے قیمتی جانا تو یہ قیمتی ہوئی‘ وگرنہ کون اسے پوچھتا تھا۔آج بھی ہم اسے کھا تو نہیں سکتے۔ لوہے ہی کی طرح‘ یہ ستاروں میں بنی‘ دم دار ستاروں کی صورت میں زمین پر نازل ہوئی۔ ستاروں میں آج بھی دیکھ لیجیے‘ یہ سب قیمتی عناصر تشکیل پارہے اور خلا میں بکھرتے جا رہے ہیں۔ صرف ایک بڑا دمدار ستارہ زمین کو اس قدرقیمتی جواہرات سے بھر سکتاہے‘ جو ہمارے وہم و گمان سے بھی باہر ہوں‘ لیکن تب پھر اس فراوانی کے بعد یہ قیمتی نہیں رہیں گے۔ خدا کے لیے کیا انسان کو زیادہ رزق اور زیادہ وسائل دیناایک مشکل کام تھا؟ جی نہیں‘ وسائل کی یہ کمیابی ہماری آزمائش کا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ مجبوری ہی کی وجہ سے انسا ن سخت محنت کرتاہے ۔ بہت سے رشتے وسائل کی کمیابی تک ہی باقی رہتے ہیں۔ آپ فلمی دنیا میں دیکھ لیجیے‘ امریکہ United States اور یورپ کو دیکھیے۔ جہاں ایک دوسرے پہ انحصار ختم ہوا‘ جہاں معاشی تنگی ختم ہوئی‘ رشتے ٹوٹنے لگے‘ طلاق عام ہوئی۔

نیلی وہیل کی کھوپڑی بیس فٹ لمبی ہے۔ یہ اور ان جیسے اَن گنت جاندار اس زمین پر کیوں پیدا کیے گئے؟ ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ڈائنا سار سمیت زمین کے 70فیصد جاندار کیوں ہلا ک ہوئے۔ سائنس بتاتی ہے کہ انہی جانداروں کے مردہ اجسام سے وہ کوئلہ‘ تیل اور گیس بنی ہے‘ آج ہم جسے استعما ل کر رہے ہیں۔ مختلف حادثات میں زمین مختلف پلیٹوں میں تقسیم ہوئی۔ وہ حرکت کرتے اور ٹکراتے ہیں اور یہ کاربن کے چکر سمیت‘ مختلف مفید عمل قائم رکھتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آکسیجن کے انقلاب (Great Oxydation Event)‘ سے لے کر Cambrian Explosionاور چک ژولب والے دم دار ستارے میں ڈائناسار ز کی اموات تک‘ جتنے بھی بڑے واقعات اور حادثات ہمیں نظر آتے ہیں‘ وہ سب کے سب ایک مکمل منصوبے کا حصہ تھے۔

بکرے‘ ہرن‘ گائے‘ بیل‘ مختلف جانداروں سے انسان خوراک حاصل کرتا اور ان کی قوت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ انہی کو وہ کھیتی باڑی میں جوتتا رہا۔ یہ جاندار دوسرے بہت سے پودوں اور جانوروں پہ منحصر ہیں۔ یوں یہ ایک بہت بڑا چکر ہے‘ جس میں مختلف جاندار ایک دوسرے کی خوراک بنتے ہیں۔ان سب چیزوں کو ملا کر وہ مثالی حالات جنم لیتے ہیں‘ جن میں آج کا انسان زندگی گزار تا اور آزمایا جا رہا ہے۔ وہ اس زمین پر اکیلا نہیں رہ سکتا تھا۔ اسے دوسرے جانوروں اور پودوں کی مدد درکار تھی۔

یہ زمین اس طرح سے بنی ہے کہ یہ زندہ چیزوںکو خوراک اور رہائش سمیت تمام تر لوازمات فراہم کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سنگلاخ پہاڑ ‘ مکمل طور پر ڈھکے ہوئے جنگلات اور میلوں گہرے پانی کے ایک ایک قطرے میں زندہ چیزیں موجود ہیں؛ حتیٰ کہ اس میں وہ بیکٹیریابھی اپنی زندگی گزارتے ہیں ‘ جن کی خوراک مردہ چیزوں کا جسم ہوتاہے ۔ سائنسدان جب ان چیزوں کو گنتے ہیں تو چکرا جاتے ہیں ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ آج اس وقت زمین پہ کل 87لاکھ سپیشیز زندگی گزار رہی ہیں ۔ ان میں سے ایک ہم انسان ‘ ہومو سیپینز ہیں ۔

زمین پہ بظاہر نظر آنے والے وسائل کی قلت دراصل ایک مکمل منصوبے کا نتیجہ ہے ۔ Scarcityحادثاتی نہیں ہے‘ بلکہ یہ جان بوجھ کر رکھی گئی ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ذرااوپر جائیں تو ہیرے جواہرات سے بھرپور ان گنت دم دار ستارے فضائے بسیط میں تیرتے چلے جا رہے ہیں ۔وہاں ان کی کوئی وقعت ہی نہیں ‘ کوئی طلب گار ہی نہیں ۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتاہے کہ خلا میں لامحدود وسائل اور ان گنت زمینیں (سیارے)جنت کے وسائل کی طرف ایک اشارہ ہیں ۔

 345