ہمارے بزرگ vs اولڈ ہومز

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

08 اپریل 2019

hamaray buzurag vs old homz

کچھ دیر بیٹھنے اور چاے پینے کے بعد دونوں نانیوں نے مجھ سے اجازت چاہی۔۔جسطرح مجھے بڑی نانی کا ایٹی ٹیوڈ بہت پسند آیا تھا ۔۔اسی طرح انکو میرا بزرگوں کے ساتھ لگاو بہت پسند آیا تھا۔۔ہماری دوستی کا آغاز اسی دن سے ہوگیا تھا۔۔یہ اکثر میرے گھر ملنے کے واسطے آنے لگیں۔لیکن کچھ کھانے پینے سے صاف منع کردیتیں۔۔میرے اصرار کے بعد بھی مشکل ہی مانتیں۔

۔ان کی ہسٹری یہ پتہ چلی کہ جوانی میں ہی بیوہ ہوگئیں تھیں۔ اوپر سےچھوٹے چھوٹے تین بچوں کا ساتھ۔۔انہوں نے دوسری شادی نا کی اور اپنے علاقے کے با اثر لوگوں کے گھر کام کرنے لگی۔۔جن میں نمبردار ، پٹواری وغیرہ شامل تھے۔۔ اسی وجہ سے ایک پڑھا لکھا رکھ رکھاو والا رویہ اور لہجے کی برجستگی ان کے انداز میں شامل ہوگئی تھی۔۔ ان کی باتیں بہت دلچسپ اسلوب لیے ہوتیں سینس آف ہیومر کمال تھا ان کا۔۔ اب اکثر مجھ سے ملنے آجاتیں۔۔

میرے شوہر زیادہ نوٹس نا لیتے تھے کیونکہ بزرگ عورتیں مانگنے والی ہوں یا ہمسایاں میرے ساتھ کچھ دیر بیٹھتی ضرور تھیں۔ انہوں نے ایک دو بار تو خود سے میرے شوہر کو مخاطب کرکے سلام کیا شائستگی سے حال احوال پوچھا۔۔اب اصولا تو وہ سمجھ جاتے کہ ان نانی کو سلام کرنا ضروری ہے ورنہ مائینڈ کر جائیں گی۔لیکن نا سمجھے۔اور ایک دن یوں ہوا نانی آئیں۔۔ہمیشہ میرا ماتھا چوم کر دعا دینے کے بعد بیٹھتیں۔۔ہم اپنی باتیں کرنے لگیں شوہر آکر سامنے لگے شیشے سے بال بنانے لگے۔۔ان کا دھیان ہی نا گیا ۔

۔نانی کو سخت برا لگا ڈائرکٹ شوہر سے مخاطب ہوئیں

" پتر توہاڈی عمر اچ اے بدمعاشیاں اساں وی بہوں کیتیاں نے ۔۔بندے کو بندہ نا جانڑدے ہاسے تے بدتمیز وی رج کے ہاسے "

ادھر شوہر نے ایسے کمنٹ پر بوکھلا کر سلام کیا۔۔نانی نے سلام کا لٹھ مار جواب دے کر مزید طبیعت صاف کی

۔۔" تیڈے کولوں روزی نی لیندی نا تیری کانڑی آں میں ۔تمیز سکھیا کر چھوٹا کاکا نی تو "

میرے لیے اپنے قہقہوں کو کنٹرول کرنا ممکن نا رہا۔ شوہر نے جھینپتے ہوے باہر نکلنے میں عافیت جانی اور اس کے بعد جہاں دیکھتا ان دبنگ نانی کو سلام کرنا نا بھولتا ۔

کبھی انکے منہ سے اولاد کی برائی سنی نا ہی تنگدستی کا زکر لہذا اندازہ نا ہوا کہ ان کے حالات کیسے ہیں۔۔ایک دن ان کا یہ بھرم یوں ٹوٹا کہ مجھےچھوٹی نانی نے آکر بتایا کہ یہ بیمار ہیں ۔۔مجھ سے رہا نا گیا ۔۔ان سے گھر کا پتہ پوچھا پھل وغیرہ لے کر چل پڑی۔۔وہاں جا کے دروازہ بجایا ایک نوجوان لڑکی نے کھولا۔میں نے اس سے نانی کے متعلق دریافت کیا ۔لڑکی نے اثبات میں سر ہلا کر ایک طرف کو اشارہ کیا ۔۔جونہی اس طرف نظر پڑی مجھے شاک زیادہ لگا یا صدمہ وضاحت نہیں کرسکتی۔۔

نانی نلکے کے سامنے بیٹھیں اپنے کپڑے دھو رہیں تھیں۔۔نلکے پر ڈائرکٹ دھوپ پڑ رہی تھی۔۔ اور یہ پسینے سے شرابور بڑی دقت سے کپڑے دھو رہی تھیں۔۔میں تڑپ کر ان کے پاس پہنچی۔۔ان کا رنگ مجھے دیکھ کر متغیر ہوا۔۔پھر خود پر قابو پاتے ہوے کھڑی ہوئیں۔میں نے سہارا دے کر اٹھایا ۔ان کا جسم تپ رہا تھا ۔میں نے کپڑے ان سے لے کر تار پر ڈالے جو یہ دھو چکیں تھی۔اور حیران نظروں سے دیکھا کہ یہ خود کیوں دھو رہیں ہیں ؟؟ گھر میں نظر دوڑائی تو تین چار نوجوان لڑکیاں موجود تھیں جو یقینا ان کی پوتیاں تھیں۔

۔ ہنس پڑیں اور بولیں ۔۔روز روز کون کپڑے دھو دے؟؟ اور ساری عمر خود دھوے اب محتاجی اچھی نہیں لگتی۔۔۔مجھے بہرحال بہت دکھ پہنچا تھا ۔۔ یہ ایک چھوٹے سے کوٹھری نما کمرے میں مجھے لے گئیں ان کا کمرہ تھا۔۔ایک چارپائی جس پر پرانا لیکن صاف ستھرا بستر بچھا تھا ۔ایک چھوٹا س صندوق جس جاے نماز اور پانی کا گھڑا اور ان کی شکر گزار فطرت پر میں سمجھتی تھی کہ یہ خاصے کھاتے پیتے گھرانے کی ہونگیں ۔۔اولاد عیش کرا رہی ہوگی لیکن ایسا کچھ نا تھا ۔۔

اس دن صدمے پر صدمہ ملنا تھا ۔۔باتیں کرتے ہوے کچھ دیر گزری ہوگی۔۔ایک لڑکی بھدے سے برتنوں میں انکو کھانا دے گئی۔۔کھانا کیا تھا ۔جیل کے قیدیوں والی خوراک کہنا مناسب ہوگا۔۔انہوں نے لپیٹ کر ایکطرف رکھ دی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ روٹی جتنی پتلی تھی کچھ دیر بعد سوکھ کر لکڑی ہوجاے گی اور ان سے چبائی بھی نا جاے گی۔۔ بچیوں کو میرے سامنے ان کی عزت رکھنے کا خیال نا آیا شاید۔۔کچھ ہی دیر بعد ایک اور بچی اندر آئی اور دادی سے مخاطب ہوئی " شام کی روٹی کا آٹا دے دو دادی ۔۔ہمارا آٹا پہلے ہی کم ہے امی آئے گی ناراض ہوگی"

نانی نے ہڑبڑا کر اسکو اشارہ کیا کہ جاو پھر دیتی ہوں۔لیکن لڑکی کھڑی رہی تو مجبورا نانی نے ساتھ پڑے ایک ڈبے سے کٹوری میں آٹا نکالا جو کہ اہک دو روٹیوں کا ہوگا ۔۔لڑکی کے حوالے کیا ۔لڑکی آٹا لے کر چلی گئی۔۔میں نے دکھ بھری شاکی نظروں سے ان کو دیکھا

" اپنا آٹا بھی آپ خود لیتی ہیں؟؟"

یہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیں ۔"ہاں اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے ؟؟ بھیک نہیں مانگتی ۔۔سو روپے کا لیتی ہوں دس پندرہ دن کافی ہوتا ہے" میں نے اعتراض کیا ۔۔

"جس اولاد کے لیے شادی نا کی۔۔لوگوں کے گھروں میں کام کیا ان پر آپ کی ایک روٹی بھاری پڑتی ہے کیا؟؟"

یہ اب مسکرا دیں۔۔" او میری دھی ۔۔انہاں دی کفالت میری زمے داری تھی میں احسان نی کیتا "

مجھے انکے جواب پر غصہ آیا " تو آپ ان کی ذمے داری نہیں ہیں کیا؟؟"

انہوں نے صفائی دی کہ بچے مصروف ہیں زمے داریاں ہیں ان پر بھی وغیرہ وغیرہ۔۔میں نے کچھ دیر بعد ان سے اجازت چاہی۔۔انہوں نے مجھے ہدایت دی کہ مجھ سے ملنے مت آیا کرو۔۔میں خود آجایا کرونگی۔۔ اور میں اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ مجھے کیوں منع کر رہی ہیں۔۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انکا اور میرا رشتہ گہرا ہوتا گیا۔۔سردیاں شروع ہوچکیں تھیں ایسا ہی ایک دن میرا اس محلے سے گزرنا ہوا ۔۔محلے کے ساتھ ایک قبرستان تھا ۔۔قبرستان کے قریب سے گزرتے ہوے مجھے شک گزرا ایک قبر کے ساتھ نانی بیٹھیں ہیں۔۔میرے قدم ان کی جانب مڑ گئے۔۔وہ نانی ہی تھیں۔۔ان سے سلام کے بعد انکے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ شرارت سے۔دریافت کیا ۔"کس کی قبر ہے کیا مزاکرات چل رہے ہیں ؟؟"

ان کے سادہ سے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ دوڑ گئی

" پتر نانے تیرے دی قبر اے۔۔اناں نوں منت ترلہ کر رہی آں کہ ہنڑ تے بلوا لو۔۔قبر دے قریب والی جگی کسی اور کو نا مل جاے۔۔اس لیے وعدہ لے رہی تھی کہ میری جگہ ریزرو رکھے "

گوکہ یہ ہلکے پھلکے انداز میں بتا رہیں تھیں لیکن مجھے پتہ تھا اب کہ یہ کتنا کڑا وقت دیکھ رہیں ہیں۔اور بندہ جب موت کا انتظار کرنے لگے زندگی اس وقت مشکل ترین دور سے گزر رہی ہوتی ہے۔۔ہم۔نے کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کیں ۔۔انہوں نے مجھے ڈانٹا

" اٹھ تے گھر جا ۔۔اساں تے بوڑھے بندے تو ہالے جوان جہان اے بزرگ نا بنڑ"

اگلے دن گھر آئیں بڑی اداس لگ رہیں تھیں ۔۔میں نے استفسار کیا ۔۔سنجیدگی سے بولیں

" بس پتر دنیا بے وفا اے ۔۔او ہے نا خدا بخش ۔۔صادق درزی دا پِیو ۔۔سامنڑے گزر رہیا سی میں دس روپے دیے کہ میری نسوار تا لیندا آ واپسی تے۔۔کمینا کہیندا اے ۔۔ جا کے خود لے لے ۔جس دن شادی کرنا چاہندا سا اس دن تے تو نیڑے نا لگدی سی ۔ہنڑ اپنی نسوار وی خود لے آ"

مجھے ان کی بات بے ساختہ ہنسی آگئی۔۔یہ مزید بولیں

" بس بے غیرتی اے پتر ہور کی۔۔چلو اس دن لفٹ نا کراندی ساں ہنڑ تا مدد منگی اس "اوچھے" توں۔۔ہنڑ بھلا شادی نا کرن داطعنہ بنڑدا ہا؟؟"

میرا قہقہہ نا رک سکا ۔۔میں نے ان کے پرانے امیدوار کی تھوڑی صفائی دینا چاہی ۔۔ہوسکتا ہے آپ کے ریجکٹ کرنے پر ہرٹ ہوے ہوں دل سے لگا لیا ہو ۔۔نانی نے طنزیہ نظروں سے مجھے دیکھا " اچھا ۔۔۔؟ کنجر دیاں دو بیویاں تے پندرہ معشوقاں وی اس دور اچ رہیاں نے ۔۔میرا روگ نی سی اینوں پتر جزباتی نا ہو " میں کھکھلا کہ ہنس دی ۔۔اور نانی بھی مسکرانے لگیں۔۔ہم یہ نا جانتے تھے کہ یہ ہماری ہنستی مسکراتی آخری ملاقات تھی۔۔(آخری حصہ۔۔کل انشا ء اللہ)

 164