ہمارے بزرگ vs اولڈ ہومز

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

05 اپریل 2019

Hmaree buzgar vs old home

ان بزرگ نے جھجھکتے ہوے جو بتایا لب لباب کچھ یوں تھا کہ یہ اپنی چھوٹی بیٹی کو بہت یاد کرتی ہیں جس کی چند ماہ قبل دوسرے شہر شادی ہوئی ہے۔۔یہ بیٹی کو ملنے جانا چاہتی ہیں اسی غرض سے پیسے جمع کر رہی ہیں لیکن پیسے جمع ہونے میں نہیں آرہے۔۔مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں نے انکی بے بسی کو کتنی شدت سے محسوس کیا۔۔فورا اندر بھاگی ۔۔انکو کچھ رقم لا تھمائی۔۔تاکہ یہ جلد سے جلد بیٹی سے ملنے جائیں۔۔انہوں نے پہلے تکلفا انکار کیا۔۔لیکن بیٹی سے ملنے کی خوشی نے زیادہ دیر انکار پر قائم نا رہنے دیا اور یہ دعائیں دیتیں رخصت ہوگئیں اور۔مجھے خوشی ہوئی کہ مجھے اللہ نے اس قابل سمجھا کہ اس بزرگ کی مدد میرے وسیلے سے کرائی۔۔

خیر یہ چند دن بعد خوش باش مجھ سے ملنے آئیں۔۔ان کے ہاتھ میں کچھ رقم تھی جو یہ مجھ کو لوٹانے آئیں تھیں ۔۔میں نے خفگی کا اظہار کیا تو انہوں نے مجبورا واپس رکھ لیے . اور اب میں ان کی بیٹی بن چکی تھی۔۔۔۔ پتہ چلا ان کے دو بیٹے بھی تھے۔جن کو ماں کی کوئی خاص پروا نا تھی۔۔یہ سیدھی سادی سی عورت ہیں۔۔اپنے کام سے کام رکھنے والی۔۔ہر حال میں سمجھوتا کر لینے والی۔۔ان کی بہووں کا رویہ ان سے اچھا نا تھا۔

۔اکثر انکو کھانا نا دیتیں لیکن یہ ڈر کے مارے بیٹوں کو نا بتاتیں کہ انکا جھگڑا نا ہوجاے۔سارا سارا دن رات کے کھانے کے انتظار میں بھوکی رہتیں۔۔مجھے بیٹی بنانے کے بعد بھی کبھی منہ پھاڑ کر کھانا نہیں مانگتی تھیں۔۔میں البتہ ان کی شکل سے ہی اندازہ لگا لیتی کہ انکو بھوک لگی ہے۔۔تو میں جو بھی کھانا دیتی یہ آرام سے کھا لیتیں۔۔

اچھا ایک چیز میں نے نوٹ کی اور وہ یہ کہ جن جن بزرگ عورتوں کو میں جانتی ہوں انتہائی مخدوش حالات سے گزر رہیں تھیں ۔لیکن اولاد کا شکوہ ان کے منہ سے کبھی نہیں سنا تھا۔

۔ خیر ایک بار آئیں۔ہتھیلی جھلسی ہوئی تھی اور تقریبا تین انچ لمبا اورچوڑا زخم بنا ہوا تھا۔۔یہ جب آئیں تکلیف سے ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔۔میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔اور فورا زخم صاف کرکے مرہم لگایا پھر پوچھ بیٹھی کہ کیسے لگی چوٹ ۔۔انہوں نے بتایا کہ چولہے کے ساتھ بیٹھی تھی پوتے لڑتے لڑتے ان پر آن گرے اور یہ چولہے پر جا گری۔ باقی تو بچ گئیں لیکن ہاتھ جل گیا تھا۔میں اب تشویش سے ان کا ہاتھ دیکھ رہی تھی کہ کب ٹھیک ہوگا۔۔ان کی بہوویں کافی لا پروا قسم کی تھیں بچے دادی کے حوالے کرکے محلے میں ایک ایک گھر گھومنا بے مقصد وقت ضائع کرنا ۔۔اور یہ جلے ہوے ہاتھ کے ساتھ بچوں کو بھی سنبھالتیں جسکی وجہ سے زخم ٹھیک نا ہو رہا تھا۔۔

ایک۔بار ان کی گلی سے گزرنا ہوا ۔ان کے گھر سے شور کی آوازیں آرہی تھیں ۔۔ نانی کی آواز کان میں پڑی یہ مسلسل رو رہی تھیں۔ بہو بیٹے الگ سے چیخ رہے تھے۔۔میرے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز نانی کا رونا تھا ۔دل چاہا اندر چلی جاوں اور ان کی بہووں اور بیٹوں کو کھری کھری سنا دوں۔۔لیکن پھر اندر نا جا سکی۔۔کیونکہ ایسے لوگوں سے ہمیشہ مجھےڈر لگتا ہے جو خدا سے نہیں ڈرتے۔

مجھے اگلے دن شدت سے انتظار تھا ان کا یہ نا آئیں۔ اس سے دن جب یہ آئیں اکیلی نا تھیں۔۔ان کے ساتھ ایک اور بزرگ موجود تھیں صاف ستھرے اجلے کپڑے۔۔سلیقے سے بناے گئے بال۔۔یہ دوسری نانی سے عمر میں بڑی ہونگیں لیکن نک سک نفاست سے درست اور اپنا خیال ان سے زیادہ بہتر طریقے سے رکھا ہوا تھا۔۔مجھے ان سے مل کر اچھا لگا ۔

میں نے پہلے والی نانی کو مخاطب کیا کہ آپ کے گھر پرسوں جھگڑاہو رہا تھا اور آپ رو بھی رہیں تھیں کیا وجہ تھی۔۔انہیں میرے سوال پر چپ لگ گئی۔دوسری نانی بول پڑیں۔۔" میرے کولوں پچھ اے تاں احمق ہے ہر شے اولاد نوں دے کے اج پیسے پیسے دی محتاج اے ۔"

میں نے کچھ نا سمجھتے ہوے سوالیہ انداز سے ان کو دیکھا۔۔انہوں نے میری کنفیوژن کو سمجھتے ہوے دوبارہ سے وضاحت دی ۔" ویکھ پتر اولاد توں وفا اوکھی ملدی اے۔۔جتنی پیاری اتنی کمینی ۔بہتر اے بندہ انہاں دا زیادہ محتاج نا ہووے۔اس کملی نوں میں روکیا سی کہ ہر شے اولاد دے حوالے نا کر کج اپنڑے پلے وی رکھ پر اس نے ہر چیز اوناں نوں دے دی "مجھے ان کے اولاد کے بارے میں اس قدر سفاک بیان پر تھوڑا حیرت ہوئی۔۔ لیکن میں یہ نا جانتی تھی کہ انہوں نے مجھے حیران کرنے کی شروعات کی ہے ابھی۔۔بڑی نانی سے معلوم ہوا کہ چھوٹی نانی کے پاس کچھ پیسے تھے جو کسی نے چوری کرلیے ۔انہوں نے بہووں سے پوچھا تو بہووں نے تماشا کھڑا کردیا اور یہ خود مجرم بن کر بیٹھ گئی۔۔ بیٹے الگ خفا کہ ماں الزام لگاتی ہے۔۔یہ۔چپ چاپ بیٹھیں سنتی رہیں۔بڑی نانی نے انکو ٹھیک ٹھاک جھاڑا یہ سر جھکاے آنسو بہاتی رہیں۔۔میں نے اندازہ لگایا کہ یہ نانی بڑی دبنگ خاتون ہیں۔۔اور آنے والے دنوں میں انہوں نے میرے اس اندازے کوبڑے زبردست طریقے سے درست ثابت کیا (اگلا اور آخری حصہ کل)

 162