پٹرولیم ذخائر کی دریافت کے بعد

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

05 اپریل 2019

Petrolium zhagair ki daryaft ke bad

میں یہ باتیں اس قدر یقین کے ساتھ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ مستند معلومات اور اطلاعات کی بنا پر قوی امکان ہے کہ پاکستانی سمندروں سے تیل کی صورت میں قدرت کے خزانے ایک نعمت اور انعام کے طور پر ہم سب پر نچھاور ہونے والے ہیں۔ پاکستان Pakistan روز اول سے ہی اپنے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر دنیا بھر میں ایشیا کے ایک اہم ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان Pakistan کے زیر زمین اور سمندری حدود میں تیل کے ذخائر کی ممکنہ دریافت کی بازگشت نے سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔ پاکستان Pakistan میں اس سے پہلے جیسے ہی آئل ڈرلنگ کا کام شروع ہوتا تھا تو سندھ اور بلوچستان Balochistan میں امن و امان کی صورت حال اس قدر سنگین اور پُر خطر بنا دی جاتی تھی کہ مختلف جگہوں پر تیل کی تلاش کے لئے ڈرلنگ مشینوں پر کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی انجینئرز اور ماہرین کو مشکلات اور امن و امان کے بد ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور وہ ان پروجیکٹس پر کام کی رفتار کم کرنے‘ کسی جگہ کام بند کرنے اور کچھ سائٹس پر سرگرمیاںادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ تیل کی تلاش کے لئے کراچی سے اندرون سندھ اور بلوچستان Balochistan جانے والوں کو چھوٹے جہازوں کے ذریعے جس طرح سکیورٹی گارڈز کے ایک ہجوم کی نگرانی میں بھیجا اور لایا جاتا تھا‘ وہ تھکا دینے والا اور تکلیف دہ عمل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا کہ تیل کی تلاش کا کام بند ہوتے ہی وہ کروڑوں ڈالر بھی نہ جانے کدھر ضائع ہو جاتے‘ جو اس مقصد کے لئے مختص کئے جاتے تھے۔ پاکستان Pakistan اور خاص طور پر کراچی، اندرون سندھ اور بلوچستان Balochistan کے چند مخصوص علاقوں میں دہشت گردی کسی خود رو پودے کی طرح نہیں اُگتی تھی بلکہ اس کے پیچھے ہمارے دشمن ملک کی ایجنسیاں‘ ان کے نام پر مختلف بھیس بدلے ہوئے ایجنٹ اور بھاری سرمایہ حرکت میں آتا رہتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ توانائی کے بحران کے شکار پاکستان Pakistan میں تیل کی تلاش کے منصوبے ٹھپ ہوتے گئے اور کچھ بد بخت ایسے تھے‘ جو اس مقصد کے لئے رکھے گئے کروڑہا ڈالر شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرتے رہے۔

گز شتہ دو تین ماہ سے پاکستان Pakistan کی سمندری حدود میں تیل کی تلاش کیلئے کام کرنے والی امریکی اور اطالوی کمپنیوں کے ساتھ منسلک کچھ مقامی انجینئرز اور چند دوسرے ذرائع کے علاوہ حکومتی ایوانوں سے بھی میڈیا میں یہ خبریں دی جا رہی تھیں کہ بہت جلد سمندر سے تیل نکلنے کی خوشخبری قوم کو سنائی دینے والی ہے۔ اس پر کچھ سیاسی طاقتیں مذاق اڑانا شروع ہو گئی ہیں۔ ایک لمحے کے لئے تصور کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستانی قوم پر اپنا فضل و کرم کرتے ہوئے سمندر سے تیل نکلنے کی ان کاوشوں کو بارآور کر نے ہی والا ہے تو یہ صرف پاکستان Pakistan ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لئے ایک Game Changer ثابت ہو گا۔ توانائی کے اس ذریعے سے ریجن کے ممالک میں اقتصادی تعاون فروغ پائے گا۔ کچھ لوگ‘ جنہوں نے چنیوٹ میں لوہا نکال کر کروڑوں روپے کی لاگت سے وہاں ایک تقریب رونمائی کرتے ہوئے اپنے سیاسی مقاصد اور انتخابی جھوٹوں کا مینا بازار لگائے رکھا‘ تیل کی تلاش کی کامیابی کی اس خبر کا مذاق اڑانے میں سب سے آگے ہیں۔ وہ لوگ جو چنیوٹ میں دس سے زیادہ ممالک کے مندوبین کو سامنے بٹھا کر لوہے اور سونے کے ذخیرے ڈھونڈ نکالنے کے اعلانات کرتے رہے اور پھر دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے پر بھی لوہا اور سونا تو کیا‘ وہاں سے سکریپ کا ایک ٹکڑا بھی نہ نکال سکے‘ وہی آج تیل کی تلاش کو ایک تماشہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر چنیوٹ سے لوہا یا سونا نکل آتا تو یہ کسی فرد واحد یا خاندان کی ملکیت نہیں ہونا تھا۔ اسی طرح اگر سمندر سے تیل نکل آتا ہے تو یہ کسی ایک کا نہیں بلکہ پورے پاکستان Pakistan کا اثاثہ ہو گا۔ تیل نکلنے کی خوشخبری کسی ایک کے لئے نہیں‘ کسی خاص سیاسی جماعت اور گروہ کے لئے نہیں‘ اس ملک کی بیس کروڑ سے زائد آبادی کے ایک ایک فرد کے لئے ہو گی۔

بد قسمتی یہ ہے کہ ملک کے مخصوص سیاسی حلقے اور ان سے منسلک کچھ ادارے سمندر میں تیل کی تلاش کی ان کوششوں کو کچھ اور ہی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کہیں اس کوشش کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو کہیں ایسا لگ رہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی طرح قوم کے لئے ایک اچھی امید کے رستوں کو ایک مرتبہ پھر کسی اور طریقے سے بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ایسے لوگوں کی معنی خیز باتیں عجیب قسم کے وسوسوں کو جنم دینے لگی ہیں۔ شاید کچھ گروہ اور سیاسی طاقتیں وہی کھیل دہرانا چاہتی ہیں‘ جو کالا باغ ڈیم جیسے پاکستان Pakistan کی معیشت اور مستقبل کو بہتر بنانے والے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے کھیلے گئے۔ اس وقت بھی کچھ ایسی طاقتیں موجود ہیں جو حالات کو منفی انداز میں پیش کر رہی ہیں اور کراچی سمیت بلوچستان Balochistan کے سمندری حصوں میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے ابہام پیدا کر رہی ہیں۔ گزشتہ ایک دو ماہ میں کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں کو اگر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو پھر اسے سنبھالنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جائے گا۔ کیا یہ بات قابل توجہ اور باعث تشویش نہیں کہ جب بھی پاکستان Pakistan میں کوئی اہم شخصیت آنے والی ہوتی ہے‘ عالمی اہمیت و افادیت کا حامل کوئی بین الاقوامی ایونٹ ہونا ہوتا ہے یا پاکستان Pakistan کے کسی قومی دن کی آمد آمد ہوتی ہے‘ لبرٹی چوک لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے یا کراچی میں مفتی تقی عثمانی جیسی شخصیت کو نشانہ بنانے جیسا کوئی نہ کوئی واقعہ سٹیج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی لئے جیسے جیسے سمندر میں کی جانے والی ڈرلنگ اپنی کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے دشمن کی بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

تیل کی یہ تلاش اگر کامیاب ہوتی ہے تو صرف پاکستان Pakistan ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو ان ذخائر سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔ پاکستان Pakistan کے سمندروں سے تیل نکلنے سے جنوبی ایشیا کے ممالک کو اپنی معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہو گا جس کے نتیجے میں تیل سے متعلق مختلف ممالک کی کمپنیاں اور ادارے بھی پاکستان Pakistan کا رخ کریں گے۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا بلکہ اس سے مزید کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی راہ ہموار ہو گی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی کے اہداف پورے کرنے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

پاکستان Pakistan کے سمندر سے تیل کی تلاش کے لئے امریکہ United States کی تیل سے متعلق بہت بڑی کمپنی EXXON MOBIL اور اٹلی کی مشہور زمانہ کمپنی ENI اپنی فنی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لا رہی ہیں اور اپنی کوششوں کے کامیاب ہونے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں جس کی خوش خبری جلد ہی ملک و قوم کو ملنے والی ہے۔ امریکی کمپنی کی شمولیت سے امریکہ United States جیسی بڑی طاقت کو شکوہ نہیں رہے گا کہ اس سے بالا بالا اس کی متحارب طاقتوں کو اس پروجیکٹ سے فائدہ دیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia گوادر Gawadar میں 20 ارب ڈالر billion dollor کی لاگت سے آئل ریفائنری oil refinery لگانے کے معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia کی اس قدر بھاری سرمایہ کاری کے بعد خلیجی ممالک بھی پاکستان Pakistan میں توانائی سے متعلق اپنے پروجیکٹس پر سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہوئے توانائی کے حصول میں تعاون اور اس شعبے کی بہتری کیلئے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیش کش کریں گے‘ جو قبول کی جانی چاہئے۔ سعودی عرب Saudi Arabia کی آئل ریفائنری oil refinery پاکستانی سمندری حدود سے ملنے والے خام پٹرولیم کو صاف کر کے قابل استعمال بنانے کے بھی کام آئے گی اور ہماری تیل و گیس کی درآمدات کا حجم بھی کم ہو جائے گا‘ جس کا فائدہ ہماری معیشت کو پہنچے گا اور ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر اطمینان بخش حد تک بہتر اور مستحکم ہو جائیں گے‘ جو ظاہر ہے کہ اس وقت نہیں ہیں اور اسی وجہ سے حکومت کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

 258