ہمارے بزرگ vs اولڈ ہومز

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

04 اپریل 2019

Hamre buzrg vs old home

بزرگوں کےاحترام اور مقام سے کون واقف نا ہوگا ؟؟ کیا پڑھے لکھے کیا ان پڑھ سب ہی بزرگوں کے ادب واحترام سے واقف ہی ہوتے ہیں۔۔ان بزرگوں میں سب بزرگ شامل ہیں چاہے والدین ہوں ،رشتے دار یا ہمسایے ۔لیکن صد افسوس ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے بزرگوں کے ساتھ بڑا برا رویہ رکھتے ہیں ۔۔ان کا خیال نہیں رکھتے بلکہ خود پر بوجھ سمجھتے ہیں۔۔میری نظروں سے کوئی ایک آدھ نہیں کئی ایسے بوڑھےچہرے گزرے ہیں جو انتہائی کسمپرسی اور بے بسی کے عالم میں اپنے دن پورے کر رہے تھے۔۔اپنی ہی اولاد نے قابل رحم حالت پر پہنچا دیا ۔

۔ ۔یہ واحد موضوع ہے جس پر لکھتے ہوے جھجھک رہی تھی ۔۔سمجھ نہیں آرہی کس طرح اس درد کو بیان کروں جو میں نے محسوس کیا ۔۔جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔میرا واحد مقصد یہی ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد شاید کوئی اپنے اردگرد غور کرے اور ایسے بزرگوں کی مدد کرے جو خود داری کی وجہ سے مدد بھی نہیں مانگتے ۔

۔پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ اندرون شہر جہاں میں پہلے پہل رہائش پذیر ہوئی دو تین مکان چھوڑ کر ایک بڑے خوبصورت سے مکان کے باہر سیڑھی پر اکثر مجھے ایک بزرگ عورت بیٹھی نظر آتیں۔۔بزرگوں سے مجھے بچپن سے ہی کافی انس محسوس ہوتا ہے ۔اور ہر دور میں میری دو چار نانی دادی ٹائپ دوستیں بھی رہیں ۔۔میں ان کے سامنے سے گزرتی تو احتراما سلام ضرور کرتی جسکا یہ بہت گرم جوشی سے جواب دیتیں۔

۔ایک دن شدید گرمی میں انکو گلی میں بیٹھا دیکھ کر مجھ سے رہا نا گیا اور میں ان کے پاس پہنچ گئی۔۔سلام کے بعد دریافت کیا کہ اتنی گرمی میں باہر کیوں بیٹھی ہیں؟؟ انہوں نے ٹال دیا کہ اندر گرمی لگتی ہے اس لیے باہر ہوں۔۔میں نے اوپر نگاہ ماری اس گھر میں دو تین اے سی لگے ہوے تھے۔۔یہ بار بار پانی پیتیں اور گیلا کپڑا منہ پر پھیرتیں ۔۔مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ بات کچھ اور ہے۔۔

میں نے اگلے دن مالک مکان عورت سے ان کے متلعق دریافت کیا ۔۔انہوں نے جو تفصیل بتائی میرا دل غم سے بھر گیا۔ معلوم یہ ہوا کہ ان محترمہ کی ایک ہی بیٹی تھی۔اور یہ مکان بزرگ نے بیوہ ہونے کے بعد بیٹی کے نام کردیا اور بیٹی کے لیے اب ماں ناقابل برداشت تھی۔۔بیٹی کے مطابق ماں گھر میں کھانستی ہیں جراثیم پھیلاتی ہیں بچوں میں بیماری پھیل جاے گی لہذا ماں کو اجازت نا تھی کہ دن میں اندر داخل ہوں۔ رات کو خدا جانے سونے کیسے دیا جاتا تھا۔

۔بہرحال مجھے ایک بیٹی سے ایسی درندگی کی امید نا تھی۔۔رات کو بے چین China رہی بار بار بزرگ کا خیال آتا۔۔اگلے ہی دن میں ان کے گلی میں بیٹھنے کے بعد ان کے پاس پہنچ گئی۔۔ان کو احساس نا دلانا چاہتی تھی کہ میں حقیقت سے واقف ہوں لہذا ان کو اپنے گھر چلنے کی دعوت دی۔۔انہوں نے پس وپیش کے بعد رضامندی دے دی۔۔میں۔ان کو گھر لے آئی کھلایا پلایا اور تسلی ہوئی کہ۔گرمی سے بچ گئی ۔۔لیکن۔بزرگ نے کچھ دیر بعد اجازت چاہی۔۔میں نے اصرار کیا کہ روز آجایا کریں ۔یہ۔مسکرا دیں۔۔ہامی نا بھری۔۔خود داری آڑے آ رہی تھی۔

۔اب میں اکثر کچھ نا کچھ بنا کر بچوں کے ہاتھ ان کو بھجوا دہتی۔یہ شکریہ کے ساتھ لے لیتیں۔۔دل چاہتا کہ ان کی بیٹی کو جا کر سمجھاوں لیکن پھر ہمت نا پڑتی کہ سگی ماں کی اہمیت نہیں میری کیا ہوگی۔۔ان کی بیٹی میری سوچ سے بھی زیادہ سفاک نکلی۔۔جیسے ہی اس کے علم میں آیا کہ ان کی والدہ کا خیال رکھا جا رہا ہے ۔۔اس نے ماں سے لڑائی کی کہ میری ناک کٹوا رہی ہو وغیرہ وغیرہ۔۔

اس کے بعد بزرگ نے میرا بھجوایا ہوا کھانا لینے سے جواب دے دیا بچوں کو بھی منع کردیا ۔۔مجھے دکھ تو ہوا لیکن کچھ نا کرسکتی تھی۔۔گرمیاں۔ختم ہوئیں تو مجھے کچھ تسلی ہوئی کہ اب گرمی میں تو نا بیٹھیں گی۔۔لیکن یہ تسلی بہت کم وقت ہی قائم رہی۔۔شدید سردی شروع ہوئی اور یہ مجھے گلی میں کانپتی ہوئی نظر آنے لگیں۔۔ان کے سامنے سے گزرتی تو پاوں شرمندگی کے احساس سے من من بھر کے ہوجاتے۔ سلام کے بعد میں رک جاتی۔۔ان کا ہاتھ تھام لیتی کہ چلیں میرے گھر لیکن یہ جھجھک کر معذرت کرلیتیں بلکہ خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر دیکھتیں کہ کوئی دیکھ نا لے۔میں ان کا گریز دیکھ کر بوجھل دل سے سست روی سے آگے بڑھ جاتی.

۔مجھے حیرت ہوتی ان بزرگ کی یہ حالت باقی لوگوں پر کوئی اثر کیوں نہیں ڈال رہی۔۔ان کی تکلیف کسی کو کیوں نہیں دکھائی دے رہی جب جب مجھے شدید سردی محسوس ہوتی میں بے اختیار ان کا سوچتی پھر یہ ہوا کہ دوسرے علاقے میں شفٹنگ ہوئی تو وہ گھر چھوڑنا پڑا ۔آخری بار ان سے ملنے گئی لیکن وہ موجود نا تھیں۔۔پوچھنے ہر بتایا گیا کہ کسی رشتےدار کے گھر گئی ہیں شام تک آئیں گی۔۔نئے مکان میں شفٹنگ کے بعد کچھ عرصہ تو مصروف رہی ۔۔ایک دن مارکیٹ سے خریداری کے بعد قدم پرانے علاقے کی طرف اٹھے ۔نانی کا حال احوال جاننا تھا۔۔وہاں پہنچی تو کیا دیکھتی ہوں نہایت کمزور اور اتنی نحیف و نزار کہ اب ان سے بیٹھا بھی نہیں جا رہا تھا۔۔دیوار کا آسرا لے کر بیٹھی تھیں۔۔مجھے ان کی بیٹی پر شدید غصہ آیا ۔

۔میں پھٹ پڑی ۔۔کہ کیسی اولاد ہے آپ کی؟ اسکو سمجھاتا کیوں نہیں کوئی؟؟ ان کی آنکھوں میں آنسوتیرنے لگے اور انہوں نے اپنے لرزتے ہاتھ میرے آگے جوڑ دیے اور اشارہ کیا کہ تم جاو بس۔۔میں نے تڑپ کر ان کےہاتھ علیحدہ کیے۔۔کچھ رقم زبردستی ان کو تھمائی اور بوجھل دل کے ساتھ گھر کو چل دی۔۔لیکن سارا رستہ ایک ہی چیز سوچی ۔۔۔یہاں اولڈ ہوم کیوں نہیں؟؟

اگلی بار جب گئی بزرگ وفات پا چکی تھیں۔۔اور یہ ایسی موت تھی جس پر مجھے افسوس نا ہوا ۔بلکہ تسلی ہوئی۔۔کوئی تین سال پرانا واقعہ ہے۔۔اپریل کا اختتام گرمی کی شروعات ۔۔گیارہ بجتے ہی سورج آنکھیں دکھانے لگا۔۔میں کپڑے دھو کر چھت پر لٹکانے گئی۔۔غیر ارادی طور پر باہر گلی میں نظر پڑی ۔۔ایک بزرگ بیٹھی تھیں۔۔میں کپڑے ڈالتے ہوے ان ہر وقتا فوقتا نظر ڈال رہی تھی ۔۔بزرگ کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھے یہ بار بار گنتیں اور پریشانی سے سر پکڑ لیتیں۔۔اور دوبارہ سے گننے لگتیں۔۔مجھ سے نا رہا گیا ۔۔نیچے جا کے فریج سے پانی نکالا گیٹ کھولا ان کو سلام کرکے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔اور ان کو ٹھنڈا پانی پیش کیا۔۔انہوں نے مشکور ہو کر پانی تھام لیا ۔۔میں نے سرسری سا لہجہ بنا کر استفسار کیا کہ آپ پریشان لگ رہی ہیں۔۔انہوں نے جھجھکتے ہوے جو پریشانی بتائی میرا کلیجہ منہ کو آگیا (جاری ہے)

 137