پنڈی پواینٹ بمعہ وائلڈ لائف پارک

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

03 اپریل 2019

pandi point bama wirldlife park

اس سے پہلے کے میں تھک ہار کر گر جاتی ایک پتھر پر آرام کی غرض سے بیٹھ گئی ۔۔اب سفر اتنا ہوچکا تھا کہ پارک دیکھے بغیر واپس جانا بھی منظور نا تھا ۔ سامنے سے ایک فیملی آتی ہوئی نظر آئی۔۔اپنے جیسے انسانوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہم اکیلے نہیں تھے انکو دیکھ کر ڈھارس بندھی۔۔بھائی نے ان سے پارک کے متعلق دریافت کیا انہوں نے بتایا بس اب تو پہنچ گئے ہو۔۔یہ سننے کی دیر تھی اس خبر نے ہم میں گویا نئی روح پھونک دی تھی۔

۔خوشی خوشی اٹھ کر سفر دوبارہ شروع کردیا ۔کوئی دس منٹ کی مزید ہایکنگ کے بعد ایک بڑا سا جنگلہ نظر آیا ۔۔اور یہ ہرڈل کافی آگے تک جا رہی تھی۔۔ہم متجسس ہوکر اس جنگلے کی طرف بڑھے کہ دیکھا جاے اس جنگلے کے پار کونسا جانور ہے۔۔سب سے پہلے میری نظر اس جانور پر پڑی جس کی بیک سائیڈ ہماری طرف تھی۔۔میں نے سر پیٹ لیا

" او خدایا یہ تو بھینس ہے ۔۔توپوں کا رخ بھائی کی طرف کرلیا " ابو ٹھیک تم کو الو کا پٹھا کہتے ہیں۔۔یہ بھینس دکھانے یہاں تک لے آئے؟؟

نامرادو بہاولپور میں کم تھیں کیا؟؟؟ "

میرا غصہ کسی صورت کم نا ہورہا تھا بھائی سٹپٹا کر مزید آگے ہوا۔۔ غور سے دیکھنے کے بعد بولا

"نہیں آپی یہ بھینس سے بڑا ہے بھینس اتنی بڑی نہیں ہوتی"

میرا اشتعال ہنوز قائم تھا تنک کر اس کی بات کاٹی

" بھینس نہیں تو بیل ہوگا۔۔ڈائنو سار بہرحال نہیں ہے یہ ۔۔ہاے نکمے خدا پوچھے تجھ سے ۔۔ایک بیل دیکھنے کے لیے اتنا سفر۔"

ہم بہن بھائی اپنے واویلے میں اتنے گم ہوے کہ وہ جانور ایک دم سے مڑا اور ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا ۔۔۔بھابھی نے چیخ ماری

" پیچھے ہو جاو ۔۔ہائے اللہ یہ بیل نہیں ہے آپی "

ہم بہن بھائی نے چونک کر پیچھے دیکھا اتنی ہی تیزی سے بوکھلا کر جنگلے سے پیچھے ہٹے ۔۔یہ ایک یاک تھا ۔۔جو پہلی بار لائیو دیکھا۔۔بھائی نے فخریہ انداز سے میری طرف دیکھا

"ہاں جی محترمہ یہ بھینس ہے یا بیل؟؟"

میں نے شرمندگی چھپاتے ہوے وضاحت دی

" ہاں تو ان کا ہی پیٹی بھائی ہے ایک ہی خاندان سے ہے ایک طرح سے بیل ہی ہوا "

یاک بالکل سکون سے کھڑا ہماری باتیں سنتا رہا گویا محفوظ ہو رہا تھا۔۔بھائی نے اس کے ساتھ سیلفی بنائی ۔اب ہم آگے روانہ ہوگئے۔۔اب جا کے پارک کا نقشہ واضح ہوا۔اور دل خوشی سے بھر گیا نہایت خوبصورت پارک۔اس جگہ درخت بہت ہی خوبصورت تھے سیکوینس کے ساتھ اور اونچے اونچے ۔۔ان کے درمیان میں پیارے پیارے راستے بنا دیے گئے تھے ۔تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بیٹھنے کے لیے دیدہ زیب چبوترے بنے تھے۔۔بلاشبہ اس پارک کی خوبصورتی نے ساری تھکن ہوا کردی تھی۔

۔کچھ آگے گئے ایک بڑا سا پنجرہ جس میں لاتعداد مور قید تھے۔۔اتنے سارے مور اکھٹے پہلی بار دیکھے۔۔کچھ موروں خوش آمدید کرنے کے لیے اخلاقا ورائٹی شو شروع کردیا ۔ نظر ان موروں پر جماے میں نے بھائی کو مخاطب کیا "اچھا ۔۔۔یہ وہی مور ہیں غالبا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا ؟؟

چلو شکر آج ہم نے دیکھ لیا ۔۔"

بھائی میری بات ہر ہنستے ہوے آگے بڑھا جوں ہی پنجرے کے مزید نزدیک ہوا چند بزرگ مور چیخنے لگے ان کی آواز اتنی تیز تھی کہ سارا جنگل گونج اٹھا ۔۔بھائی بد حواس ہوکے پیچھے ہٹا ۔۔یہ فورا چپ ہوگئے۔۔بھائی کو شرارت سوجھی ایک۔بار پھر قریب ہوا ۔یہ پھر چیخنے لگے ۔۔بھائی بدمزہ ہوکر پلٹا اور ان موروں کو لقب دیا

"اوچھے " میں ان کو کھا تھوڑی رہا تھا ۔۔سیلفی ہی بنانی تھی ۔"

ہاں تو سمجھ جاو نا کہ وہ تمہارے ساتھ سیلفی نہیں بنوانا چاہتے پرائیوسی ایشو ہوگا "

میں نے کمنٹ دیا ۔۔اگلے جنگلے کی طرف روانہ ہوے اس میں غریب شریف سے ہرن اٹھکیلیاں کر رہے تھے ان کی صحت البتہ اچھی نا تھی۔۔ہم اسی جنگلے کے ساتھ ساتھ چلتے گئے ۔۔بالکل سامنے نہایت مضبوط سی ہرڈل نظر آئی ۔۔جانور نظر نا آیا ۔۔ مزید آگے ہوے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔۔اچانک ایک درخت کے پیچھے سے ہلچل ہوئی اور ہم لاشعوری طور پر پیچھے ہٹے۔۔یہ ایک ہٹا کٹاشیر تھا ۔۔بے نیازی سے چلتا ہوا ہماری طرف بڑھا ۔۔میں نے بیک سائیڈ پر موجود جنگلے میں ہرنوں کا ری ایکشن دیکھنے کے لیے گردن موڑی ۔۔یہ سب غایب تھے ۔۔مجھے ان کی کمزوری کا سبب سمجھ میں آگیا ۔۔جی بھر کر بدمزہ ہوئی کہ شیر اور ہرن کے پنجرے آمنے سامنے کیوں بناے گئے۔۔موت سامنے رہتی ہو تو کون موٹا ہوگا ۔؟؟

۔یہاں اور لوگ بھی جمع تھے جو شیر کی دہاڑ سننا چاہتے تھے۔۔گارڈ ایک موٹا سا ڈنڈہ لے کر آیا اور جیسے ہی پنجرے کے نزدیک آیا شیر نے ایسی غضب ناک گرج دار آواز نکالی کہ ہمارے ساتھ ساتھ سارا جنگل سہم اٹھا۔۔میں نے پھر سے گردن گھمائی ایک ہرن نظر آیا جو سہم کر جنگلے میں پیوست ہوکر پھٹی پھٹی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔مجھے پھر سے ان ہرنوں پر ترس آیا۔۔بے شک دل دہلا دینے والی دہاڑیں تھیں۔۔وایبریشن سے رونگٹے کھڑے محسوس ہوتے۔۔

میں نے بھائی سے منت کی۔چل اور جانور دیکھتے ہیں۔۔آگے گئے ایک پنجرے پر رکے یہ خالی تھا۔۔ہم نے اس پنجرے پر لگی ڈسکرپشن پڑھی ۔۔پتہ چلا کوئی انمول پرندہ قید ہے۔۔غور کیا دڑبے میں کچھ تھا ۔۔لیکن اس کو نکالتے کیسے؟؟ بہتیرا جھانکا کچھ نظر نا آیا ۔آخر کار بڑے بھائی نے جا کر دوسری طرف سے اس ڈربے پر چھوٹے موٹے پتھر پھینکے۔۔ایک پرندہ بدحواس ہوکر باہر نکلا ۔۔اور ہم جی بھر کر بدمزہ ہوے ۔۔کیونکہ یہ زیادہ سے زیادہ رنگ برنگی مرغی تھی اور کچھ نہیں۔۔غالبا اس نے بھی اپنے متعلق ڈسکرپشن پڑھ رکھی تھی لہذا شرمندگی سے منہ چھپاے پڑی تھی۔

ایک پنجرے میں پیارے سےخرگوش تھے ۔آگے دو چار اور پنجرے بھی تھے لیکن ان میں دور سے ہی پرندے نظر آئے۔۔ہم وہاں نا گئے اور واپسی کی ٹھانی کیونکہ اس جنگل میں شام ہوجاے یہ ہمیں گوارا نا تھا۔۔واپسی کے سفر پر آگہی کا عذاب بھی ساتھ تھا کہ بہت چلنا ہے۔۔چئیر لفٹ نے ہمیں واپس اسی جگہ چھوڑا جہاں سے اٹھایا تھا ۔۔اب مجھے زیادہ خوف محسوس نہیں ہوا ۔۔کیونکہ نا بادل تھے نا تیندوا نظر آیا۔۔بہرحال تجربہ مجموعی طور پر اچھا رہا ۔۔بس ایک مشورہ انتظامیہ کو دینا تھا ۔۔یہ بورڈ ہٹا دو کم بختو ۔۔جن پر تیندوے اور بجلی گرنے کی معلومات درج ہے۔۔

 134