پنڈی پواینٹ بمعہ وائلڈ لائف پارک

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

02 اپریل 2019

pandi point bama worldlife park

مری میں ہوں اور چئیر لفٹ کا دیدار نا کیا جاے تو سفر بے مزہ رہ جاتا ہے۔ اس پر بیٹھنا بھی کافی دل گردے کا کام ہے اور سب سے زیادہ خوفناک پتریاٹہ والی چئیرلفٹ کو قرار دیا جاے تو کچھ غلط نا ہوگا ۔۔کافی دور سے ہی ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک یہ رینگتی ہوئی نظر آرہی ہوتی ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میری اس چئیر لفٹ کو دیکھ کر ہی روح فنا ہونے لگی کہ میں اس موت کے منظر پر ہرگز سواری نہیں لونگی۔۔اوپر نظر پڑتے ہی چکر آنا شروع ہوجاتے اور مجھے پکا یقین تھا کہ جوں ہی میں اس پر سواری کرونگی ضرور "فائنل ڈیسٹینیشن" والا کوئی سین بن جاے گا۔۔لہذا گھر والوں کے لاکھ اصرار پر بھی میں نے جواب دے دیا۔۔

بھائی سخت خفا ہوے اور اگلے دن پنڈی پوائنٹ لے گئے کہ یہ چھوٹی سی چئیر لفٹ ہے سفر بھی کم ہے ۔۔اس پر آپ کو ہمارے ساتھ ہر صورت سوار ہونا پڑے گا۔۔انہوں نے مجھے سبز باغ بھی دکھائے کہ جہاں یہ لفٹ سٹاپ کرے گی وہاں ایک خوبصورت سا وائلڈ لایف پارک ہے اور سارے جانور قدرتی ماحول میں دیکھنے کا مزہ آے گا۔

اب مجھے تھوڑی دلچسپی محسوس ہوئی اور میں نے بادل ناخواستہ حامی بھر لی۔فورا سے بیشتر ٹکٹس خرید لیے گئے اور ہمیں لائن میں کھڑا ہونے کی ہدایت ملی۔۔جوں جوں میری باری نزدیک آتی گئی میں بدحواس ہوتی گئی۔ دماغ نے اپنی مہارت دکھائی ہر وہ واقعہ سامنے لا کھڑا کیا جس کو یاد کرکے مزید خوف زدہ ہوتی گئی۔۔ اور صحیح معنوں رونگٹے "فروزن "فلم کے یاد آنے پر کھڑے ہوگئے۔۔جس میں چئیر لفٹ کے خراب ہونے پر سواریاں آدم خور بھیڑیوں کا شکار بنتی ہیں ۔۔

میری باری آچکی تھی۔۔واپس دیکھا کہ بھاگ جاوں لیکن تب تک واپسی کا راستہ بند ہوچکا تھا ۔۔اور میں گارڈز کی ہدایت کے مطابق چئیر لفٹ پر اچھل کر سوار ہوچکی تھی۔۔۔ایک معرکہ سر ہوا تسلی ہوئی ۔آگےکے سفر میں میرے لیے امتحان شروع ہوچکا تھا۔لفٹ ایسے کڑ کڑ کرتی چل رہی تھی گویا اب ٹوٹی کے تب۔ ایک جگہ اونچائی سے گہرائی میں آئی اتنی نیچے کہ جمپ لگا کر بندہ آرام سے اتر سکتا تھا۔۔لیکن سامنے ہی بورڈ لگا تھا

" نیچے مت اتریے گا تیندوے بھی موجود ہیں"۔۔

اس تحریر پر نظر پڑتے ہی میرا رہا سہا سکون غارت ہوگیا ۔۔اور متوحش نظروں سے ادھر ادھر تیندوےکی تلاش میں نظر دوڑائی۔۔اور اسی پریشانی سے ساتھ بیٹھے بھائی سے مخاطب ہوئی۔۔

" جب یہاں تیندوے تھے تو چئیر لفٹ کیوں یہاں بنائی گئی؟؟ ظالمو بے موت مرواوگے ۔۔۔"

بھائی میرے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر بہت محفوظ ہوا

"اوہ نہیں آپی مذاق میں لکھا گیا ہے یہ بورڈ ۔۔کوئی تیندوا نہیں ہے یہاں"

میں نے غصے سے جواب دیا

" لو ہمارا اور ان کا مذاق تھا بھلا؟؟ پہلے اس غیر محفوظ جھولے پر بٹھا دیا اور آگے لکھ دیا کہ تیندوے بھی ہیں یہاں۔۔۔بے غیرتی ہے یہ تو سراسر ۔"

تیندوے کا غم ابھی حواسوں سے نا اترا تھا کہ آگے ایک اور سانحہ میرا منتظر تھا ایک درخت سامنے نظر آیا جل کر خاک ہو چکا تھا ۔۔شاید اسکو آگ لگی تھی یا کوئی بیماری۔۔لیکن انتظامیہ کو اگلوں کا دل دہلا کر جو قلبی سکون ملنا تھا وہ کیسے ملتا اگر میں صرف بیمار درخت سمجھ کر اگنور کرتی۔۔لہذا اس درخت پر بھی انتظامیہ کی طرف سے ایک تحریر موجود تھی جس کا متن کچھ یوں تھا

" اس درخت پر بجلی گری ہے"

میری آنکھیں خوف سے پھیل گئی۔۔اور جنہوں نے بھی یہ اطلاع یہاں لکھی تھی ان پر سخت غصہ آیا۔۔با آواز بلند تبصرہ کیا

" حد ہے بےغیرتو کہاں لے آئے مجھے۔۔۔ یہاں تو بجلیاں بھی گرتی ہیں "

بھائی نے بدمزہ ہوکر مجھے ٹوکا

" یار آپی بجلی کہاں نہیں گرتی بھلا"

میں نے اس کی بات کاٹ کر جارحانہ انداز اپنایا

" جب ہر جگہ گرتی ہے تو یہاں کیوں خصوصی طور ہر چسپاں کیا گیا ؟؟ ۔۔ضرور یہاں زیادہ بجلی گرتی ہوگی۔۔ میری بات لکھ لو یہ چئیر لفٹ انتظامیہ ازیت پسند دہشت گرد ہیں "

۔بھائی نے دانت نکال لیے اور میں نے ڈرتے ڈرتے آسمان پر نظر ڈالی ۔بادل نظر نا آے جان میں جان آئی ۔۔وقفے وقفے سے موجود کھمبوں پر چرخیوں سے جب لفٹ گزرتی ایسی دلدوز چیختی چنگھاڑتی آواز نکالتی کہ اس پہاڑ میں دور دور تک سنائی دیتی ہوگی۔۔میں مزید بد ظن ہوئی اور سوچا

"اتنے پیسے بٹور لیتے ہیں مر کے ان چرخیوں کو آئل یا گریس کیوں نہیں لگاتے ؟؟ "

اس سے پہلے کہ میں مزید بےزار ہوتی چئیر لفٹ کا سٹاپ آگیا ۔۔میں نے تیزی سے اتر کر جان چھڑوائی۔دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ نا تیندوا ٹکرایا نا بجلی گری خومخواہ فساد پر مبنی آگہی لکھ کر لگانا ضروری تو نا تھا۔۔ہم بہن بھائی اس بورڈ کی طرف متوجہ ہوے جس پر پارک کا ہایکنگ ٹریک پر مبنی نقشہ بنا تھا۔۔ میپ دیکھ کر قطعا اندازہ نا ہوا کہ ہایکنگ اچھی خاصی نکلے گی۔۔اور ہم نے اس ٹریک پر سفر شروع کردیا ۔۔

گہری خاموشی کا عالم تھا ۔یا ایک آدھ پرندے کی آواز آتی یا ہماری آوازیں گونج رہی تھیں۔۔مجھے خوف محسوس ہونے لگا اور اسی خوف کے تحت بھائی سے پوچھ بیٹھی" تیندوے اگر وہاں تھے تو یہ جگہ بھی کوئی خاص دور تو نہیں ہے ۔۔چیتے کی تو دو چھلانگوں کی مار ہے "

اس نے مجھے پھر سے تسلی دی کہ یہاں کوئی تیندوا نہیں۔۔میں نے بے یقینی سے اس کی رائے سن تو لی۔۔لیکن دل سے ڈر نا گیا۔۔ہمیں چلتے چلتے آدھا گھنٹہ ہوگیا ۔پارک کے کہیں آثار بھی نا تھے۔۔اب ہم تھکنا شروع ہوگئے۔۔بھائی سے بار بار پوچھتی"بے شرم انسان کہاں ہے تمہارا پارک ؟؟ "

بھائی عاجز ہو کر جواب دیتا بس آنے والا یے۔۔"مزید ہایکنگ کے بعد پانی کی۔بوتلیں بھی ختم ہوگئیں۔اور ٹانگیں بھی جواب دینے لگیں۔۔میں نے واویلا مچا دیا ۔۔بھائی کو پھر سے سینگوں پر اٹھا لیا ۔

"او نکمے انسان راستہ بھول تو نہیں گئے؟؟ پتہ چلے پارک نا آئے اور شام تک چلتے چلتے ہم ایبٹ آباد پہنچ جائیں۔۔"

بھائی نے ہنس کے تسلی دی کہ۔بس پہنچ گئے لیکن اس کے چہرے پر تشویش اب نظر آرہی تھی۔۔۔(آخری حصہ کل)

 134