ہاوسنگ اسکیم

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

30 مارچ 2019

Housing Sakeem

ہاوسنگ سوسائیٹیز سے کون واقف نا ہوگا۔بڑے چھوٹے ہر شہر میں وافر دستیاب ہیں ۔جدید سہولیات کی وجہ سے رہایش کے لیے بھی کافی پسند کی جا رہی ہیں۔۔وہ لوگ جو سوفسٹیکیٹڈ ماحول پسند کرتے ہیں۔۔تمام سہولیات بمعہ سیکیورٹی چاہتے ہیں ان کی ڈیمانڈز کے عین مطابق اسکیم ان کو آرام سے مل جاتی ہے ان ہاوسنگ اسکیمز کی صورت۔

بڑے شہروں میں تو یہ سوسائیٹیز کافی پہلے سے قدم جما چکی تھی ۔۔بہاولپور البتہ پچھلے چند سالوں سے اس کارخیر میں شامل ہوا ہے۔۔اور اب تو یہ عالم ہے بڑی بڑی اسکیمز سے لے کر چنی منی ہاوسنگ اسکیمز تک دھڑا دھڑ مارکیٹ میں آچکی ہیں ۔۔DHA پر کام شروع ہوچکا ہے اور بحریہ بھی سنا ہے بہت جلد یہاں قدم رکھنے والا ہے۔

۔پھر۔۔۔ہوگا یہ کہ شہر کی خوب صورتی اور سہولت میں تو اضافہ ہوجاے گا البتہ چھوٹی موٹی سوسائیٹیز یا نارمل جگہ پر رہنے والے لوگ جو پہلے آرام سے رہ رہے ہونگیں ۔۔بعد میں وہ بات نہیں رہے گی کافی ساروں کا سکون یہ خوبصورت جگہیں غارت کر دیں گی۔۔

۔اب تک سب سے زیادہ محنت جس ہاوسنگ سکیم پر کی گئی۔۔ماڈل ایونیو نام کی یہ ہاوسنگ اسکیم اپنی طرف توجہ کھینچنے میں کامیاب رہی۔ اے پی برانچ کینال کے ساتھ واقع ہے۔جدید سہولیات سے آراستہ باکمال قسم کا شاہی سا ایکسٹیرئر ۔۔اینٹیک ڈیزاین کےبڑے بڑے پلرز دونوں طرف بڑے بڑے شیروں کے مجسمے۔۔خوبصورت سا پارک اور سڑک کے دونوں اطراف میرے پسندیدہ لاتعداد سٹریٹ لیمپس جو کہ زیادہ تر اٹلی کے سٹریٹ ریسٹورانٹس میں پاے جاتے ہیں۔اس کے مکمل ہونے کی دیر تھی بہاولپوریوں کے تو مزے کھل گئے ۔۔آئے روز یہاں برائڈل فوٹو شوٹ ہونے لگا ۔

۔کچھ لوکل سنگرز نے یہاں اپنے گانے بھی ریکارڈ کراے اور ماڈل ایوینو کو خاطر خواہ پبلسٹی مفت میں ملتی گئی ۔۔ ماموں نے وہاں گھر بنایا ہمیں دعوت دی گئی ۔اس ساری سوسائٹی کا نفیس سا سیٹ اپ دیکھ کر بڑا اچھا لگا۔

۔پرسکون سروسبز بہترین ماحول ۔۔واپس آئے تازہ تازہ اثر پڑا ہو تھا ۔۔باتوں باتوں میں شوہر کو مخاطب کیا

" مجھے وہ والا لیمپ چاہیے جو ماموں کے گھر کے باہر لگا ہے "

شوہر نے حیرت سے مجھے دیکھا " کیا کروگی اس کا ؟؟ "

میں نے بد مزگی سے انکو دیکھا " کیا کرتے ہیں سٹریٹ لیمپ کا ؟؟

" میں اپنے گیٹ کے ساتھ لگاونگی " ساتھ ان کی معلومات میں اضافہ کیا ۔

" پاگل تو نہیں ہوگئی ہو وہ کھلی اور چوڑی سڑک پر لگتا ہے اور کیا پتہ یہاں انتظامیہ لگانے بھی دے گی یا نہیں"

انہوں نے میرا دھیان ہٹانا چاہا ۔۔لیکن میں ان لیمپوں پر عاشق ہوچکی تھی میرا دھیان کہاں ہٹنا تھا میں نے پھر سے ضد دہرائی

" میں کچھ نہیں جانتی مجھے ویسے لیمپ والا کھمبا لگوا کر دو "

شوہر نے طنزیہ نظروں سے دیکھا " ایک چوکیدار بھی لگوا نا دوں پھر گیٹ پر ؟؟ ورنہ تو دو دن بعد ہی کوئی نشئی آتے جاتے اکھاڑ کندھے پر لاد کر چلتا بنے گا "

اب میں جواب دینے کی بجاے ناراضگی سے ان کی شکل دیکھنے لگی ۔۔ اب عاجز ہو کر بولے "اچھا دماغ نا کھاو ڈھونڈ کر لا دونگا ۔۔اور خبردار جو تم نے بعد میں کہا کہ اب ایک شیر کا مجسمہ بھی لگا دو۔"

۔میں نے یقین دلایا کہ نہیں بس اسی لیمپ والا کھمبا چاہیے ۔۔اب معاملہ یہ ہے کہ ادھر ڈی ایچ اے اور بحریہ پر کام شروع ہورہا ہے ادھر شوہر موصوف پریشان کہ اگر بیگم نے بحریہ مکمل ہونے کے بعد دیکھ لیا اور کہا گھر میں پیرس والا ٹاور لگا دو تو میں کہاں جاونگا ۔

ان سوسائیٹیز سے متاثر ہوکر ایک جذباتی نے شہر سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی اسکیم بنا لی۔۔دو یا حد سے حد تین ایکڑ لگی مجھے تو ۔۔انٹرنس کو شاندار بنانے کی کوشش کی گئی لیکن بنانے والے بھی یقیناً نیا نیا سیکھ رہے تھے ۔۔اصولا چھوٹی اسکیم تھی تو چھوٹے ڈیزاین ہی مناسب لگتے لیکن بنانے والوں نے پہلے پہل جتنا بڑا گیٹ تھا تقریبا اتنا ہی بڑا ایک سفید گھوڑے کا مجسمہ گیٹ کے ساتھ فٹ کرکے گویا یونیک۔نیس کا سنگ بنیاد ڈالا۔۔

اب ہوا شاید یوں کہ کسی ٹرالر میں سامان جب اندر جانے لگا ہوگا گھوڑے نے ضرور ٹانگ اڑائی ہوگی۔۔اگلی دفعہ گزرنا ہوا تو گھوڑا گیٹ سے اندر تھوڑا آگے چوک میں نصب تھا۔

۔پھر خدا جانے چوک پر کیا مصیبت پیش آئی ۔ سوسائٹی کے آخری کونے میں یہ گھوڑا دیکھا ۔۔ اس چھوٹی سی سوسائٹی کا گھوڑا غالبا اتنا بڑا تھا جہاں لگاتے ایک آدھ کمرشل دکان کی جگہ مل لیتا یہ ادھر سے اٹھا کر دوسری جگہ لگا دیتے ۔۔اس کا جنازہ پوری سوسائٹی میں دس جگہ فٹ کرنے کے بعد بھی انکو چین China نا آیا اور آخری بار یہ گھوڑا مجھے ڈھونڈنے پر بھی کہیں نظر نا آیا ۔۔خدا جانے شک تو یہی پڑتا ہے کہ منحوسوں نے زمین بچانے کے چکروں میں دفن تو نہیں کردیا ۔۔۔

بہرحال سوسائیٹیز کی سہولیات اور آسانی اپنی جگہ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ شہروں میں آبادی کو مہذب شکل دی جاے۔۔سواے فیصل آباد کے ہمارے کسی شہر کی آبادکاری بھی منظم نہیں۔۔اور اگر حکومت اس سلسلے میں اقدامات نہیں کرسکتی تو پھر سوسائیٹیز ہی اچھی۔۔

 137