مخمصے

جر گہ - سلیم صافی

30 مارچ 2019

Magmasee

مسلم لیگ (ن) کا سب سے بڑامخمصہ یہ ہے کہ شریف ایک تھے اور ہیں مگر ان کی سیاسی سوچ ایک نہیں۔ ایک سوچ میاں نوازشریف اور مریم نواز Maryam Nawaz کی ہے اور دوسری میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور ان کے صاحبزادوں کی ہے ۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور چوہدری نثار علی خان کی سوچ یہ تھی کہ ملک چلانے والوں سے بناکے رکھی جائے جبکہ عرفان صدیقی اور خواجہ آصف وغیرہ نے میاں نوازشریف کی سوچ ایسی بنالی کہ جیسے پاکستان Pakistan ترکی اور وہ یہاں کے طیب اردوان ہیں۔ وہ دن رات ان کے کان بھرتے رہے کہ میاں صاحب قدم بڑھائو ، قوم تمہارے ساتھ ہے لیکن جب انہوں نے قدم بڑھادئیےانہیں سر کے بل گرادیا گیا۔ انتخابات سے انہیں باہر کرادیا گیا۔ یہ سب غائب ہوگئے۔ خواجہ آصف نے کیمپ تبدیل کیا اور شہباز شریف Shehbaz Sharif کے فلسفے کے ہمنوا بن گئے۔ مصائب میاں نوازشریف اور ان کے خاندان یا پھر حنیف عباسی جیسے چند ساتھیوں کے حصے میں آئے۔ چنانچہ نوازشریف کے پاس دو راستے رہ گئے۔ یا تو وہ اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے چمٹے رہ کر اپنے اور اپنے خاندان کی آزمائشوں کو مزید بڑھاتے یا پھر وقتی سہی لیکن میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کے ہاتھ پر بیعت کرلیتے ۔ چنانچہ انہوں نے ثانی الذکر راستہ اختیار کیا اور اب اس راستے کے ٖثمرات بھی ظاہر ہونے شروع ہوگئے۔لیکن اس کا نتیجہ ظاہر ہے یہ نکلے گا کہ اب انقلابی اور نظریاتی کارکن مایوس ہوں گے ۔ پرویز رشید جیسوں کے دل ٹوٹیں گے ۔ ملک کے وہ لبرل اور سول بالادستی کے علمبردار حلقے جنہوں نے ان سے توقعات وابستہ کرلی تھیں ، مایوس ہوں گے اور ان کے نظریاتی بن جانے کے دعوے کو اب باطل قرار دیا جائے گا۔

دوسرا مخمصہ خود میاں نوازشریف اور مریم بی بی کی ذات کے اندر ہے ۔ سیاستدان نواز شریف Nawaz Sharif تقاضا کرتا ہے کہ وہ ڈٹے رہیں لیکن باپ اور شوہر نوازشریف تقاضا کرتاہے کہ وہ جھک جائیں۔ اسی طرح سیاستدان مریم نواز Maryam Nawaz کا تقاضا ہے کہ وہ مزید انقلابی اور جارحانہ رویہ اختیار کرلیں لیکن بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz کا تقاضا ہے کہ ان کی زبان بند اور ٹویٹر خاموش رہے ۔ سیاستدان نوازشریف اور سیاستدان مریم نواز Maryam Nawaz کا تقاضا تھا کہ کلثوم نواز صاحبہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر وہ دونوں جیل جانے کے لئے پاکستان Pakistan آجائیں لیکن شوہر نوازشریف اور بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz کا تقاضا تھا کہ وہ ان آخری لمحات میں ان کے ساتھ رہتے۔ جب وہ دونوں سیاستدان بن کر سوچیں گے تو اپنے اس فیصلے کو زندگی بھر انقلابی اور قابل فخر کارنامہ قرار دیں گے لیکن جب بطور انسان سوچتے ہیں تو اپنے آپ کو کلثوم نواز صاحبہ کے مجرم تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح سیاست تقاضا کررہی ہے کہ میاں نوازشریف جیل میں رہیں اور اگر خدانخواستہ انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح امر ہوجائیں گے لیکن ان کے اندر کا انسان تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھیں اور بیٹوں کے پاس لندن چلے جائیں۔ اسی طرح سیاستدان مریم نواز Maryam Nawaz کے لئے ضروری ہے کہ ان کے ٹویٹر اکائونٹ سے اسی طرح کے انقلابی ٹویٹ ہوتے رہیں لیکن جب وہ ایک ایسی بیٹی کی حیثیت میں سوچتی ہیں جس کی ماں نے ابھی ابھی ان کی عدم موجودگی میں دیار غیر میں دنیا کو چھوڑاہو تو وہ چاہتی ہیں کہ کچھ بھی ہو لیکن ان کے بیمار باپ باہر آجائیں۔ یہی مخمصہ ہے جو ان دونوں کاپیچھا کررہا ہے ۔ اسی مخمصے نے ان کی سیاست کو کنفیوژن کا شکار بنا دیا ہے اور یہی چیز ہے کہ جو انہیں ڈیل کو حتمی مرحلے تک پہنچانے سے روکتی ہے ۔باپ نواز شریف Nawaz Sharif اور بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz میاں شہباز کو ڈیل کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو ڈھیل مل جاتی ہے لیکن جب ڈیل کا مرحلہ آتا ہے تو ان کی سیاسی شخصیت ان کو روک دیتی ہے۔

مخمصے والی کیفیت صرف شریفوں کے ہاں نہیں بلکہ ان سے متعلق ملک چلانے والوں کے ہاں بھی نظر آتی ہے ۔ ان کا پہلا مخمصہ یہ ہے کہ ملک چل نہیں رہا ۔ بالخصوص معیشت تو بالکل چلنے کا نام نہیں لے رہی۔چنانچہ گزشتہ انتخابات میں ووٹ دینے والے حیران اور گننے والے پریشان ہیں۔ ملک چلانےوالوں کو آج بھی نوازشریف اور مریم نواز Maryam Nawaz سے کوئی ہمدردی نہیں لیکن وہ ملک اور موجودہ حکومت کو چلانا چاہتے ہیں اور اسی تناظر میں سیاسی استحکام کی خاطر وہ نواز شریف Nawaz Sharif کے بارے میں نرمی لانا چاہتے ہیں لیکن مخمصہ یہ ہے کہ شریفوں کو ریلیف موجودہ عمران خان Imran Khan کو اپنی سیاسی موت نظر آتی ہے۔

شریفوں سے متعلق دوسرا مخمصہ آصف علی زرداری کی وجہ سے جنم لے رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ باری باری سب کی باری کے اصول کے تحت اب زرداری صاحب کی باری آئی ہوئی ہے ۔ زرداری صاحب اور بالخصوص بلاول بھٹو Bilawal Bhutto نے جو ردعمل دکھایاہے اس کے بعد ان پر برہمی حد سے زیادہ ہے ۔ اب اگر زرداری صاحب سے متعلق بھی سختی کی جاتی ہے اور شریفوں سے متعلق بھی سختی والی پالیسی جاری رہتی ہے تو دونوں ایک ہوجائیں گے اور ظاہر ہے دونوں کے اکٹھے ہونے کی صورت میں پھر ان کو قابو کرنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ مذہبی اور قوم پرست جماعتیں جو برہم ہیں ، بھی ان دونوں کی چھتری تلے اکٹھی ہوجائیں گی۔ چنانچہ جس طرح جب نوازشریف کو ٹھکانے لگایا جارہا تھا تو وقتی طور پر آصف علی زرداری کو ساتھ ملا لیا گیا تھا، اسی طرح اب زرداری صاحب سے حساب برابر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شریفوں کو رام رکھا جائے لیکن یہ حکمت عمران خان Imran Khan صاحب کو سمجھ نہیں آرہی اور ان کی حساسیت زرداری کی بنسبت شریفوں کے بارے میں زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک چلانے والوں کے ہاں بھی شریفوں سے متعلق پالیسی واضح نظر نہیں آتی ۔ کبھی ان کے اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بس ڈیل ہونے والی ہے اور کبھی ایسا تاثر مل جاتا ہے کہ اس کاکوئی امکان نہیں۔ وہ نواز شریف Nawaz Sharif کو اندر رکھنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ یہ ڈر بھی لگا ہوا ہے کہ خدانخواستہ کہیں نواز شریف Nawaz Sharif کو جیل میں کچھ ہوگیا تو پنجاب کو بھی بھٹو مل جائے گا۔

یہ مخمصے ہیں جن کی وجہ سے ملک میں غیریقینی کی صورت حال ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ کسی ملک کی معیشت کے لئے غیریقینی کی صورت حال جنگ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت سنبھلنے کی بجائے روز بروز مزید بگڑتی جارہی ہے ۔ نیا پاکستان Pakistan بنانے کا ایک بڑا ہدف یہ تھا کہ معیشت بہتر کی جائے لیکن اب یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ نئے پاکستان Pakistan میں کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن معیشت بہتر نہیں ہوسکتی۔ دوسری طرف اسد عمر پاکستان Pakistan کے تاریخ کے ناکام ترین وزیرخزانہ ثابت ہورہے ہیں ۔ پورا پاکستان Pakistan جان گیا کہ اسد عمر سب کچھ جانتا ہوگا لیکن نہیں جانتا تو معیشت کو نہیں جانتا ۔ ان کے بارے میں ابھی تک پاکستان Pakistan کا واحد شخص جو بدستورغلط فہمی کا شکار ہے وہ عمران خان Imran Khan ہیں۔ یوں یہ صورت حال تقاضا کررہی ہے کہ ملک چلانے والے بھی بولڈ فیصلے کرکے کنفیوژن کی فضا ختم کردیں اور سیاستدان بالخصوص نوازشریف بھی فیصلہ کرلیں کہ وہ آگے سیاسی لیڈر کے طور پر جینا چاہتے ہیں یا پھر انسان، باپ اور بیٹے کے طور پر۔ کنفیوژن ملک اور معیشت کے لئے زہر قاتل ہے تو قیادت کی پالیسیوں میں کنفیوژن سیاسی جماعت کے لئے تباہ کن ہے۔

 239