زلمے خلیل زاد، اشرف غنی اور مودی سرکار

برملا - نصرت جاوید

29 مارچ 2019

zalme kahlil zad ashraf gani or modi sarkar

پنجابی کا ایک محاورہ غصے کی اس صورت کا ذکر کرتا ہے جو گدھے پر سے گرنے کی وجہ سے کمہار پر اُتارا جاتا ہے۔ افغانستان Afghanistan کے صدر ان دنوں ویسے ہی غصے کا شکار ہوئے نظر آرہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں اعتماد میں لئے بغیر افغانستان Afghanistan سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا بظاہر ’’عاجلانہ‘‘ اعلان کردیا۔ زلمے خلیل زاد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس کی خواہش پورا ہونے کی راہ نکالے۔طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ ان مذاکرات کے ابتدائی ایام میں زلمے خلیل زاد نے اشرف غنی کو تسلی دیتی گفتگو میں مصروف رکھا۔ طالبان کے ساتھ اس کے مذاکرات کسی حتمی سمجھوتے کی طرف بڑھنے لگے تو ممکنہ بندوبست کی تفصیلات کا بل انتظامیہ سے Shareنہ ہوئیں۔ خود کو نظرانداز کئے جانے پر مشتعل ہوئے افغان صدر نے اپنے مشیر برائے قومی سلامتی کو گلے شکوے کرنے واشنگٹن بھیجا۔ امریکی حکام سے ابھی اس کی ملاقات طے بھی نہیں ہوئی تھی تو صحافیوں اور امریکی افغان ماہرین کے ساتھ ہوئے ایک ڈنر میں اس مشیر نے برسرِ عام احتجاجی گفتگو فرما دی۔ جوشِ خطابت میں موصوف نے زلمے خلیل زاد پر یہ الزام بھی لگادیا کہ وہ افغانستان Afghanistan کا ’’وائسرائے‘‘ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس کے خطاب سے ناراض ہوگئی۔ اسے وزراتِ خارجہ میں طلب کرکے ڈانٹ ڈپٹ ہوئی۔اس کے بعد امریکی حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ کابل انتظامیہ کو صاف الفاظ میں واضح کردیا گیا ہے کہ آئندہ صدر غنی کے مشیر برائے قومی سلامتی سے امریکی حکام ملاقاتیں نہیں کریں گے۔ سفارتی روایات کے حوالے سے یہ ایک تضحیک آمیز اعلان تھا۔ اس نے اشرف غنی کے ان خدشات کی برسرِ عام تصدیق کر دی کہ ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان Afghanistan کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اب اس کی ضرورت نہیں رہی۔ طالبان اپنی جگہ بضد ہیں کہ وہ امریکہ United States کی ’’کٹھ پتلی‘‘ اور ’’مسلط کردہ‘‘ کابل انتظامیہ سے ہرگز بات چیت نہیں کریں گے۔ زلمے خلیل زاد کے ساتھ وہ بحیثیت ایک فریق نہیں بلکہ ’’امارت اسلامی‘‘ کی حیثیت میں مذاکرات کررہے ہیں۔ نظر بظاہر ٹرمپ اور زلمے خلیل زاد کو اس Posturing سے کوئی مسئلہ نہیں۔ مزید تفصیلات میں جائے بغیر مختصر ترین الفاظ میں یہ کہنے کو مجبور ہوں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے تئیں فغانستان کے مستقبل کا نقشہ بنانے کے ضمن میں اشرف غنی کو ’’کھڈے لائن‘‘ لگادیا ہے۔ پاکستان Pakistan کا براہِ راست اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں۔زلمے خلیل زاد کے ساتھ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لئے پاکستان Pakistan کا تعاون ضروری تھا۔بغیر کوئی بڑھک لگائے ہماری جانب سے یہ تعاون کماحقہ فراہم ہوگیا۔اس تعاون کو سراہے جانے کی رسید امریکی صدر نے ازخود حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاری کردی ہے۔ مناسب یہی تھا کہ طالبان کی زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات میں ہوئی پیش رفت کے حوالے سے ہم اپنی خاموشی برقرار رکھتے۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan صاحب نے مگر چند روز قبل پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان Afghanistan میں ’’عارضی حکومت‘‘ قائم ہونے کی امید کا ظہار کر دیا۔ اشرف غنی نے اسے محض پاکستان Pakistan کی ’’توقع‘‘ نہیں بلکہ "Dictation"قرار دیتے ہوئے تلملاہٹ کا اظہار شروع کر دیا۔ ’’احتجاجاََ‘‘ اپنے اسلام آباد Islamabad میں مقیم سفیر کو بھی ’’صلاح مشورے‘‘ کے بہانے کا بل بلالیا۔ ڈاکٹر اشرف غنی ایک متلون مزاج شخص ہیں۔ افغانستان Afghanistan کے بارے میں خبررکھنے والے کئی امریکی اور یورپی صحافیوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ امریکی حکام نے انہیں افغانستان Afghanistan کا صدر بنوانے میں مدد دینے سے قبل ان کے لئے "Anger Management"کے کورسز کا اہتمام بھی کیا تھا۔ پاکستان Pakistan کے وزیراعظم کی بے ساختگی میں بتائی ’’امید‘‘ کے بارے میں مگر اشرف غنی نے اس انداز میں ردعمل دیا کہ زلمے خلیل زاد بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ضمن میں پاکستان Pakistan کے کردار کو سراہتے ہوئے بھی وزیراعظم عمران خان Imran Khan سے شکوہ کرتا سنائی دیا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی اشرف غنی سے شدید اختلافات رکھنے کے باوجود شکوہ کنائی میں شامل ہوگیا۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود افغانستان Afghanistan کے ’’غیر طالبان‘‘ عناصر یکسو ہو کر ’’قوم پرست‘‘ ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان Pakistan کے وزیر اعظم Prime Minister کی امید کو ’’ڈکٹیشن‘‘ کے طورپر اُچھالتے ہوئے افغانستان Afghanistan کے شہری متوسط طبقے اور خاص طورپر خواتین کے ان گروہوں کے دل جیتنے کی کوشش ہورہی ہے جو طالبان کے ممکنہ طورپر اقتدار میں لوٹنے کے امکان سے شدید گھبرائے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کو طالبان مخالف سیاست دان اور دیگر حلقے تسلیم کرنے کو ہرگز تیار نظر نہیںآرہے کہ 17برس کی بھرپور جنگ اور اربوں ڈالر کے خرچ کے بعد طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان Pakistan کے ایما پر نہیں کیا ہے۔ اگست 2016میں جنوبی ایشیاء کے بار ے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بلکہ پاکستان Pakistan کو Do Moreکے لئے قائل کرنے کو انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ بھارت India کو اس خطے کا تھانے دار تسلیم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔ مذکورہ پالیسی کے اعلان سے قبل اپنے ٹویٹس کے ذریعے صدر ٹرمپ وقتاً فوقتاً پاکستان Pakistan کو برا بھلا کہتا رہا۔ شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت نے باہم مل کر بڑی بردباری سے اس کے دھمکی بھرے ٹویٹس کو نظرانداز کیا۔ خاموش سفارت کاری پر توجہ دیتے ہوئے ٹرمپ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ طالبان اور امریکہ United States کے مابین جاری مذاکرات کے اس نازک مرحلے پر پاکستان Pakistan کو افغانستان Afghanistan کے مستقبل کے بارے میں بردبار خاموشی برقرار رکھنا ہوگی۔ طالبان کو مذاکرات کی میز تک پہنچانے میں مدد دینے کے بعد ہمارا رویہ واضح طورپر اب ’’امریکہ United States جانے اور افغان معاملات‘‘ والا ہونا

چاہیے۔اشرف غنی اور دیگر افغان رہ نمائوں کو بے ساختہ ریمارکس کے ذریعے یہ جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے کہ وہ امریکہ United States کی جانب سے نظراندز کئے جانے کی وجہ سے کھولتے غصے کو پاکستان Pakistan پر مبذول کردے۔ افغان ’’قوم پرستی‘‘ کے بہانے پاکستان Pakistan کو مورودِ الزام ٹھہرانے کا سلسلہ چل پڑا تو بھارت India آگ کو بھڑکانے میں ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ چند ہی روز قبل لکھے ایک کالم میں تفصیل سے عرض کرچکا ہوں کہ زلمے خلیل زاد سے فقط اشرف غنی ہی ناراض نہیں۔مودی سرکار بھی طالبان اور امریکہ United States کے مابین مذاکرات میں ہوئی پیش رفت سے کافی خفت محسوس کررہی ہے

 190