پیشن گوئیاں اور قسمت کا حال

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

28 مارچ 2019

peshanguya or qesmat ka hal

آپ کا ستارہ کیا کہتا ہے؟؟۔ہاتھ کی لکیریں کیا کہتی ہیں ؟اس طرح کے اشتھارات آپ نے بارہا نوٹ کیے ہونگے۔ چند ایک متجسس فطرت لوگ ٹرائی بھی کرلیتے ہیں گوکہ ہمارے مذہب میں اس کام کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا ہے ۔۔لیکن حضرت انسان کو جس کام سے روکا جاے آنے بہانے کرتا ضرور ہے ۔

۔علم الاعداد ،علم نجوم ، پامسٹری وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ علم کتنا مستند ہے اس بحث میں نہیں پڑتے ۔۔اس علم کے کیا فواید ہیں اس کو بھی رہنے دیں۔۔ایک کام جب منع کردیا گیا ہے اسکے فائدے نقصان میں کیا پڑنا پھر۔۔تو پھر بات کیا کرنی ہے؟؟

ہم اس علم کے مس یوز اور فراڈز اور ڈرامے بازی پر بات کرتے ہیں۔مجھے ان علوم سے واقفیت آج سے چند سال پہلے ہونا شروع ہوئی ۔جب میری ساس کے والد بیمار تھے اور ان کے ایک خاندانی پیر گھر میں تشریف فرما تھے جنہوں نے علم اعداد کے زریعے یہ بتانا تھا کہ ساس کے والد محترم بیماری سے چھٹکارہ پائیں گے کہ نہیں۔۔ویسے کامن سینس سے دیکھا جاتا تو جو بزرگ اسی پچاسی سال کی عمر میں شدید بیمار ہوجاے غالب امکان آگے جانے کا ہوتا ہے بانسبت صحت یاب ہونے کے۔۔اس بات پر حساب کتاب یا پیشن گوئی کروانا بنتی تو نا تھی لیکن ساس کی اپنے والد سے محبت کو دیکھ کر چپ ہوگئی میں۔۔

مجھے یہ اندازہ نا تھا یہ حساب کتاب کرنا بھی مجھے پڑے گا۔

۔ان پیر صاحب نے ساس سے کہا کسی کو بلاو جو حساب کرنے میں میری مدد کرے۔۔ساس نے مجھے طلب کرلیا ۔۔میں جا کے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔بزرگ میری طرف متوجہ ہوے ۔ایک پین اور کاپی مجھے تھمائی گئی اور کہا بیٹا جو بتاتا جاوں وہ لکھتی جاو ۔۔میں نے تابعداری سے سر ہلایا کیونکہ اور کوئی آپشن نا تھا ۔

ساس کے ابو جی کے نام میں جتنے حروف تھے ان حروف کے گنتی میں مختلف اعداد تھے۔ کسی حرف کا عدد 100 کسی کا پچاس کسی کا 200 مجھے سمجھ تو نا آرہی تھی لیکن میکانکی انداز میں لکھتی رہی ۔ان سب اعداد کو جمع کرنے کو کہا کوئی ہزار پندرہ سو جواب بنا ۔۔اب ساس کے ابو کی والدہ کے نام کے اعداد بنانے تھے۔

۔۔وہ بھی بنائے اور جمع کرنے کے بعد میں اگلی انسٹرکشن کے انتظار میں پیر صاحب کو دیکھنے لگی۔۔اب بزرگ نے ایک پیچیدہ سا طریقہ بتایا کسی حرف کی رقم کو دوسرے میں جمع کسی کو تفریق کسی کو تقسیم۔۔میں کراہ کر رہ گئی کیلکولیٹر کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔۔سات آٹھ صفحے کالے کرنے اور ایک گھنٹہ خواری کے بعد چند اعداد میں جواب آیا ۔۔اور پیر صاحب ایک موٹی سی کتاب کھول کر بیٹھ گئے ۔

میں اب توجہ سے دیکھنے لگی کیونکہ اس ریاضت میں میرا حصہ بھی تھا لہذا رزلٹ تو دیکھنا تھا ۔۔پیر صاحب کتاب پر جھکے رہے اور دس پندرہ منٹ کے مراقبے کے بعد بولے ۔

۔" بیماری تو سخت ہے ۔دعا کرو اگر زندگی ہوئی تو ٹھیک ہوجائیں گے ۔۔۔ورنہ جو اللہ کو منظور"

میں اس سیاسی سے بیان پر سخت بدمزہ ہوکر اٹھی۔۔اتنی دیر حساب کروایا اور بات وہی دعا والی کی جو ہر بے بسی کی صورت حال میں ہم آل ریڈی کرتے ہیں۔اس سلسلے میں اتنا حساب کتاب میری سمجھ سے باہر تھا ۔۔

ادھر ساس نے دلبرداشتہ ہوکر روہانسی سی شکل بنا کر موٹی سی رقم پیر صاحب کے حوالے کی۔میرے دل میں آئی اصولا ً تو انکو چاہیے تھا پیسے آدھے آدھے تقسیم کرتے ۔کیونکہ مشکل پراسس تو سارا مجھ سے کروایا ۔۔لیکن پیر صاحب کے دل میں یہ نا آئی ہوگی لہذا انہوں نے پیسے سنبھالے اور اجازت چاہی۔ یہ تھا علم الاعداد سے میرا پہلا اور آخری تعارف ۔ کیونکہ اس کے بعد مجھےکبھی ضرورت ہی پیش نا آئی۔

۔اس کے بعد باری آتی ہے پامسٹری کی۔۔یہ علم ہمارے لیے ممنوع ہونے کی وجہ سے اور بھی دلچسپی کا حامل ہے ۔اور اس علم میں لگاے گئے تکے اکثر اوقات درست ثابت ہوتے ہیں۔اس لیے جب سے یہ علم ایجاد ہوا تب سے آج تک یہ دلچسپ ہی ہے۔۔ اور یہ اس لیے بھی آسان لگتا ہے کہ صرف ہاتھ کو چند منٹ دیکھ کر ہی حساب مکمل ہوجاتا ہے نا پامسٹ جمع تفریق والا۔حساب کرتا ہے نا آپ سے کرواتا ہے۔

۔سال دو سال پہلے کی بات ہے کسی تقریب میں ایک خاتون سے سامنا ہوا ۔یہ محترمہ ہم پر ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ یہ ہاتھوں کی لکیریں پڑھ لیتی ہیں۔ کافی لڑکیوں نے دلچسپی سے اس عورت کو اپنے ہاتھ دکھائے ۔۔جن میں سے آدھیوں کو اس نے بتایا کہ تم لوگوں کی لو میرج ہوگی ۔۔یہ لڑکیاں تو خوشی سے ہی پچھاڑیں کھانے لگیں۔

۔مجھے اسی ٹائم ایک شرارت سوجھی۔۔جھٹ سے اپنا ہاتھ انکے آگے کردیا چہرے پر عقیدت اور پوچھا کہ میری شادی کے بارے میں بتائیں۔۔۔ انہوں نے میرے ہاتھ کو الٹ پلٹ کرکے کچھ دیر بھرپور نوٹنکی کی اوربولیں"تمہاری شادی ایک شاندار سے بندے سے ہونے والی ہے بہت خوش قسمت ہو ۔میرے چہرےپر مسکراہٹ نمودار ہوِئی مزید کریدا " کب تک ہوگی شادی ؟؟" یہ سوچتے ہوے بولیں "یہی کوئی سال دو سال تک ۔۔بس تم تیاری شروع کردو اپنی شادی کی " میرا کام مکمل ہو چکا تھا اب میں کھنکھارتے ہوے بولی

"باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن جو شوہر موجود ہے اس کا کیا کرنا ہوگا ؟ "

ادھر میں نے اپنی کنفیوزن پیش کی ادھر پوری ٹیبل پر عورتوں کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا اور پامسٹری والی میڈم آئیں بائیں شائیں کرکے رہ گئیں۔۔

علم نجوم سب سے زیادہ ہندووں میں مقبول ہے۔ ہم نے بھی غالباً ان سے ہی سیکھا ہوگا۔۔لہذا پاکستان Pakistan میں بھی ہارسکوپ میں کافی لوگ دلچسپی لیتے ہیں۔۔ایک ہی نوٹنکی ہر ستارے میں ڈالی ہوتی ہے ۔۔کسی کا بھی سٹار اٹھا کر پڑھ لو ۔ہر عادت ہر امکان اس میں ڈال دیا گیا ہوگا۔جن میں سے چند ایک مل ہی جائیں گی اور بندہ خوش کہ واہ یہ تو سچ ہے۔۔میں نے یہی جاننے کے لیے کہ میرا سٹار کیسا ہے ایک غیر ملکی ویب سائٹ پر ایک چھوٹا سا انٹرویو دیا۔۔اور گھنٹے بعد ایک لمبی چوڑی ای میل موصول ہوئی جس کے مطابق مجھے پہلے اپنی بہت ساری خوبیاں گنوائی گئی۔جن میں سر فہرست تھا کہ میں مشکلوں سے نکلنے میں بہت اچھا حل نکال لیتی ہوں اور قوت فیصلہ کی بھی تعریف کی گئی اب میں دل ہی دل میں اترانے لگی۔ لیکن۔اس سے پہلے کہ میں زیادہ خوش ہوتی آگے کچھ خطرناک قسم کی پریشانیاں بتائی گئیں ۔کہ ان سے بچنے کے لیے ہم سے دوبارہ رابطہ کرو ۔۔اور یہی پر میرا دل کھٹا ہوگیا ۔

۔ایک طرف تو کہتے ہیں کہ مشکلوں کا بہادری سے سامنا کرتی ہو ۔۔دوسری طرف ان سے مدد کیوں لوں؟؟؟ اب میں تو کمبل چھوڑتی ہوں کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا یعنی روز انکی ای میل آئی ہوتی ہے ۔۔اور ڈرایا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم سے مشورہ لے لو خدارا ۔اب مفت دیں تو بندہ لے بھی لے ۔۔مشورہ وہ بھی ڈالرز میں لوں یہ ناممکن ہے اور یہ نہیں جانتے کہ میں انکی بیان کی گئی تعریفوں پر پوری اترونگی

 211