جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

27 مارچ 2019

jaly accounts case asif zardari ne zamanat qablaz garfatari k leya high cort se rajoo kr leya

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی جانب سے گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

سابق صدر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 'جعلی اکاؤنٹس کیس میں اب تک طلبی کے 3 سمن موصول ہو چکے ہیں اور معلوم نہیں کہ میرے خلاف کتنی انکوائریز چل رہی ہیں، نیب کسی بھی انکوائری میں گرفتار کرسکتا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل مکمل ہونے تک ضمانت منظور کی جائے، گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت کے سوا کوئی آپشن نہیں، اور نیب کو گرفتاری سے روکا جائے۔

سابق صدر کی جانب سے درخواست ضمانت میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محمد کامران کو فریق بنایا گیا ہے۔

آصف زرداری نے نیب سے مقدمات کی تفصیلات کے حصول کی درخواست بھی دائر کردی جس میں استدعا کی گئی کہ نیب کو میرے خلاف تمام انکوائریوں کی فہرست فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری عبوری ضمانت پر ہیں۔

جعلی اکاؤنٹ کیس کا پسِ منظر

واضح رہےکہ ایف آئی اے جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ Money laundering کی تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی بھی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں جب کہ تحقیقات میں تیزی کے بعد سے اب تک کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آچکے ہیں جن میں فالودے والے اور رکشے والے کے اکاؤنٹس سے بھی کروڑوں روپے نکلے ہیں۔

ایف آئی اے نے گزشتہ سال 6 جولائی کو بینکنگ کورٹ میں مقدمہ دائر کیا جس کی تقریباً 8 ماہ تک سماعت ہوئی، آصف زرداری اور فریال تالپور نے مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے حفاظتی ضمانت لے رکھی تھی۔

 76