گوادر Gawadar کی افسوسناک کہانی

27 مارچ 2019

gowadar k afsos naak kahani

لاہور: (امتیاز گل) 2015 کے بعد گودار کی کہانی نہایت افسوسناک ہے، اس کا بنیادی سبب پاکستانی رہنماؤں کی بے عملی اور نااہلی ہے، جس طرح انہوں نے مواقع کو ضائع کیا اس کی وجہ سے یہ سخت تبصرہ ناگزیر تھا، اسی طرح گوادر Gawadar کے بارے میں پاکستان Pakistan کی نوکر شاہی کے طرز عمل سے بھی نہ صرف بے حسی بلکہ اہلیت سے محرومی کا اظہار ہوتا ہے، ایک سرسری جائزے سے ہی یہ بات نمایاں ہوجاتی ہے کہ ملکی بیوروکریسی کا رویہ کسی کام کو عمدگی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بجائے اس میں بگاڑ پیدا کرنے کے مترادف ہے، ملکی رہنماؤں اور بیوروکریسی کے اس طرز عمل کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان Pakistan کے بلوچوں کو طویل عرصے سے حکمرانوں کے خلاف جو شکایات ہیں وہ بلا جواز نہیں بلکہ بالکل درست ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم Prime Minister اسی ہفتے پہلی مرتبہ گوادر Gawadar کے نئے ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے، یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ یہ کام ایسی فضا میں ہو رہا ہے جب چینی حکومت اور متعلقہ چینی حلقے اس کام میں بلا جواز تاخیر پر سخت ناراض ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد رکھنے میں جان بوجھ کر تاخیر کر دی ہے۔ وزراعظم جب یہاں تشریف لائیں گے تو انہیں چاہیے کہ وہ تمام وفاقی اور صوبائی حکام سے پوچھیں کہ کیا گوادر Gawadar کی آبادی کو ان کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے ؟ اس وعدے کا کیا ہوا کہ گوادر Gawadar کو کوئلے سے بنائی گئی 300 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی ؟ وزیر اعظم Prime Minister کو یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا گوادر Gawadar ٹاؤن اور فری انڈسٹریل زون کو وافر مقدار میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے ؟ پانی کی جس نئی پائپ لائن کو بچھانے کا وعدہ کیا گیا تھا اس کا کیا بنا ؟ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ہائی وے سے پائپ لائن گزارنے پر جو اعتراض کیا تھا وہ واپس لیا گیا یا نہیں ؟ یہ تنازع جو 2017 میں شروع ہوا تھا ختم ہوا یا اب بھی برقرار ہے ؟ وزیر اعظم Prime Minister کو چاہیے کہ وہ اندر کے معاملات تک رسائی رکھنے والوں سے معلوم کریں کہ مخصوص مفادات رکھنے والے سیاسی حلقے اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے افراد منظم طریقے سے گوادر Gawadar کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کر کے اس منصوبے کے خلاف جو حرکتیں کر رہے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے ؟۔

خیال رہے کہ پورے گوادر Gawadar ٹاؤن کو ایران Iran سے 14 میگاواٹ بجلی ملتی ہے، اس کے علاوہ سیاسی حلقوں میں رابطے رکھنے والا ‘‘ ٹینکر مافیا ’’ یہاں پانی فراہم کرتا ہے، گوادر Gawadar ٹاؤن کو پانی اور بجلی فراہم کرنے کی جو ناقابل اطمینان صورتحال ہے اس کی وجہ سے گوادر Gawadar پورٹ کے چینی آپریٹرز نے وہاں ڈیزل سے چلنے والا 9.5 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا یونٹ نصب کر دیا ہے تاکہ یہاں قائم ‘‘ نام نہاد’’ صنعتی علاقے کو کچھ نہ کچھ بجلی ملتی رہے، یہی نہیں بلکہ انہوں نے یہاں نمکین سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ بھی لگا دیا ہے تاکہ گوادر Gawadar کی کم از کم موجودہ ضروریات ہی پوری کی جاسکیں، اس کے علاوہ انہوں نے سامان اٹھانے والی کارگو کرینیں بھی پہنچا دی ہیں، اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ سارے کام صرف 4 ماہ میں مکمل کرلیے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب گوادر Gawadar میں بھاری صنعتیں قائم ہوجائیں گی تو ان کی ضروریات کے مطابق بجلی کیسے ملے گی ؟ اس لیے کہ ان صنعتوں کو کسی تعطل کے بغیر کہیں زیادہ بجلی کی فراہمی ضروری ہوگی، یہ ضرورت کیسے پوری کی جائے گی؟ اب یہ جائزہ لینا چاہئے کہ گوادر Gawadar ایئر پورٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے قبل کیا کچھ ہوتا رہا ہے ؟ ملک کے سیاسی اور عسکری قائدین کیلئے جو گوادر Gawadar کا بہت زیادہ ذکر کر کے اسے سی پیک CPEC کے تاج میں جڑا ہوا ہیرا قرار دیتے ہیں یہ جائزہ خواب خرگوش سے بیداری کی صدا ثابت ہوگا۔

اب دیکھئے حقائق کیا ہیں، گوادر Gawadar ایئر پورٹ اور سڑکوں کے 3 انفرا سٹرکچرز کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر 2015 میں اس وقت دستخط ہوئے جب چینی صدرشی جن پنگ پاکستان Pakistan کے دورے پر تشریف لائے تھے، چینی حکومت نے گوادر Gawadar ایئر پورٹ کیلئے 259 ملین ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا، سول ایوی ایشن اتھارٹی جو کافی عرصہ قبل ہی اس ایئر پورٹ کیلئے زمین حاصل کرچکی تھی نے 2016 میں اس اراضی کے چاروں طرف خاردار تار لگادیے تھے، یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ گوادر Gawadar ایئرپورٹ کی تعمیر سے متعلق فزیبلٹی رپورٹ ایک یورپی کمپنی نے مرتب کی تھی، اس کے بعد چین China کی حکومت نے اپنے ملک کی ایک کمپنی کو اس کی جانچ پڑتال کیلئے مقرر کیا، یہ چینی کمپنی اپنا کام مکمل کرچکی تھی کہ چین China کو پاکستانی رہنماؤں نے کہا کہ گوادر Gawadar ایئر پورٹ کو ایک جدید ترین ( اسٹیٹ آف دی آرٹ) ہوائی اڈا ہونا چاہیے ، چینی حکومت نے یہ فرمائش پوری کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی، اس کے بعد گوادر Gawadar ایئر پورٹ کی فزیبلٹی دوبارہ بنانی پڑی۔ اس کے بعد گوادر Gawadar منصوبے کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ پیدا ہوگئی، ایئرپورٹ کی تعمیر پر مامور چینی کمپنی نے مطالبہ کیا کہ اسے بجلی کے پورے مجوزہ نظام کا پلان (Electricity Plan ) فراہم کیا جائے جب چینی کمپنی کا یہ مطالبہ پورا نہ ہوا تو اس نے دوٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ جب تک اسے الیکٹرسٹی پلان فراہم نہیں کیا جائے گا وہ گوادر Gawadar ایئر پورٹ پر تعمیراتی کام کا آغاز نہیں کرے گی۔

بہر صورت متعدد رکاوٹوں اور مسائل کے بعد پاکستان Pakistan اور چین China کے حکام پر مشتمل مشترکہ کمیٹی کے 7 ویں اجلاس نے سفارش کی کہ گوادر Gawadar میں فوری طور پر کوئلے سے چلنے والا 300 میگاواٹ کا بجلی پلانٹ بنایا جائے، لیکن کیوں ؟ اس لیے کہ پورے بلوچستان Balochistan کو نیشنل گرڈ سے صرف 700 میگا واٹ بجلی ملتی ہے جو اس کی مجموعی ضروریات کے صرف ایک تہائی حصے کے برابر ہے، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان Balochistan میں موجود بجلی ترسیلی سسٹم 800 میگاواٹ سے زیادہ کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، انہی مسائل کی بنا پر مشترکہ کمیٹی نے سفارش کی کہ گوادر Gawadar کے پاور پلانٹ کو نیشنل گرڈ سے مکمل طور پر علیحدہ رکھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ گوادر Gawadar منصوبے میں حائل ان رکاوٹوں کو دور کرنا کیا ہمارے ‘‘عظیم رہنماؤں ’’ کا فرض نہیں تھا ؟ کیا انہیں اس کام کو اولین ترجیح نہیں دینی چاہیے تھی ؟ کیا محض سی پیک CPEC کو تواتر کے ساتھ‘‘ گیم چینجر’’ قرار دینا ہی کافی ہے ؟ کیا ہمارے رہنماؤں نے نہیں سوچا کہ یہ منصوبہ بجلی اور پانی کے بغیر کیسے چل سکتا ہے ؟ اس منصوبے کی راہ میں مزید بڑی رکاوٹیں پیدا ہوئیں، ان میں غیر متوقع طور پر رونما ہونے والی ایک مشکل ماحولیات سے متعلق تھی، ماحولیات کی ایجنسی ای آئی اے نے اس منصوبے کو قابل عمل قرار دینے میں پورا ایک سال لگا دیا، اس کے علاوہ بھی تاخیری حربے اختیار کیے گئے۔

دوسرا اہم مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ چین China کی جس کمپنی کویہ پلانٹ تعمیر کرنا تھا اسے حیران کن حد تک کم ریٹ دینے پر آمادگی ظاہر کی گئی، یہ ریٹ اسی قسم کے کام کیلئے پنجاب اور دیگر علاقوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کیلئے مقرر ریٹس سے بہت کم تھے۔ حیرت ہے کہ ہمارے ان ذمہ داروں نے اس حقیقت پر توجہ ہی نہیں دی کہ گوادر Gawadar دور دراز واقع ایک مقام ہے جہاں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں، یہاں بجلی بنانے، اس کی ڈسٹری بیوشن اور صنعتیں لگانے کیلئے اس وقت تک کوئی بھی نہیں آئے گا جب تک کہ یہاں بجلی اور وافر مقدار میں پانی میسر نہ ہو، ان سہولتوں میں کمی ہو تو ضروری ہے کہ بجلی منصوبے یا دیگر صنعتیں لگانے والوں کو ٹیرف میں ‘‘ غیر معمولی’’ ترغیبات دی جائیں، لیکن افسوس! ہوا اس کے برعکس، اور اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ تاخیر اور مزید تاخیر، اب بظاہر ٹیرف کا مسئلہ تو حل ہوگیا ہے لیکن یہ اندازہ کرنا دشوار نہیں ہے غلطیوں سے لدا ہوا جو نظام ہمارے ملک میں رائج ہے اس نے ان منصوبوں کو کس بری طرح نقصان پہنچایا جو پورے گوادر Gawadar کی ترقی کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان حالات میں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو بہت تیزی کے ساتھ اقدمات کرنے ہوں گے، انہیں اس امر کا خیال بھی رکھنا ہوگا کہ چینی حکومت بھی اصلاح احوال کیلئے کیے جانے والے ان کے اقدامات سے آگاہ ہوجائے، انہیں چینی حکومت پر بھی واضح کرنا ہوگا کہ ان کی حکومت خلوص دل سے سی پیک CPEC کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ سی پیک CPEC کے معاملات کو آئندہ عمدگی سے چلانے کیلئے ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ ایک ایسا خود مختار ادارہ بنایا جائے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بیوروکریسی کے اہم ارکان شامل ہوں، اس ادارے کی نگرانی دونوں ممالک کے پارلیمانی گروپوں کے سپرد کی جائے اور اس مشترکہ گروپ کو نہ صرف فیصلہ سازی بلکہ فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے اختیارات بھی دیئے جائیں۔ یہاں یہ حوالہ بے جا نہ ہوگا کہ اسلام آباد Islamabad ایئر پورٹ کی تعمیر میں 12 سال لگے حالانکہ بقول شخصے یہ وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے واقع ہے، اس منصوبے پر لاگت کا اصل تخمینہ 23 ارب روپے تھا جسے سیاسی قیادت اور اعلیٰ حکام نے مختلف تدبیریں اختیار کر کے 100 ارب روپے سے زیادہ تک پہنچا دیا، یہ کہے بنا چارہ نہیں کہ گوادر Gawadar ایئر پورٹ کو سیاسی کرگسوں اور مفاد پرست لالچی اعلیٰ حکام سے بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کی جلد از جلد تعمیر کیلئے اس منصوبے کو مکمل طور پر چینی کنسٹرکشن کمپنیوں کے سپرد کر دیا جائے۔

ہمارے ملک میں رواں سال کے آخر تک بجلی کی طلب بڑھ کر 23000 میگا واٹ ہوجائے گی، توقعات کے مطابق اس وقت تک ملک میں بجلی کی پیداوار 45000 میگاواٹ ہو گی، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ بجلی کی ترسیل کو اولین ترجیح دے، یاد رہے کہ سابقہ حکومت نے بجلی کی ترسیلی نظام کی توسیع کو قطعی ترجیح نہیں دی تھی، اس کی ساری توجہ سڑکوں کے منصوبوں اور نئے پاور پلانٹس پر مرکوز رہی تھی، ماضی میں نئے بجلی منصوبوں میں جو بدعنوانی کی گئی وہ نہایت شرمناک تھی، مثال کے طور پر ایک پاور پلانٹ کے ساتھ یہ معاہدہ کس قدر قابل مذمت تھا کہ اگر حکومت اس پلانٹ پر بنائی گئی پوری بجلی کی ترسیل نہ کرسکی تو یہ بجلی کمپنی کو بطور جرمانہ بھاری رقم ادا کرے گی۔ وزیر اعظم Prime Minister کو چاہیے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے جواب طلبی کریں کہ اس نے گوادر Gawadar سے تقریباً 90 کلو میٹر دور سواد ڈیم سے پانی کی پائپ لائن کو ہائی وے کی دوسری طرف لے جانے کی جازت کیوں نہیں دی ؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گوادر Gawadar کو جو پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اس پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی شروع نہ ہوسکی، گوادر Gawadar کو ٹینکر مافیا سے نجات دلانے کیلئے بھی وزیر اعظم Prime Minister کو ٹھوس اقدمات کرنے چاہئیں، یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ یہ ٹینکر مافیا ہر ماہ گوادر Gawadar کو بذریعہ ٹینکر پانی کی فراہمی کے ذریعے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کما رہا ہے۔

موجودہ زمانے کے بارے میں سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ دور تیز رفتاری سے فیصلے کرنے اور عوامی مفادات کیلئے غیر روایتی انداز اختیار کرنے کا زمانہ ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے ملک کے اعلیٰ حکام اب بھی گزشتہ صدی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں عوام کے حقوق پامال ہورہے ہیں، اگر وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan کے ساتھ چین China کے اخلاص کا فائدہ پاکستانی عوام کو پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ چین China کے جذبے کو برقرار رکھیں تاکہ وہ سی پیک CPEC میں مزید سرمایہ کاری کرسکے، حکومت کو لازمی طور پر سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل مشکلات کو ختم کر کے ‘‘ ون ونڈو آپریشن ’’ کو رائج کرنا ہوگا، یہ اقدام نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور غربت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اب وہ وقت آچکا جب کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نہ صرف گوادر Gawadar بلکہ پورے بلوچستان Balochistan کے ساتھ اخلاص اور توجہ ناگزیر ہوچکی ہے، اب تک ہماری حکومتیں اور فوجی قائدین بلوچستان Balochistan کے ساتھ محض زبانی جمع خرچ کرتے رہے ہیں، یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ اب یہ سب کچھ نہیں چل سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ جو اقدامات ناگزیر ہیں ان کا تصور بالکل واضح ہو، اس کے علاوہ سی پیک CPEC کیلئے ‘‘ فوکل پرسنز ’’ کا تقرر بھی کیا جائے تاکہ جو بات بھی ہو وہ پوری ذمے داری کے ساتھ کی جائے، ان فوکل پرسنز کو تمام معاملات میں کردار ادا کرنے کا اختیار بھی حاصل ہونا چاہیے، اب میں سرمایہ کاروں کو ‘‘ ون ونڈو’’ کی سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

 106