بے تکی کاری گری

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

25 مارچ 2019

be tukki kaari giri

کسی بھی کام کے سلسلے میں جب بھی گھر سے باہر جانا ہوں ۔ہماری گلی میں موجود پیارے سے گھر کے گیٹ کو دیکھ کر سخت بدمزہ ہوتی ہوں اور فٹ سے ابو سے مخاطب ہوتی ہوں

"ابو جی اس بندے کو تمیز نہیں ہے ۔۔اتنا پیارا گھر اور یہ "پیپا " گیٹ لگا لیا ۔گھر کا سارا گریس خراب کردیا "

ابو مسکرا دیتے وضاحت دیتے " یہ وکیل صاحب کا گھر ہے۔۔" میں کنفیوز ہوکر دیکھتی " اچھا وکیلوں کو تمیز نہیں ہوتی؟؟"

ابو بے ساختہ ہنسی کو روک کر مزید وضاحت دیتے " اصل گیٹ اندر ہے یہ تو اس کا ڈیرہ ٹائپ بنا ہوا ہے اس کا گیٹ ہے "

میں پھر بھی متاثر نا ہوئی" واٹ ایور ابو جی۔۔اس کو اچھا گیٹ باہر لگوانا چاہیے تھا اور اندر بھلے یہ ٹین کا بنا ہوا لگوا لیتا ۔مجھے بہرحال اس کا آئڈیا پسند نہیں آیا "

بھائی نے شرارت سے مجھےدیکھا "چلو وکیل کو بلا لیتے ہیں اس سے خود کہہ دو " میں نے جواب میں ابو کی طرف دیکھا " ہاں ابو جی اسکو مشورہ دے دو نا آپ کبھی ویسے آپ کی تو دعا سلام ہے ۔ ابو نے مسکرا کر ٹال دی میری بات۔

لیکن میری یہ عادت بن گئی جب بھی آنا جانا ہوتا یہی بات دہراتی اور اب تو یہ عالم ہے کہ جیسے ہی وہ گھر سامنے آئے میرے بولنے سے پہلے بول پڑیں گے

" ہاں ہاں ہمیں پتہ ہے وکیل کو زرا تمیز نہیں ہے پیپا باہر لگا دیا اور اچھا گیٹ اندر "

کئی بار یہ وکیل صاحب گیٹ پر کھڑے نظر آئے دل تو چاہا ڈائرکٹ کھڑکی سے سر نکال کر کہہ دوں کہ گیٹ ادلا بدلی کرلو انکل جی ۔پھر یہ سوچ کر چپ ہوجاتی ہوں کہ مخلص اور مفت مشورے کی کون قدر کرتا ہے بھلا ۔۔یہ تو پھر ہیں بھی وکیل ان کو برا لگ جاے تو ہتک عزت کا دعوی کر دیں گے ۔

ایک یہ گیٹ ہی کیا کئی بے تکے فضول گھر دیکھے ہیں میں نے جن کو دیکھ کر بنانے والوں پر غصہ آجاتا ہے۔ایسے بے تکے ڈیزائنز ہونگیں کہ نا کوئی سر ہوگا نا پیر۔۔موسم کو مدنظر رکھ کر بنانا یہاں موسٹلی لوگ توہین سمجھتے ہیں ۔۔اور ایسے اینگل سے گھر بنا لیں گے جن میں ڈائرکٹ سورج سے پنگا لے بیٹھے گیں۔

۔سارا دن بھٹیوں کی طرح گھر تپا رہے گا اور یہ جیتے جی جہنم کا مزہ لیتے رہیں گے۔۔گھر بناتے ہوئے جس چیز کا زیادہ خیال رکھنا ہوتا ہے وہ سرے سے نظر انداز کر دیں گے۔۔موسم کے الٹ گھر بنا دیں گے ۔۔ایسے گھر سردیوں میں کولڈ سٹوریج اور گرمیوں میں تندور کا کام دیتے ہیں۔

۔شہروں میں اچھے ایریاز کے علاوہ میرا نہیں خیال کہ کبھی کسی نے گھر بنوانے کے لیے کسی آرکیٹیکٹ سے خدمات لی ہوں ۔۔اور خود کو عقل کل سمجھ لینے کی وجہ سے خود ہی الٹا سیدھا ڈیزائن بنا لیں گے جو آگے جا کے بہت زلیل کرےگا ان کو ۔

۔چند سال بعد پتہ چلے گا چھتیں اونچی ہو رہی ہیں۔۔پھر پتہ چلے گا کمروں میں گھٹن ہوتی ہے اب دیواریں نکالنی ہیں۔اب فرش اونچا کرنا ہے اب کمرے چھوٹے کیے جا رہے ہیں ایک دروازہ بند کیا جا رہا ہے دوسرا کھلوایا جا رہا ہے اب گیراج میں گاڑی پھس رہی ہے ۔۔ایک مصیبت ختم تو دوسری شروع ۔

اور کچھ یوں بھی بے وقوفی کرلیتے ہیں کہ جس عمارت کی بنیاد کمزور ہوگی اس پر ایک اور عمارت کھڑی کردے گیں یوں اکثر چھت گرنے کا حادثہ رونما ہوجاے گا ۔۔

۔الغرض جب تک جیتے ہیں اسی گورکھ دھندے میں پڑے رہتے ہیں۔

ان اللہ کے نیک بندوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہر فیلڈ کو اس کا ماہر ہی ٹھیک طریقے سے سر انجام دے سکتا ہے۔ نقشہ بنوا لینے سے سو عذاب ختم ہوجاتے ہیں۔۔کیونکہ آرکیٹیکٹ نے یہی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے کہ ایک عمارت کو تعمیر کرنے میں کیا کیا اقدامات ضروری ہوتے ہیں ۔۔اور یہ عمارت کتنی حد تک آرام دہ ہوسکتی ہے۔اور اگر بالفرض آپ آرکیٹیکٹ کی خدمات سے محروم رہے اور خود ہی یہ کارنامہ کرنا ہے تو نیٹ پر ایک چھوڑ ہزاروں آئیڈیاز موجود ہیں جن سے گھر کو تعمیر کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔۔

۔گھر بنانا آسان کام نہیں ہے نا ہی اس میں تبدیلی ۔۔تو کیوں نا آپ پہلے ہی بنیادی اصولوں سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد شروع کرائیں ۔۔بے شک خوب صورت بنوائیں لیکن ڈیسنٹ بھی ہونا چاہیے۔۔کچھ گھروں کا پینٹ اتنا فضول کلر ہوتا ہے کہ سارے گھر کا ستیاناس مارا ہوتا ہے تیز نارنجی رنگ کا پینٹ اور وہ بھی شدید گرم علاقوں میں دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ آگ لگی ہوئی ہے ان گھروں میں۔

۔دو دو کلرز میں ڈایزایننگ پینٹ کا فیشن آیا یہاں کچھ لوگوں نے جزباتی ہوکر چار سے پانچ کلر میں پینٹ کروا دیے ۔ہمیں تو جو مرضی محسوس ہو ہماری چھوڑیں بچے بڑے خوش ہوتے ہیں۔۔ایسے گھر دیکھ کر ۔۔گزارش ہے کہ گھر بنوائیں تو نقشہ بنوا کر بنوائیں تاکہ تمیز سے بن سکے۔۔ اور ہاں یاد آیا ۔اگر دو گیٹ لگوانے ہیں تو اچھا گیٹ ڈسپلے پر لگائیں اور پیپا اندر ۔۔یا مر کے دونوں ہی اچھے لگا لو

 237