گوادر Gawadar والے تبدیلی کے منتظر ہیں

24 مارچ 2019

Gwadar walay tabdeeli ke muntazir hain

گوادر Gawadar پاکستان Pakistan بلکہ پورے بحر ہند کے خطے کا اقتصادی اور جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم سی پیک CPEC کے لیے ناگزیر تصور کیے جانے والے اس بندرگاہ شہر کی تمام تر صلاحیت کا نہ تو اب تک پوری طرح سے پتہ لگایا جاسکا ہے اور نہ ہی بھرپور انداز میں فائدہ اٹھایا جاسکا ہے۔

یہ شہر بندرگاہ کی تعمیر کے لیے پہلے ہی 19 ارب ڈالر billion dollor ز وصول کرچکا ہے جبکہ آئل ریفائنری oil refinery کے قیام کے لیے ایک اور 11 ارب ڈالر billion dollor کی سعودی سرمایہ کاری پر آنکھ لگائے بیٹھا ہے۔ مگر اس شہر کو صحت، پانی، تعلیم اور بنیادی انفرااسٹریچکر سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ موجودہ صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ صرف ناکافی ہیں بلکہ ان تک رسائی بھی دشوار ہے۔ اگرچہ مکران کے ساحلی علاقے میں تقریباً 4 برس بعد حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں سے پانی کے بحران کا مسئلہ نمایاں حد تک حل اور گوادر Gawadar ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) پر دباؤ ہلکا کرنے میں مدد تو ملے گی لیکن شہر کے مکینوں کو آئندہ گرمیوں میں بجلی کی قلت کا سامنا رہے گا۔

گوادر Gawadar کے لوگ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے منتظر ہیں جو رواں ماہ گوادر Gawadar ایکسپو 2019ء کا افتتاح کرنے کے لیے یہاں کا دورہ کریں گے۔ ان کے دورے کے موقعے پر متعدد مختلف منصوبوں کا افتتاح بھی متوقع ہے، جن میں گوادر Gawadar پاور پلانٹ، نیا (بین الاقوامی) ایئر پورٹ، ووکیشنل ٹریننگ کا ادارہ اور ایک ہسپتال شامل ہے۔ تاہم شہر کے رہائشی جشن منانے کے ساتھ خدشات میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے بھی شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک ارب ڈالر billion dollor دینے کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان Imran Khan کے دورے سے ممکن ہے کہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو بناوٹی طور پر تقویت ملے، کہ جس میں پورے ملک سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے لگائے ہوئے ہیں، اور اب ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو بندرگاہ شہر کے ماسٹر ڈیولپمنٹ پلان پر عمل شروع ہونے کا انتظار ہے۔

بلاشبہ گوادر Gawadar کے لوگ ایک مدت سے گوادر Gawadar اسمارٹ پورٹ سٹی پلان پر عمل کے منتظر ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ اس حوالے سے اتفاق رائے تو پیدا کیا جاچکا ہے لیکن اسے آخری شکل دینا اور منظور ہونا ابھی باقی ہے۔ بندرگاہ پر کام کرنے والی اور خصوصی اقتصادی زونز پر مختلف منصوبوں میں مصروف عمل چینی کمپنیوں نے بھی متعدد بار اس تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کرچکی ہے۔

تاہم شہر کے رہائشی زیادہ مقامی وجوہات کی بنا پر وزیراعظم کے منتظر ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister کے دورے سے چند گوادر Gawadar منصوبوں سے منسلک ماہی گیروں کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ وہ لوگ ایک عرصے سے احتجاجی مہم چلاتے آ رہے ہیں۔ شہری پرانے شہر کے مقامی باشندوں کی ری لوکیشن یا نقل مکانی کے بارے میں خدشات رکھتے ہیں اور اپنے مستقبل کو لے کر محتاط نظر آتے ہیں۔ اگرچہ صوبائی حکومت اور ڈی ڈی اے کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ مقامی افراد کی نقل مکانی شہر کے ماسٹر پلان کا حصہ نہیں لیکن لوگ فائنل پلان کو اپنے سامنے دیکھ لینے کے بعد ہی مطمئن ہوسکیں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان Balochistan جام کمال خان عالیانی نے گوادر Gawadar میونسپل کمیٹی کو گوادر Gawadar میٹروپولیٹن کارپوریشن کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس اعلان پر عملی کام کی شروعات بھی وزیراعظم عمران خان Imran Khan کے دورہ گوادر Gawadar کے موقعے پر متوقع ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی ثقافت اور تاریخ پر فخر کرتے ہیں اور وہ پرانے شہر کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، جو کہ شہر کے بیش قیمتی ورثے کو یہاں آنے والوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔

بیوروکریسی کے کام کے طریقے کی وجہ سے ماہی گیروں کا بظاہر طور پر سادہ اور آسانی سے حل ہوجانے والا مسئلہ کافی کٹھن بن گیا ہے۔ ماہی گیروں کے مطالبات 2 ہزار 300 ایکڑوں پر محیط گوادر Gawadar بندرگاہ کے فری ٹریڈ زونز کو مکران کوسٹل ہائی وے سے جوڑنے والی 6 لین والی ایسٹ بے ایکسپریس وے سے وابستہ ہیں۔ ماہی گیروں کا ماننا ہے کہ یہ سڑک انہیں سمندر تک پہنچنے میں رکاوٹ کا باعث بنے گی اور وہ طویل چکر لگانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اصلی ڈیزائن میں ماہی گیروں کو سمندر کے پانیوں تک رسائی دینے کے لیے ایک چھوٹی کازوے فراہم کی گئی تھی لیکن ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ کازوے بہت ہی تنگ ہے اور مطالبہ کیا کہ یا تو اسے کشادہ کیا جائے یا پھر انہیں پُلوں کے ذریعے سمندر تک رسائی دی جائے۔ حکومت نے متعدد بار ان کے مطالبات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا مگر کسی قسم کا ٹھوس قدم سامنے نہ آیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان Balochistan نے ایک اجلاس میں یہ دعوی کیا کہ صوبائی حکومت سڑک کو دوبارہ ڈیزائن کرنے پر کام کر رہی ہے اور کلورٹس کے بجائے پُلوں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت کو تجویز بھی ارسال کردی گئی ہے۔ تاہم گوادر Gawadar پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) کے چیئرمین نصیر خان کاشانی کے مطابق ایک پل پر لاکھوں ڈالرز کی لاگت آجاتی ہے جبکہ ماہی گیر 3 پلوں کا مطاکبہ کر رہے ہیں۔ ایک اور افسر کے مطابق بیوروکریسی نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنا دیا ہے، طے یہ ہوا کہ چینی یہ لاگت ادا کریں گے لیکن اس امید میں کہ ماہی گیر ایک عرصے کے بعد مسئلے کو بھول جائیں گے، یہ عمل تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ افسران نے حکومت کو یہ تاثر دیا کہ متعلقہ چینی ادارے کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی درخواست کرنے سے متعدد بار لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور چینی اس کے بدلے میں دیگر مطالبات بھی کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن یہ صوبائی حکومت، جی ڈی اے اور جی پی اے کے لیے ایک حقیقی امتحان جیسا ثابت ہوگا۔ ماہی گیروں کے مطالبات کو پورا کرنے میں تاخیر سی پیک CPEC کے خلاف غیرضروری غصے کا باعث بن رہی ہے۔

لکھاری کا حال ہی میں جب گوادر Gawadar جانا ہوا تو اس دوران ان سے تاجروں اور دکانداروں نے سی پیک CPEC اور بندرگاہ پر چینیوں کی موجودگی کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں جس ایک چیز کی کمی ہے وہ ہے چینیوں سے براہ راست رابطہ۔ چند افراد نے 2006ء سے پہلے کے وقت کو یاد کیا کہ جب چینی انجینئرز اور مزدور آزادانہ طور پر یہاں وہاں گھومتے تھے، جس کی وجہ سے مقامی کاروبار کو تقویت ملی تھی۔ مگر پھر بندرگاہ پر ہونے والے دہشتگرد حملے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور اب تو شہری چینیوں کو صرف سخت سیکیورٹی میں صرف ہائی ویز پر سفر کرتے یا پھر بندرگاہ کی دیواروں کے پیچھے دیکھ پاتے ہیں۔

سی پیک CPEC سے اب تک اس شہر کے رہائشیوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، لیکن پُرامیدی کا دامن چُھوٹا نہیں ہے۔ اب تک 269 بلوچوں کو جی پی اے میں گریڈ ایک سے 16 تک کی ملازمتوں پر رکھا جا چکا ہے، لیکن جی پی اے کے چیئرمین کو یقین ہے کہ 2025ء کے آتے آتے جب زیادہ تر سی پیک CPEC منصوبے تکمیل کو پہنچ جائیں گے تب ان سے شہر میں رہنے والوں کے ذریعہ معاش پر لازمی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

گوادر Gawadar ان دنوں محفوظ ہے، دہشتگردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مگر سیکیورٹی انتظامات سے زیادہ ایک خوف سا ماحول موجود ہے۔ مقامی صحافی شہریوں کے مسائل کے بارے میں محدود رپورٹنگ کرسکتے ہیں حتیٰ کہ پانی فراہمی کے مسائل پر بھی۔ شاید عمران خان Imran Khan کا عنقریب دورہ اور بے تکلفانہ گفتگو و ایکشن مقامیوں کو غیریقینی اور خوف کے ماحول سے چھٹکارہ دلانے میں مدد دے۔

 128