عظیم ڈیزائنر

ماجرا - بلال الرشید

24 مارچ 2019

azeem designer

انسان میں ایک صلاحیت ہوتی ہے ‘ ایک چیز کو ڈیزائن کرنے کی۔ ایک گھر ایک لوکل مستری یا ٹھیکیدار بناتاہے اور ایک بہت بڑا Architect۔ دونوں میں سیمنٹ ‘ اینٹ اور سریا ایک جتنا لگا ہے ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ لوکل حضرات اپنی کم علمی کی وجہ سے ضرورت سے زیادہ میٹریل لگا دیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ پیسے بچانے کے چکر میں عمارت ہی کمزورکر دیں ۔ دو تین سال کے بعد فرش بیٹھ جائے‘ سیوریج کے پائپ پھٹ جائیں ‘لیکن جو اصل ماہر تعمیر ہوتاہے ‘ وہ نہ توزیادہ میٹریل استعمال کرتاہے اور نہ کم۔ وہ کبھی کمزور عمارت نہیں بنائے گا ۔

بڑے ڈیزائنر کا بڑا نام ہوتاہے ۔ ایک بڑا Architectجو کہ فلک شگاف عمارتیں ڈیزائن کرتاہے ‘ اپنے ایک ایک ڈیزائن کا معاوضہ کروڑوں میں وصول کرتاہے ۔ یہی حال لباس کا ہے ۔جو لباس ایک لوکل بازار کی تنگ گلیوں میں ایک شخص لوہے کے سٹینڈ پر لٹکا ئے کھڑا ہے ‘ اس میں اور ایک بڑے ڈیزائنر کے لباس میں میٹریل ایک جیسا ہونے کے باوجود ڈیزائن اور نفاست میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بڑے ڈیزائنر کا بنایا ہوا ڈیزائن لاکھوں میں فروخت ہوتاہے ۔ایک بڑا ڈیزائنر کبھی کوئی کمتر چیز لوگوں کے سامنے پیش نہیں کرتا کہ جس سے لوگ یہ کہیں کہ اتنے بڑے ڈیزائنر نے یہ کیا بنا دیا ۔

اب ‘اگر آپ دنیا میں دیکھیں ۔ اپنے اردگرد‘ پھولوں میں ‘ تتلی کے پروں پہ بنے ہوئے نقش و نگار ‘جلتے بجھتے جگنو ‘ انسانی شکلیں ‘ بادل اور پہاڑ ‘ ہر جگہ آپ کو ڈیزائن نظر آئے گا۔یہ ڈیزائن آخری درجے کی خوبصورتی کا نمونہ ہوتاہے ۔ آپ پر پھیلائے ‘رقص کرتے ہوئے مور کو دیکھیں اور اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس کے پروں کے ڈیزائن اور رنگ بغیر منصوبہ بندی کے‘ اپنے آپ رونما ہوتے ہوئے ارتقا میں بن سکتے ہیں ؟ کبھی بھی نہیں بن سکتے؛ اگر آپ گہرائی میں غور کریں ‘زمین ‘ پہاڑ اور پورے پورے بر اعظم ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ‘ تفصیلات میں جا کر ڈیزائن کیے گئے ہیں ۔

ہم پیدا ہوتے ہیں ‘ توازن قائم کرنا سیکھتے ہیں اور زمین پہ چلنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ ہم کبھی نہیں سوچتے کہ یہ زمین کس طرح سے ڈیزائن کی گئی ہے ۔ اس میں کتنی کششِ ثقل ہے ‘ جو کہ ہمیں آرام سے پائوں اٹھانے کی اجازت دیتی ہے ۔ یہ کششِ ثقل نہ اتنی زیادہ ہے کہ ہم زمین سے چمٹ جائیں اور نہ اتنی کم کہ بندہ ہوا میں چھلانگیں لگاتا پھرے ۔ ذرا اس زمین کے نیچے جائیے ۔ آپ اس زمین کو پڑھیں کہ اس کا Crust Mantleاور Coreکیا ہے ۔ کیا زمین کے یہ تمام اندرونی اور بیرونی structuresاتفاقاً وجود میں آئے ہیں یا پھر اسے زندگی کے لیے قابلِ رہائش بنانے کے لیے خصوصی نظر کرم کی گئی ہے۔ یہ نظر کرم ہے ہمارے پیارے خدا کی ‘ جس نے مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے اس سیارے کو خصوصی اہمیت دی ۔ اس کی مٹی کو اس قابل بنایا کہ اس میں زندہ چیزیں رہائش پذیر ہو سکتی ہیں ‘ اگ سکتی ہیں ۔

اسی طرح اس کور‘ کرسٹ اور مینٹل کے درمیان میں کوئلے او رلوہے سمیت تمام ضروریاتِ زندگی تو رکھی ہی گئیں ‘لیکن جس طرح پانی کو زمین میں مقید کیا گیا ہے ‘ وہ بے مثال ہے ۔ گو کہ زمین کا دو تہائی حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے‘ لیکن یہ پانی خشکی کے جانداروں کے لیے قابلِ استعمال تو نہیں ۔ زمین پر میٹھے پانی کے ذخائر اسی خصوصی نظرکرم اور ایک مکمل ڈیزائن کانتیجہ ہیں ‘ جو کہ اس عظیم ڈیزائنر نے تخلیق کیا۔ یہ زمین زندگی sustainکرنے کے قابل ہے ‘ یہ ایک اتفاق ہرگز نہیں اور نہ ہی یہ اتفاق ہے کہ اس زمین کے ہر ذرّے پر زندہ مخلوقات موجود ہیں ؛اگر زمین کا کور ‘ مینٹل اور کرسٹ اس صورت میں تشکیل نہ دیا جاتا کہ وہ زندگی کو سپورٹ کرتا تو براعظموں پہ زندہ مخلوقات کبھی بھی زندگی گزارنے کے قابل نہ ہوتیں۔

سورہ مومنون میں اللہ فرماتاہے : (مفہوم)اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا ایک اندازے کے مطابق ‘ پھر اسے زمین میں ٹہرا دیا اور ہم اس کے لے جانے پر بھی قادر ہیں ۔ یہ صرف بارش کا ذکر نہیں‘ بلکہ سب سے پہلے جب زمین تخلیق ہو رہی تھی تو پانی دم دار ستاروں کے ذریعے زمین پہ نازل کیا گیا‘ پھر اسے زمین کی کششِ ثقل میں جکڑ دیا گیا۔ بارش کی صورت میں اور زیرِ زمین مٹی میں رکھ کر خدا نے اس پانی کی صفائی کا بندوبست کیا ‘ اسے پینے کے قابل بنایا ؛ اگر زمین کی ساخت ایسی نہ ہوتی کہ یہ پانی کو اپنے اندر ذخیرہ کر سکتی تو یہ پانی زیادہ نیچے چلا جاتا یا پھر بخارات بن کے اڑ جاتا۔ مریخ پہ کیا ہوا۔ وہاں یہی ہوا کہ اللہ اس کا پانی لے گیا۔ آج وہ بنجر ہے ‘لیکن کرّہ ٔ ارض کونازک زندہ جانداروں کے لیے قابلِ رہائش بنانے کے لیے خدا نے خصوصی توجہ دی ۔

یہی معاملہ انسانی شکلوں کا ہے ۔ آپ ایک ایک چہرے کو دیکھتے جائیں اور اس عظیم ڈیزائنر کے ڈیزائنز کی داد دیتے جائیں ۔ بالوں کی مدد سے کس طرح نسوانی اور مردانہ چہروں کو ایک دوسرے سے الگ کیا۔ عورتوں میں سر کے بال زیادہ اور مردوں کے چہرے پہ مخصوص جگہوں پہ بال اگا دئیے۔ یہی بال اگر ماتھے یا گال پہ اگے ہوں تو بد صورتی کا باعث بن جاتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بالوں کا رنگ بدل کر سفید ہو جانے کو بزرگی کی علامت بنایا ۔

دنیا ‘ انسان اور زندگی ڈیزائن کرنے والے نے تو اتنی باریکیوں کا حسا ب رکھ کر تخلیق کی کہ جو ہمارے اندازے سے بھی باہر ہے ۔ آپ کھانا کھانے کے بعد ڈکار لیتے ہیں‘ اس کی پشت پر بھی عظیم ڈیزائنر کی ڈیزائننگ ہے ۔ اصل میں زندہ چیزوں کو ہر لمحہ توانائی پہنچانے کے لیے ہوا میں آکسیجن رکھی گئی ۔یہ ہوا ہر جگہ موجود ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھانا کھاتے ہوئے ہم کچھ ہوا بھی نگل لیتے ہیں ۔ پھر اس ہوا کو باہر نکالنے کا یہ سسٹم رکھا کہ کھانا اور پانی تو کششِ ثقل کی وجہ سے نیچے چلاجاتاہے ‘ جبکہ ہوا ہلکی ہونے کی وجہ سے ڈکار کی صورت میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے خوراک کی نالی اور معدے کے سنگم پر ایک خصوصی ڈھکن لگایا ‘ جسے LESکہتے ہیں ؛ اگر یہ نہ ہوتا تو ڈکار میں آپ کا کھانا بھی ہوا کے ساتھ ہی واپس منہ تک آتا ۔ یہ عین ممکن تھا کہ انسان کو LESکے بغیر ہی پیدا کر دیا جاتا‘ لیکن وہ کوئی چھوٹا ڈیزائنر تو تھا نہیں کہ ناقص ڈیزائن بناتا ۔ LESکا کمال دیکھیں کہ کھانا منہ کی طرف سے آئے تو سکڑ کے اسے گزرنے کا راستہ دیتاہے ‘ پھر بند ہو جاتاہے اور اگر کھانا معدے کی طرف سے آئے تو اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور اسے اوپر جانے سے روکتا ہے ۔ اب ایک بندہ اگر یہ کہے کہ یہ چیز بغیر کسی ڈیزائن کے بنی ہے تو آپ اسے کیا کہیں گے ؟

جو چیز ایک منصوبے اور ڈیزائن کے مطابق بنتی ہے ‘ وہی خوبصورت ہوتی ہے ‘ وہی پائیدار ہوتی ہے ‘ جبکہ بغیر منصوبہ بندی کے جو کچھ بنتاہے ‘ کمزور اور بد صورت ہوتاہے ۔ ڈیزائن تو ہر طرف ہے ۔

ہمارے جسم میں ‘ زمین کے نیچے اور آسمانوں میں ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہم اس عظیم ڈیزائنر کو ڈھونڈنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟

 191