سرپرائز گفٹ

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

23 مارچ 2019

surprize gift

تحفے تحائف دینا دلانا بڑی اچھی عادت ہے۔اس ایکٹیویٹی کی ہمارے مذہب میں بھی بڑی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔۔بلکہ ایسے لوگوں کو سراہا گیا ہے جو تحفے دینے کے معاملے میں کنجوسی نہیں کرتے۔۔یہ واحد عمل ہے جس سے فورا اثر پڑتا ہے۔دلوں میں محبت بڑھتی ہے۔قدر بھی۔مزید بھی پوزیٹیو ایفیکٹس۔

۔مسئلہ یہ ہے کہ بڑی تیزی سے یہ چیز مفقود ہوتی جا رہی ہے۔۔بہت کم موقعوں پر لوگ گفٹس دیتے ہیں ورنہ وشنگ میسجز کرکے جان چھڑا لیتے ہیں۔۔ بری عادتیں معاشرے میں بڑی تیزی سے پھل پھول جاتی ہیں ۔۔۔ہم ان کا سدباب نہیں کرسکتے تو اچھے ایٹی کیٹس کو بھی تو ترک نا کریں نا۔۔۔!

ہماری فیملی میں ایک چیز ابو امی نے سکھائی وہ تھی سرپرائز گفٹس دینے کی عادت۔۔یہ بہت زبردست رویہ ہے ۔۔اچانک ملنے والی خوشی انمول ہوتی ہے اور تمام عمر یاد رہتی ہے۔۔ہمارے بچپن کے ایسے بہت سے واقعات ہونگیں جن کو شمار کرنا تو ممکن نہیں لیکن چند ایک شئیر کرنا چاہونگی۔کئی بار صبح جاگتےتو ہمارے تکیوں کے ساتھ ہمارے من پسند کھلونے بکس وغیرہ ہمارے انتظار میں ہوتے۔۔

کبھی لاہور کراچی مری وغیرہ کی تیاری بنا لیتے امی ابو اورہم سے یہ کاروائی خفیہ رکھی جاتی ایک دو دن پہلےجب ہمیں بتایا جاتا کہ کل یا پرسوں ہم جا رہے ہیں ۔تب جو خوشی کا عالم ہوتا الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

ایسی کوئی انمول خوشی محسوس ہوتی تھی آج اپنے لیے جو مرضی خریداری کرلیں ویسی ایکسائٹمنٹ محسوس نہیں ہوتی۔۔مجھے یاد ہے میں نے غالبا چھٹی یا ساتویں میں پوزیشن لی تھی ۔۔ابو جی ان دنوں کراچی گئے ہوے تھے۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ابو کو یاد ہوگا لیکن مجھے ابو جی نے یوں سرپرائز دیا کہ جب لوٹے میرے لیے ایک پیارا سا کیمرہ لائے ۔۔کیونکہ جانتے تھے کہ فوٹوگرافی کا مجھے ازحد شوق تھا۔۔

عام سے دنوں کو خاص یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں بناتی گئیں ۔اورہم یہ عادت ماں باپ سے سیکھ گئے۔۔ایک وقت تھا یہ ہمارے لیے سرپرائز گفٹس کا اہتمام کرتے تھے اب ہمارا وقت ہے اب ہم بہن بھائی ان کو اسی طرح سرپرائز گفٹس دیتے ہیں اور ان کے اچانک خوشی پر ملنے والے رسپانس سے محفوظ ہوتے ہیں۔۔

سکول گوئنگ ایج سےہی ہم پاکٹ منی جمع کر کے کبھی امی کے لیے پرفیوم یا چوڑیاں کبھی ابو کے لیے رسٹ واچ وغیرہ لیتے ۔جواب میں یہ لوگ ظاہر ہے بہت خوش ہوتے۔۔عیدین کے بعد ہمارے لیے سب سے بڑا ایونٹ امی ابو کی اینی ورسری ہوتا ہے۔۔جس کے لیے کئی دن پہلے اہتمام کرتے ہیں۔۔ جس میں گھر کو سجانا ۔۔امی اور ابو کے سب بہن بھائیوں کو دعوت دینا شامل ہیں۔۔

چند مہینوں پہلے ابو جی کی ایک میکینکل سامان پر مشتمل ٹول کٹ گم ہوگئی ۔۔جو انکو کسی دوست نے کوئٹہ سے بھجوائی تھی۔۔یہ بہت اداس ہوے۔کیونکہ بہت کام کی چیز تھی۔۔پچھلے مہینے ویسی ہی ایک کٹ آنلائن ایک سٹور پر مجھے نظر آئی۔میں نے فورا آرڈر کردیا تین دن بعد کٹ آگئی ۔

شام کو ابو آے میں نے بہن سے کہا سیل سے مووی بناو یہ چھپ کر مووی بنانے لگی میں نے وہ پیکٹ ابو کو لادیا ۔۔یہ حیرانی سے دیکھنے لگے کہ کیا چیز ہے۔بہرحال جب انہوں نے پیکٹ کھولا ۔۔ بڑی خوبصورت آسودہ سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیلی اور متشکر نظروں سے مجھے دیکھا۔۔میں فدا ہی ہوگئی ۔۔ویڈیو بنانے والا موبائل اگر سینس رکھتا تو یقینا ۔۔یہ منظر موبائل کو بھی بڑا پسند آتا۔

۔حال ہی میں ایک میگزین میں میرا ایک کالم چھپا انہوں نے ایڈریس پوچھا کہ ایک میگزین آپ کو اعزازی طور پر بھجوایا جاے گا۔میں نے ابو کا ایڈریس دے دیا کہ میرے باپ کو دیجئے گا۔۔چند دنوں بعد ابو کی کال موصول ہوئی۔ انہوں نے مبارک دی بہت خوشی کا اظہار کیا ۔آواز سے جھلکتی خوشی میں نے واضح محسوس کی۔۔یہی تو میں چاہتی تھی۔۔

ایسے سرپرائز بندے کی پرہشانیاں دور کردیتے ہیں۔ دنیا میں سکون سے جینا آسان کام نہیں رہ گیا۔۔مسلسل زمے داریاں نبھانا اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونا انسان کو تھکا کر مار دیتا ہے۔۔ایسےاقدامات ازحد ضروری ہیں جن سے بندہ وقتی طور پر ہی سہی راحت پاتا ہے۔۔آپ کے عزیز و اقارب حق رکھتے ہیں کہ انکو اسطرح کی خوشی دی جاے۔۔دوسروں کی زندگی میں خوشی اور آسانی کا سبب بنیں آپ کی زندگی میں یہ چیزیں اللہ تعالے آٹو میٹیکلی ایڈ کردے گا۔۔جن لوگوں کو گفٹس وغیرہ دینے دلانے کی عادت نہیں ہے۔۔کبھی یہ تجربہ کریں۔۔بہت شاندار تجربہ ہے ۔۔آزمائش شرط ہے۔

 96