صنوبر، چلغوزے، زیتون، شینے اورمینگروو کے جنگلات بلوچستان کا حسن

ٹیکسٹ نیوز - نیوز ایڈیٹر

21 مارچ 2019

صنوبر، چلغوزے، زیتون، شینے اورمینگروو کے جنگلات بلوچستان کا حسن

بلوچستان وسیع وعریض رقبے، منفرد، خوبصورت لینڈ اسکیپ اور محل وقوع کاحامل صوبہ ہے، اس سرزمین پر ایک جانب پہاڑی سلسلے، کہیں ریتیلے تو کہیں سرسبز میدانی علاقے ہیں جب کہ دوسری جانب 800 کلومیٹر کے لگ بھگ ساحلی پٹی ہے، قدرتی لینڈ اسکیپ کی حامل اس سرزمین کو اس کے سینے پر سجے مختلف اقسام کےجنگلات خوبصورت بناتے ہیں۔

ایک جانب زیارت، پشین، قلات سمیت 6 اضلاع پر محیط صنوبر ہے تو دوسری جانب ژوب، شیرانی، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور خضدار سمیت کم و بیش 7 اضلاع میں چلغوزے، شینے اور زیتون کےدرخت و جنگلات ہیں۔

اس کے علاوہ مکران اور قلات ڈویژن کی ساحلی پٹی پرپھیلے مینگروو کے جنگلات ہیں جو ساحل کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جنگلات مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار ایکٹر پر محیط ہیں۔ اگر کُل رقبےکی شرح کو دیکھا جائے تو یہ جنگلات بلوچستان کے 7.7 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع زیارت، قلات اور پشین سمیت مختلف اضلاع میں پھیلے صنوبر یعنی جونیپر کے ان جنگلات کا ذخیرہ مغربی امریکا کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ قرار دیا جاتا ہے۔

صنوبر کے یہ جنگلات ہزاروں سال قدیم ہیں اسی بناء پر انہیں زندہ قدیم باقیات یعنی living fossils بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اِس وقت صوبے میں پائے جانے والے اِن جنگلات کے تحفظ اور بقاء کے حوالے سے مختلف وجوہات کی بناء پر مختلف نوعیت کے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔

اس سلسلے میں جب محکمہ جنگلات بلوچستان کے چیف کنزرویٹر عبدالجبار سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ صوبے میں جنگلات کے تحفظ اور ایکوسسٹم کے حوالے سے کئی طرح کے مسائل درپیش ہیں، ان میں سب سے بڑا مسئلہ خشک سالی کا ہے، گزشتہ 8 سے 10 سالوں کے دوران بارش اور برفباری کی اوسط شرح میں کمی آئی ہے، بارش جو پہلے 300 ملی میٹر ہوتی تھی وہ اب نصف رہ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گررہی ہے، بارانی علاقوں میں درختوں اور جنگلات کو جو پانی ملتا تھا وہ بھی بہت کم ہوگیا ہے اس کے علاوہ مخصوص ماحولیات کی وجہ سے بلوچستان میں زمین صحرائی اور پتھریلی ہے جس کے باعث جنگلات لگانا اور ان کی پرورش کرنا کافی مشکل کام ہے۔

عبدالجبار کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اکالوجی اس قسم کی ہے جیسے کہیں desert یعنی صحرا اور ریتیلے علاقے تو کہیں پتھریلی زمین ہے، پہلے پہاڑی چشموں کا پانی بھی جنگلات کو ملتا تھا، ایک تو بارشیں اور برفباری کم ہونے کی وجہ سے ان چشموں کے پانی کی مقدار کم ہوگئی ہے دوسرا چشموں کے پانی کا رُخ اب زراعت کی جانب موڑ دیا گیا ہے، اس طرح اب یہ پانی زیادہ تر باغات اور فصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس صورتحال میں صوبے میں پہلے سے موجود جنگلات کا تحفظ اور بقاء اہمیت اختیار کر گیا ہے مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جنگلات کا تحفظ اور دیکھ بھال کبھی سرکار کی ترجیح نہیں رہی ہے۔

اس کا اندازہ صوبے کے ترقیاتی پروگرام یعنی پی ایس ڈی پی میں اس شعبے کے لیے مختص 0.41 فیصد کے انتہائی کم بجٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے، بہرحال اب اس سلسلے میں صوبائی حکومت اپنے طور پر اور وفاق کےتعاون سے بھی کام کررہی ہے۔

سیکریٹری محکمہ جنگلات ڈاکٹر سعید جمالی کے مطابق بلوچستان میں جنگلات کے شعبے میں وزیراعظم پاکستان کے وژن کے تحت ایک میگا پروجیکٹ پر کام ہورہا ہے، اس پروجیکٹ کے تحت صوبے میں آئندہ 5 سال کے دوران 25 ملین پودے لگائے جائیں گے، اس پروجیکٹ پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کیا جائے گا اس کے لیے نصف فنڈنگ صوبائی اور نصف وفاق کی جانب سے کی جائےگی۔

اسی حوالے سے کنزرویٹر فاریسٹ کوئٹہ ڈویژن نیاز محمد کاکڑ نے بتایا کہ پلانٹ فار بلوچستان مہم کے تحت کوئٹہ ڈویژن میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔

اس مہم کے تحت افغانستان سے ایران کی سرحد تک شجرکاری کی جارہی ہے۔ پشین اور قلعہ عبداللہ کے علاوہ کوئٹہ میں بھی پودے لگائے جارہے ہیں۔اس مقصد کے لیے 12 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس مہم میں تمام سرکاری حکام، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

پلانٹ فار بلوچستان مہم کا باقاعدہ افتتاح 19 مارچ کوخوبصورت اور دیدہ زیب وادی زیارت میں واقع مقامی الحجرہ ریذیڈینشل اسکول میں کیا گیا جس میں سیکریٹری جنگلات ڈاکٹر سعید جمالی،کمشنر سبی ڈویژن آغا سید فیصل، چیف کنزرویٹر جنگلات عبدالجبار اوردیگر حکام نے شرکت کی۔

چیف کنزرویٹر جنگلات کے مطابق اس ایک دن صوبہ بھر میں 40 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جس کا عزم رواں برس موسم بہار میں شجرکاری کا مقررہ ہدف کرنا تھا۔

بلوچستان میں جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے عوامی سطح پر شعور بیدار ہورہا ہے اور حکومتی مشینری بھی فعال ہے جب کہ شجرکاری مہم میں متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل اور سول سوسائٹی بھی بھرپور حصہ لے رہی ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ انہیں ماحول کے لیے درختوں اور جنگلات کی اہمیت کا ادراک ہے اور وہ ان کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے پرعزم بھی ہیں۔

 206