صحت پہلے یا سیاست؟

19 مارچ 2019

sehat pehlay ya siyasat ?

سابق وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif ان دنوں العزیزیہ ریفرنس میں سنائی گئی 7 سال قید کی سزا لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کاٹ رہے ہیں جہاں وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے کئی میڈیکل بورڈز بھی بن چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں ان کی بیٹی مریم کو ان سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی جس پر ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی طبعیت ٹھیک نہیں لیکن انہیں ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نے سابق وزیر اعظم Prime Minister میاں نواز شریف Nawaz Sharif سے جیل میں ملاقات کرکے ان کی مزاج پرسی کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان میثاق جمہوریت سمیت ملکی سیاسی صورت حال پر بھی بات ہوئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نے کہا کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے کو جیل میں دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ میں نےمیاں نواز شریف Nawaz Sharif کوسندھ میں بہترین علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ پیپلزپارٹی رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ Khursheed Shah کہتے ہیں کہ نواز شریف Nawaz Sharif کو کچھ ہوا تو یہ قتل سمجھا جائے گا جس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف اسپتالوں کے چکر لگوائے گئے لیکن امراض قلب اسپتال لے کر جانے کے بجائے انہیں دیگر اسپتالوں میں لے کر جانے سے ان کی عزت نفس متاثر ہوئی اور اب وہ کسی اسپتال جانے کو تیار نہیں ۔

میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی اور سابق وزیر اعظم Prime Minister میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو علاج کی سہولت فوری فراہم کی جائے اور اگر ان کے بھائی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی جب کہ مریم صفدر نے اپنے والد کے علاج کے لئے جیل میں امراض قلب کا پورا یونٹ تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو 24 گھنٹے کام کرے۔ صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے حکومت پنجاب نے نواز شریف Nawaz Sharif کے علاج کے لئے جیل میں ایک یونٹ قائم کردیا جس میں 24 گھنٹے ماہر امراض قلب ڈیوٹی دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے حکومت پنجاب کو میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو علاج کی ہرممکن سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ جس کے جواب میں محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایک خط جاری کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم Prime Minister میاں نواز شریف Nawaz Sharif پاکستان Pakistan کے کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ اسپتال اور ڈاکٹرسے علاج کروانا چاہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ تاہم میاں صاحب کے قریبی ذرائع کے مطابق نواز شریف Nawaz Sharif کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے ان کی ضمانت کی درخواست منظور ہو جانے کے بعد وہ لندن جا کر اپنے ڈاکٹر سے علاج کروائیں گے ۔

ادھر برطانیہ سے موصول ایک خبر کے مطابق لندن میں نواز شریف Nawaz Sharif کے ڈاکٹر نے ان کی لیباریٹری ٹیسٹ کی رپورٹس دیکھ کر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جیل کے کمرے میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے رگوں میں خون کی روانی متاثر ہورہی ہے ۔ لیکن پاکستان Pakistan میں ماہرین نے برطانیہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے معالج کو بھیجی رپورٹس پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اڈیالہ جیل لاہور شہر سے دور واقع ہے اور کھلی جگہ پر ہونے کی وجہ سے وہاں آکسیجن کی کمی کا ہونا انوکھی بات لگتی ہے پھر اس علاقے میں آلودگی بھی بہت کم ہے۔

میں نے کئی بار اڈیالہ جیل کے ان کمروں کو دیکھا ہے جہاں وی وی آئی پی شخصیات کو رکھا جاتا ہے۔ یہ کمرے گھر کے کمروں کی طرح بند نہیں ہوتے جہاں ہوا کا گزر کم ہو، جیل کے ان کمروں کی چھتیں اونچی ہوتی ہیں اور ان میں ہوا کا مناسب گزر کا خیال رکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ جس کمرے میں میاں نوازشریف کو رکھا گیا ہے اس کے باہر 500 گز کے قریب زمین پر سبزہ بھی لگا ہوا ہے او یہ ممکن نہیں ہے جیل کے سیل میں آکسیجن کی کمی ہو۔ بہرحال میاں صاحب کے پاکستانی ڈاکٹر رپورٹ ارسال کرنے سے پہلے ایک بار جیل کی وہ جگہ دیکھ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

میاں صاحب کے کمرے میں آکسیجن کا معاملہ ہم جیل انتظامیہ پر چھوڑتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif جیل میں ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی طبعیت خراب ہے ۔ فوری اور بہترین علاج کی سہولت ہر شہری اور قیدی کا بنیادی حق ہے اور اسے سیاست کی نظر کرنا ٹھیک نہیں ہے

موجودہ صورت حال میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif ایک سزا یافتہ قیدی ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواست عدالت عظمیٰ میں زیر التواء ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جیل میں قید دیگر بیمار قیدیوں کو یہ حق نہیں ملنا چاہیے؟ کیا دیگر قیدیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ غریب پاکستانی قیدی ہیں اور ان کو یہ سہولت فراہم نہیں جا سکتی ۔ یہاں یہ یاد دلانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ پچھلے دنوں کیمپ جیل لاہور میں قید ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے کیمپس ڈائریکٹر نے دل میں تکلیف کی شکایات کی جس پر جیل انتظامیہ نے توجہ نہیں دی اور ان کو امراض قلب کے اسپتال منتقل کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی ۔ اس شخص کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر جیل انظامیہ کو ہوش آیا اور اسپتال منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ لیکن بر وقت طبی امداد نہ ملنے اور اسپتال منتقل نہیں کیے جانے سے ان کی موت واقع ہو گئی ۔ بعد میں اس ڈائریکٹر کی ہتھکڑی لگی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جیل انتظامیہ میں کھلبلی مچی ۔

میڈیا کو بھی ایک اشو ہاتھ لگ گیا جسے سب نے مل کر پیٹنا شروع کر دیا۔ خبروں سے ٹاک شوز تک ہتھکڑی لگی لاش کی تصویر دکھا کر قصور وار اہکاروں کو سخت سزا دینے کے مطالبے ہوئے۔ جیل انتظامیہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ مریض قیدی کو اسٹریچر پر ڈالتے وقت ہتھکڑی نہیں لگی تھی اور پولیس نے اسپتال منتقل کرتے ہوئے اسے ہتھکری لگائی ۔ افسوس ہوتا ہے اس طرح کی خبروں یا یوں کہوں کہ کسی مجبور شخص کی لاش پر اپنی دکان چمکانے والوں پر۔

میں حیران ہوں کہ ایک قیدی کی جیل میں بروقت علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث موت واقع ہو جاتی ہے ۔ ایک شخص بچارگی اور جیل انتظامیہ کہ مجرمانہ غفلت سے مر جاتا ہے اور میڈیا کی توجہ اس کو علاج کی بروقت فراہمی نہ ملنے پر نہیں بلکہ ہتھکڑی لگی رہنے پر اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے پر رہتی ہے۔

میڈیا کے کردار پر کسی اور وقت بات کریں گے ورنہ ہماری توجہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی بیماری پر نہیں رہے گی۔ ہم بات کر رہے تھے کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif علاج کروانے پر تیار نہیں ہو رہے ۔ مگر میرے خیال میں حکومت کی جانب سے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو علاج کرانے کی جو پیشکش کی گئی ہے اس پر میاں صاحب کو ایک بار پھر غور کرنا چاہیے کیوں کہ "جان ہے تو جہان ہے" ۔

مجھے خدشہ ہے کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اپنی تکلیف برداشت کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے رہیں گے لیکن سیاسی رہنما ان کی صحت پر سیاست چمکاتے رہے گے۔ اللہ میاں صاحب کو صحتیاب کرے مگر فی الحال میڈیا پر ٹاک شوز میں زور شور سے ان کی خرابی صحت پر باتیں ہو رہی ہیں اور ان کی زندگی اور خدا نا خواستہ موت واقع ہونے کے بعد کی صورت حال پر سیاسی جماعتوں کے رہنما بیانات دے رہے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ مقبولیت اور ریٹنگ کی دوڑ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میاں صاحب کی صحت کے مسئلے کو سیاسی رنگ دے کر انسانی کے بجائے محض سیاسی بنایا جا رہا ہے ۔ یا یوں کہہ لیں کہ کسی کی بیماری کو بہانہ بنا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری کی نواز شریف Nawaz Sharif سے ملاقات میں جب میثاق جموریت کی مزید مضبوط اور فعال کرنے کی بات سامنے آئی تو سمجھ آیا بیمار کی عیادت کے دوران اس کی صحت کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے یا پھر میثاق جمہوریت پر بات کی جاتی ہے۔

طبی سہولیات کی بروقت فراہمی ہر قیدی کا بنیادی حق ہے جس میں کوتاہی کسی طرح نہیں ہونی چاہیے۔ نواز شریف Nawaz Sharif دل کے مریض ہیں اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں ہےکہ وہ شدید بیمار ہیں اور ان کا فوری علاج ہونا چاہیے۔ لیکن حکومت میاں صاحب کے علاج پر سنجیدگی سے کیوں نہیں دکھا رہی؟ اس سوال کے جواب میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ طب کے شعبے کا یہ اہم ترین اصول ہے کہ اگر کوئی مریض اپنا علاج نہ کروانا چاہے تو ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کرسکتا اور اگر وہ ایسا کرے تو مریض اس کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرسکتا ہے۔ اگر مریض آپریشن تھیٹر میں آپریشن کی میز پر پہنچ کر بھی یہ کہہ دے کہ وہ آپریشن نہیں کروانا چاہتا تو ڈاکٹر اس کا آپریشن نہیں کر سکتا تاہم آپریشن نہ کروانے سے مریض کو کسی قسم کے نقصان کا ذمہ دار ڈاکٹر نہیں ہوگا۔

میرے خیال میں میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو چاہیے اپنی صحت کا خیال کریں اور جب تک انہیں ضمانت نہیں مل جاتی لاہور کے امراض قلب کے اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں پر بھروسہ کریں اور اپنا علاج کروائیں۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وہ تمام سہولیات موجود ہیں جو دنیا کے کسی بھی اچھے اسپتال میں مہیا ہیں ۔

دیگرسیاست دان بھی سیاست کاکھیل کھیلنے کے بجائے نواز شریف Nawaz Sharif کو مشورہ دیں کہ وہ پاکستان Pakistan میں اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی ڈاکٹر یا اسپتال میں علاج کروا لیں تا وقت کہ ان کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں مل جاتی کیوں کہ زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔ جان ہے تو جہان ہے۔

 65