نریندر مودی narendra modi دوبارہ وزیر اعظم Prime Minister نامزد نہیں ہوں گے! …(2)

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

18 مارچ 2019

nerinder moodi dobarah Wazeer e Azam naamzad nahi hon ge! … ( 2 )

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق سترہویں لوک سبھا انتخابات میں ایک کروڑ سے زائد الیکشن اہل کار فرائض سر انجام دیں گے‘ جبکہ پاکستان Pakistan میں عام طور پر انتخابات میں تقریباً دس لاکھ کے لگ بھگ پولنگ کا عملہ تعینات کیا جاتا ہے۔ بھارت India میں 10 لاکھ پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے جبکہ پاکستان Pakistan میں تقریباً پچاس ہزار کے لگ بھگ پولنگ سٹیشن بنائے جاتے ہیں۔ بھارت India میں ساڑھے 86 کروڑ افراد ووٹ کاسٹ کریں گے‘ جبکہ پاکستان Pakistan میں دس کروڑ ووٹر رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے بھی کم و بیش آدھے ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ پاکستان Pakistan میں نئی رجسٹریشن ہو رہی ہے؛ چنانچہ امکان یہ ہے کہ اگلے انتخابات کے لیے ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ بھارت India میں ہونے والے الیکشن دنیا کے سب سے بڑے انتخابات ہی نہیں بلکہ یہ سب سے بڑا ہیومین مینجمنٹ پروجیکٹ بھی ہے۔ بھارت India میں 2014 میں ہونے والے انتخابات‘ جن میں بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی اکثریتی سیٹیں لے کر سامنے آئی تھی اور نریندر مودی narendra modi وزیر اعظم Prime Minister نامزد اور منتخب ہوئے تھے‘ انتخابی اخراجات 3870 کروڑ روپے ہوئے تھے‘ جبکہ پاکستان Pakistan میں ایسے اخراجات کا تخمینہ تین ارب روپے کے لگ بھگ سامنے آیا ہے‘ جس میں دوسرے ممالک کی جانب سے فراہم کی گئی سہولت الگ سے شمار کی جاتی ہے۔ بھارت India میں کسی بھی ڈونر ایجنسی سے امداد لینے کی ممانعت ہے۔ اپریل 2014 میں ہونے والے لوک سبھا کے سولہویں پارلیمانی انتخابات کے دوران 9 مرحلوں میں کل 543 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ان انتخابات میں نریندر مودی narendra modi کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے 336‘ کانگریس کے اتحاد یو بی اے نے 60‘ اور دیگر جماعتوں نے 113 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس میں بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی کی 282 اور کانگریس کی 45 نشستیں تھیں۔ یوں نریندر مودی narendra modi حکومت 26 مئی 2014 کو قائم ہوئی تھی‘ اور اس وقت وزیر اعظم Prime Minister (اب سابق) نواز شریف Nawaz Sharif حساس اداروں کے تحفظات کے باوجود نریندر مودی narendra modi کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے سو سے زائد سنہری بنارسی ساڑھیاں اور پچاس من برفی لے کر دہلی پہنچ گئے تھے۔

بھارت India میں اپریل‘ مئی 2014 میں رائے دہندگان کی تعداد 81 کروڑ 45 لاکھ سے بھی زیادہ تھی جبکہ 2002 کے عام انتخابات میں بھارتی Indian ووٹروں کی تعداد 71 کروڑ 30 لاکھ تھی۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان انتخابات میں 66.38 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا‘ جو بھارتی Indian انتخابات کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ تھا۔ اس سے پہلے انیس سو چوراسی کے انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ ہوتی تھی‘ یعنی لوگوں نے ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے تھے۔ حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی جو فضا قائم ہوئی اور کچھ دن سے برقرار ہے‘ سیاسی پنڈتوں کا اندازہ ہے کہ ان حالات میں بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی 230 سے 242 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے اور بی جے پی BJP کا اتحاد 270 تا 282 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے‘ جبکہ کانگریس کی سربراہی میں قائم اتحاد یو بی اے کو 92 سے 102 نشستیں حاصل ہونے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا اندازہ بھی ایسا ہی ہے۔ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ نریندر مودی narendra modi نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستان Pakistan مخالف پروپیگنڈا سے کام لیا اور اپنے ملک کے عوام کا جذباتی استحصال کیا ہے۔ سرحد کے اس پار اور اُس پار بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ تنائو بھارت India میں ہندو ووٹروں کو بے وقوف بنانے کے لیے جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہے اور یہ ساری مودی حکومت کی کارستانی ہے۔ اگر تو بھارت India کے آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں سیٹوں کی تعداد وہی یا اس کے قریب قریب رہتی ہے‘ جس کا سیاسی پنڈتوں کی جانب سے تخمینہ لگایا جا رہا ہے تو پھر نریندر مودی narendra modi کو حکومت سازی کے لیے دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانا اور چلانا ہو گا اور اسی سارے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت India کی آئندہ حکومت پاکستان Pakistan کی موجودہ حکومت کی طرز پر معلق پارلیمنٹ کی بنیاد پر تشکیل پائے گی؛ تاہم یہ بالکل واضح ہے کہ کامیابی کے باوجود نریندر مودی narendra modi اپنی پارٹی کی جانب سے دوسری مرتبہ وزیر اعظم Prime Minister کے لئے نامزد نہیں کئے جائیں گے‘ کیونکہ پاکستان Pakistan کے ساتھ حالیہ کشیدگی کی وجہ سے پارٹی کی جانب سے ان پر اعتماد بے حد مجروح ہوا ہے اور ان کی ساکھ بھی خاصی گر گئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پانچ سال کی حکومت میں مودی نہ تو بھارتی Indian عوام کی توقعات پر پورا اتر سکے ہیں اور نہ انہوں نے ان مافیاز کی ضروریات ہی پوری کی ہیں‘ جنہوں نے مبینہ طور پر ان کی حکومت تشکیل دینے کے لیے 2014 کے انتخابات میں ان کی پارٹی کے لئے فنڈنگ کی تھی۔ بھارتی Indian معیشت بھی پچھلے پانچ سالوں میں اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر سکی‘ جتنی تیزی سے من موہن سنگھ کے دور میں کر رہی تھی۔ اسی وجہ سے بھارتی Indian عوام مالی مشکلات بھی پہلے کی نسبت زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔

اب وزیر اعظم Prime Minister جناب عمران خان Imran Khan کی مثالی حکومت کی طرف آتے ہیں۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان‘ ان کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کا پروٹوکول اسی روایت پر گامزن ہے‘ جو 1980 سے چلا آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اپنی صوبائی حکومتوں کے اجلاس کی صدارت بھی باقاعدگی سے کر رہے ہیں‘ جب کہ آئین کے آرٹیکل 139 کے تحت صوبائی حکومت کو اپنا نظم و نسق چلانے کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے مذکورہ قواعد بھی موجود ہیں۔ ان کا احترام وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan پر لاگو ہوتا ہے۔ ان قواعد میں سے قاعدہ نمبر 28 کی شق 4 کے مطابق وزیر اعلیٰ پر صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرنا اختیاری نہیں لازم ہے؛ چنانچہ نواز لیگ کے عہدے داروں اور پیپلز پارٹی سے کچھ لوگ یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کس آئینی‘ قانونی اختیار کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔ عمران خان Imran Khan صاحب کو اس کے جواب میں یہ کہنا پڑے گا کہ وہ این جی او کے فلاحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے‘ جس طرح صدر آصف علی زرداری نے لاہور ہائی کورٹ کے رو برو بیان حلفی وسیم سجاد کی توسط سے داخل کرایا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک این جی او ہے‘ اس کا سیاسی حکومتی امور کے معاملات سے سروکار نہیں ہے اور ان کے حلفیہ بیان کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے معاملہ ختم کر دیا گیا تھا۔

حکمران جماعت کے اہم اور فعال ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار پاکستان Pakistan ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں۔ ان کو پاکستان Pakistan کی ہندو کمیونٹی کی حمایت حاصل ہے اور پلوامہ Pulwama سانحہ کے بعد ان کی ملاقات بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi سے خیر سگالی کے جذبے کے تحت دہلی میں ہوئی تھی‘ اور ان کو بھارتی Indian وزارتِ خارجہ کی جانب سے مکمل پروٹوکول دیتے ہوئے ان کی ملاقات بھارتی Indian وزیر خارجہ اور بعد ازاں انڈین وزیر اعظم Prime Minister سے کروائی گئی تھی۔ ان کے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ اب چونکہ دونوں ممالک میں کشیدگی ختم ہو رہی ہے تو میرے خیال میں یہ مناسب ہو گا کہ ڈاکٹر رمیش کمار کو ایمبیسیڈر برائے ہم آہنگی مقرر کرتے ہوئے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان پل کا کردار سونپ دیا جائے۔ ڈاکٹر رمیشن کمار کا بھارتی Indian با اثر حلقوں بالخصوص بھارتی Indian پارلیمنٹ اور میڈیا میں گہرا اثر ہے‘ اور دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی بحالی کے لیے ان کی اس پوزیشن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ میں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے خیر خواہوں میں شامل ہوں اور ان کی کامیابیوں کا خواہش مند بھی‘ لیکن یہ کہنا مناسب خیال کرتا ہوں کہ ان کی تھرپارکر کی تقریر کو حساس حلقوں میں منفی سوچ کا پیغام تصور کیا گیا۔ جس طرح بر صغیر کے عظیم سپوت ٹیپو سلطان کی ناکامی میں ان کے مشیران اور وزرا کا بڑا عمل دخل تھا، اسی طرح وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے ارد گرد بھی غیر ملکی شہریت کے حامل بعض شخصیات نے گھیرا ڈال رکھا ہے اور میرا اندازہ یہ ہے کہ وہی ان کے وژن کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ (ختم)

 131