مودی کا ہندو قوم پرستی کا ایجنڈا

زیر بحث - عارف نظامی

16 مارچ 2019

moodi ka hindu qoum parasti ka agenda

بھارت India میں اگلے ماہ عام انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے بعد انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان Pakistan میں ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی مہم جوئی کے دوران بھارت India کے سا تھ تعلقات کبھی الیکشن ایشو نہیں بنے لیکن مودی سرکار تو پاکستان Pakistan کے ساتھ جنگجویانہ رویہ کو خوب ہوا دے رہی ہے۔ پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد پاکستان Pakistan کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے بھارتی Indian انتخابی مہم میں پاکستان Pakistan کو ایک بڑا ایشو بنادیا ہے۔ نریندر مودی narendra modi کو بھارت India کے قریباً 20 کروڑ مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی پروا نہیں، وہ تو انتہا پسند ہندوؤں کی وکٹ پر کھیل رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی نے 2014ء میں ہو نے والے انتخابات میں بھی اینٹی پاکستان Pakistan اور اینٹی مسلم کارڈز استعمال کیے تھے۔ اس نے خود کو ایک بزنس فرینڈلی وزیراعظم کے طور پر پیش کیا تھا۔ ان انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی نے یہ تصور کر لیا تھا کہ عوام نے ان کے ایجنڈے کی بھرپور توثیق کر دی ہے۔ برطانوی جریدے ’اکانومسٹ‘ کے مطابق مودی کا کٹر ہندو قوم پرستی کا تصور جس میں پاکستان Pakistan کو سٹریٹجک حریف سے زیادہ تہذیب کیلئے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، انہیں اپنی پارٹی بی جے پی BJP میں الگ تھلگ کرتا ہے۔ بھارت India نے ہمیشہ سیکولرازم کو قومی اور آئینی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سیکولرازم کی داعی کانگریس کے دور میں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوتا رہا لیکن مودی کی قیادت میںہندو انتہا پسند برملا طور پر کہتے ہیں کہ یہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے لہٰذا ہندو راج ہی ہونا چاہیے۔ بھارت India کو ہندو ریاست بنانے کیلئے بھرپور ہتھکنڈے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بی جے پی BJP کو 2014ء کے انتخابات میں 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی BJP کے اصل ماسٹر مائنڈسنگ پریوار راشٹریہ سیوک سنگ RSS کے ہندو ہیں اور یہی اس کا ایجنڈا کنٹرول کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ آر ایس ایس RSS کو گلہ ہے کہ نریندر مودی narendra modi بھارت India کو مکمل ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے پر پوری طرح کام نہیں کر رہے۔ آر ایس ایس RSS کے آئیڈیل ہٹلر اور مسولینی ہیں اور اس کی رکنیت پچاس لاکھ مردوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ساٹھ ہزار کے قریب مالی طور پر خود مختار سیل ہیں اور گھیروی لباس میں ملبوس اس کے چھ ہزار کل وقتی متشدد پرچارک ہیں۔ چند روز قبل کانگریس کے صدر راجیو گاندھی کے صاحبزادے اور اندرا گاندھی کے پوتے راہول گاندھی اور ان کی ہمشیرہ پریانکا گاندھی نے مودی کے گڑھ گجرات کا دورہ کیا، وہاں راہول گاندھی نے ایک جلسہ عام میں سوال پوچھا کہ بھارتی Indian عوام گاندھی کا ملک چاہتے ہیں یا ان کے قاتلوں کا؟۔کانگریس کے نوجوان صدر کی والدہ سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ بھارتی Indian وزیراعظم’ وکٹم کارڈ‘ کھیل رہے ہیں۔ دہلی کے سابق وزیراعلیٰ کیجریوال، مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سب کہہ رہے ہیں کہ مودی بڑی ڈھٹائی سے الیکشن میں پاکستان Pakistan کارڈ کھیل رہا ہے نیز یہ کہ کشمیر میں یہ کہہ کر کہ وہاں گھس بیٹھئے گڑ بڑ کر رہے ہیں، مزاحمت کرنے والے کشمیری نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔ مقام شکر ہے کہ پاکستان Pakistan کے سیاستدان عمومی طور پر جمہوریت پسند ہیں اور ان کی جدوجہد کے نتیجے میں خاصی حد تک وطن عزیز چند محدود لابیوں کے گرداب سے نکل آیا ہے۔ اس امر کے باوجود کہ پاکستان Pakistan سیکولر ملک نہیں ہے بلکہ اسلام کے نام پر بنا ہے یہاں پر جمہوری نظام پرکوئی جھگڑا نہیں ہے اور جس انداز سے پاکستان Pakistan پر پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد بھارت India کے حالیہ شب خون کا مقابلہ کیا گیا اس سے ہماری سیاسی وعسکری قیادت، میڈیا اور عوام کی پختگی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ جس طرح ہندو مت بھارت India کے اداروں میں تیزی سے سرایت کررہا ہے اس سے خود بھارت India کے سیکولر اور روشن خیال حلقے تشویش میں مبتلا ہیں۔ تعلیمی اصلاحات کے نام پر کہا جارہا ہے کہ ہمیں کمزوری نہیں دکھانی چاہیے اور تعلیم اور نصاب جس میں ہندو تشخص نمایاں ہو جائے سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اسی طرح قانون میں مسلمانوں کے لیے اسلامی شریعت کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور یہ بھی یکساں ہونا چاہیے نیز یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کر دینا چاہیے۔ مزید برآں ایودھیا کے مقام پر بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی فی الفور تعمیرہونی چاہیے۔ مودی مندر تو بنانا چاہتا ہے لیکن بھارتی Indian سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔ مودی سرکار اپنی مڈھ کے سامنے سجدہ سہو کرنے پر مجبور ہے اور ہندو قوم پرستوں کو رام رکھنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ مثال کے طورپر سکولوں میں ہندوانتہا پسند اساتذہ کو بھرتی کیا جا رہا ہے حالانکہ مسلمانوں کی آبادی بھارت India میں 14 فیصد ہے ان کو ذات پات کی بنیاد پر خصوصی مراعات اور سرکاری ملازمتوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ صوبوں میںبی جے پی BJP کے چودہ سو اراکین اسمبلی میں سے صرف چار مسلمان ہیں۔ کشمیر کو بھی گورنر راج کے ذریعے نئی دہلی سے کنٹرول کیا جارہا ہے حتیٰ کہ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے جو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور پاکستان Pakistan کے دوست نہیں ہیں اب مجبوراً چیخ اٹھے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا کہ 2015ء اور 2018ء کے دوران 44 افراد جن میں 36 مسلمان ہیں کو ’’گاؤماتا‘‘ کا گوشت فروخت کرنے کی پاداش میں ہندو انتہا پسندوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے موت کی نیند سلا دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ہندو ایجنڈے نے ہر طریقے سے بھارت India کے جسد سیاست کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے کہ نام نہاد سیکولر راہول گاندھی بھی اب مندروں میں جا کر تصویریں کھنچوانے پر مجبور ہیں۔ اگراس بھارتی Indian حکمران جماعت کے فاشسٹ ایجنڈے کومدنظر رکھا جائے تویہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ وہاں پر مسلمان اور پاکستان Pakistan دشمنی کی بنیاد پر ایک نیا نظام ہندو راج بنایا جا رہا ہے۔ مودی سرکار کیونکہ اقتصادی طور پر عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے لہٰذا سارا زور اب اسی انتہا پسندانہ ایجنڈے پر ہے۔ اسی بنا پر نفرت کے جو بیج بوئے جا رہے ہیں اور جس میں بھارتی Indian میڈیا بیک زبان ہے خاصا امکان ہے کہ آئندہ انتخابات بھی بی جے پی BJP جیت سکتی ہے۔ یہ پاکستان Pakistan کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے اور حکومت سمیت پاکستان Pakistan میں جو عناصر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue اور دیگر تنازعات پر عام انتخابات کے بعد بامقصد مذاکرات کا احیا ہو گا انھیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

 111