اگلے جنم موہے مرد نہ کیجو

aglay janam mohee mard nah kijiyo

’اینٹی مردانہ مارچ ‘ مارچ میں کوئی ایسا بینر نظر نہیں آیا جس پر باپ، بھائی یا بیٹے کے خلاف کوئی جملہ لکھا ہو۔ثابت ہوا کہ نشانہ سراسر شوہر تھے۔ خواتین کا مارچ دیکھ کر اندازہوا کہ اصل میں ساری ذمہ داریاں مرد کی ہوتی ہیں، خواتین صرف اپنی زندگی انجوائے کرنے کے لئے پیدا ہوئی ہیں۔یہ تو پتا چل گیا کہ خواتین کو بالکل بھی تنگ نہیں کرنا چاہئے تاہم پورے مارچ میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس ضمن میں شوہروں کو بھی کوئی مراعات حاصل ہیں یا نہیں۔وہ کھانا جو بیوی گرم نہیں کرنا چاہتی اسے لانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟وہ گھر جس میں بیوی رہائش پذیر ہے اسے بنانے کا مدعا کس کے سر ہے؟ شوہروں کے خلاف اس مہم میں کسی بی بی نے یہ نہیں کہاکہ میری ماں کا شوہر بہت برا ہے۔کسی نے یہ پلے کارڈ نہیں اٹھایا کہ ’میری بھابی بہت اچھی جبکہ میرا بھائی بہت خرانٹ ہے‘۔ کسی طرف سے یہ سننے کو نہیں ملا کہ ’میری بہو معصوم ہے اور سارا قصور میرے بیٹے کا ہوتاہے‘۔ ساری بات شوہروں کے گرد ہی گھومتی رہی گویا مرد سے مراد صرف شوہر ہے۔ایک مطالبہ یہ بھی کیا گیا کہ ’میرے کپڑے میری مرضی‘۔ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن کیا یہ حق مردوں کا بھی ہے؟مردوں سے نفرت کی یہ ریلی مجھے بہت دلچسپ لگی۔ ان میں سے اکثر خواتین شاید کبھی بھی یہ حق اپنی اولاد کو نہ دیں۔ ان کے بیٹے جب بھی پسند کی شادی کرنا چاہتے ہیں یہ ’خاندان‘کا واویلا مچا دیتی ہیں۔ ان کی بیٹیاں کسی عام لڑکے کو پسند کرلیں تو یہ آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں۔ لیکن ریلی میں ان کی ڈیمانڈ تھی کہ اِنہیں آزادی دی جائے۔گویا خود یہ اپنی اولاد کو غلامی میں رکھنا چاہتی ہیں لیکن اپنے لئے آزادی مانگتی ہیں۔یہ کیوں فرض کرلیا گیا ہے کہ آزادی صرف مردوں کو ہی حاصل ہے۔ مردوں کی آزادی صرف اسی حد تک ہے کہ وہ رات کو اکیلے کہیں آجاسکتے ہیں، دوستوں یاروں میں دیر تک گپ لگا سکتے ہیں یا دوسری شادی کر سکتے ہیں۔ اس آزادی کا خمیازہ کیا ہے یہ شاید خواتین کو نہیں معلوم۔مہینے کے آخر میں جب بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں تو اِنہیں ادا کرنے کے لئے عورت کاپرس نہیں مرد کا بٹوہ درکار ہوتاہے۔آپ شوہر کے لئے تو کھانا نہیں گرم کر سکتیںلیکن یہی انکار آپ کی بہو آپ کے بیٹے کے لئے کرے تو آپ کو پتا لگ جائےگا۔ خواتین خودپر ہونے والے مظالم کی داستانیں بڑے شوق سے سناتی ہیں، لیکن دوسری طرف کی بات کوئی نہیں سنتا۔ ہر ایک کے اپنے اپنے فرائض ہیں، اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ جب طے کرلیا جائے کہ مجھے ہر ذمہ داری سے آزادی ملنی چاہئے تو پھر دوسرے کو بھی اس آزادی کا لطف اٹھانے کا موقع دیجئے۔ سب سے پہلے تو اس سوچ سے چھٹکارا پائیے کہ شوہر جب صبح آفس جاتاہے تو وہ اصل میں زندگی انجوائے کرکے واپس آتا ہے اور آپ گھر میں پڑی رہتی ہیں۔ میں نے پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ آپ کو ایک شوہرکو خوش رکھنا ہوتاہے جبکہ مرد باہر بیس شوہروں کو خوش کرکے آتا ہے تاکہ اس کے بیوی بچے سکون کی زندگی گزار سکیں۔جو مرد آپ کے سامنے بڑا مضبوط نظر آنے کی ایکٹنگ کرتاہے ذرا اس کے دفتر یا کام کی جگہ پر جاکر دیکھیں کہ وہ اپنی فیملی کے لئے کیسے کیسے لوگوں کی زہریلی باتیں صرف اس لئے برداشت کرتا ہے کہ روٹی، روزی کا سلسلہ برقرار رکھ سکے۔حالیہ مارچ کو دیکھ کر یوں لگا جیسے عورت کو مرد کی بالکل بھی ضرورت نہیں یا وہ مرد سے بیزار ہوچکی ہے۔یہ تجربہ بظاہر سننے میں تو بڑا اچھا لگتاہے لیکن جس طرح مرد کی زندگی سے عورت کو نہیں نکالا جاسکتا ، عورت بھی مرد کے بغیر ادھوری ہے۔ آزادی مارچ کی بجائے اس کا نام حقوق مارچ ہوتا تو زیادہ اچھا لگتا۔یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں اکثر خواتین کو جائیداد میں سے ان کا حصہ نہیں دیا جاتا لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ اکثر بیوی خود تو اپنے سسر کی جائیداد کی تقسیم کی حامی ہوتی ہے لیکن اپنے باپ کی جائیداد پر کسی بھابی کو بولنے کی اجازت نہیں دیتی۔مارچ میں شامل خواتین اس بات پر متفق نظر آرہی تھیں کہ تمام برائیوں کی جڑ مرد ہے لہذا اس کو جڑ سے ہی ختم کردینا چاہئے۔ میں نےایک خاتون سے پوچھا کہ بہن جی !آپ کی اگر طلاق ہوچکی ہے تو اس کا مطلب یہ کیسے ہوگیا کہ تمام شوہر برے ہوتے ہیں؟ اطمینان سے چیونگم چباتے ہوئے بولیں’میں نے کب کہا کہ میرے شوہر برے تھے، وہ تو بہت اچھے تھے، اسی لئےتو طلاق لے لی‘۔

خواتین وحضرات! میرے لئے آپ سب قابل احترام ہیں۔ میری زندگی میں عورت کی شکل میں ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی ہے جبکہ مرد کی شکل میں باپ ، بھائی اور بیٹے ہیں۔میری زبان سے عورت کے لئے برا نکلے گا تو اُس کی زد میں میرے رشتے بھی آئیں گے، اسی طرح اگر عورت مرد کو برا کہے گی تو پھر اسے اپنے باپ کو بھی ’صاحب کردار‘ ثابت کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔آزادی مارچ کو جتنا میں سمجھ پایا ہوں اس کے مطابق مردو کو چاہئے کہ وہ دن رات عورت کے آرام و سکون کے لئے ایک کردے لیکن کبھی اس سے ایک گلاس پانی تک نہ مانگے۔ آپس کی بات ہے خواتین نے جو پوسٹر اٹھارکھے تھے ان کی عبارت بھی اکثر مردوں نے ہی تجویز کی تھی۔ویسے جس قسم کے جملے آزادی مارچ کے پلے کارڈز پر لکھے گئے تھے ایسا کوئی ایک جملہ مرد لکھ دیتا تو قیامت نہ آجاتی۔مثلاً یہ کہ اپنے جوٹھے برتن خود دھوئو۔الگ گھر میں رہنا ہے تو والد گرامی سے مکان لکھوا کر لائو وغیرہ۔ لیکن یاد آگیا کہ ایک خاتون کے پلے کارڈ پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ ’جہیز ایک لعنت ہے‘ ماشاء اللہ۔یہ واحد لعنت تھی جسے صرف جہیز سے منسوب کیا گیا ، گو کہ اس کا ہدف بھی گھوم پھر کر مرد ہی تھا۔ بہت سے جملے میرے قلم میں آرہے ہیں لیکن بمشکل خودکو روکا ہوا ہے۔ آخر مردہوں ناں!

 81