احتساب کیوں ضروری!!

Such Do Qadam Door

15 مارچ 2019

احتساب کیوں ضروری!!

احتساب کیوں ضروری!!

کالم نگار:حمزہ میر!!

دنیا کا کوئی ملک اس وقت تک نہیں ترقی کر سکتا دنیا جب تک اس ملک کے لوگ خوشحال زندگی نا گزارتے ہوں لوگوں کو تین وقت کی روٹی میسر ہو، اپنا جسم ڈھاپنے کے لیے کپڑے لوگوں کے پاس ہوں اور لوگوں کے ٹیکس کا پیسا محفوظ ہو لوگوں کے ٹیکس کے پیسے کو اس طریقے سے محفوظ بنایا جائے اس کے لیے ایسا ادارہ بنایا جاتا ہے جو کسی بھی حکومتی عہدہ رکھنے والے شخص کسی بھی سیاستدان کا احتساب کر سکے تا کہ کوئی بھی ٹیکس کے پیسے کو ہاتھ نا لگا سکے کیونکہ اگر کرپٹ اور ملکی پیسا لوٹنے والے لوگوں کا احتساب ہو گا اور ملکی پیسا محفوظ ہوگا تو حکومت کے پاس پیسا ہو گا جس سے وہ لوگوں کے لیے مختلف قسم کی پالیسیز بنائے گیں تا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی ملے گی نوجوانوں کو روزگار ملے گا ملک ترقی کرے گا-

اگر پاکستان Pakistan نے بھی ترقی کرنی ہے تو ملکی خزانہ لوٹنے والے کرپٹ اور چوروں کو پکڑا جائے ان کو عبرت کا نشانہ بنایا جائے جن سے لوگوں کے دل میں ڈر پیدا ہو گا کہ اگر ملک کے پیسے کے ساتھ کھیلا جائے گا تو سخت سزا ملے گی ایسا سخت قانون بنایا جائے جس میں مختلف قسم کی سزائیں بنائی جائیں جو شخص جتنی کرپشن کرے اس کو اس کرپشن کے مطابق سزا دی جائے اگر کوئی شخص وزیر ہوتے ہوئے کرپشن کرے تو اس کو پوری عمر کے لیے نااہل کر دیا جائے اور اگر جتنے پیسے کی کرپشن کی ہو اس سے دو گنا اس سے وصول کیے جائیں اور ساتھ ہی 5 سال کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے-اگر کوئی سرکاری افسر کرپشن کرتا ہوا پایا جائے تو اس کو کرپشن کی نوعیت کے لحاظ سے سزا دی جائے اگر کرپشن کے پیسوں کی تعداد لاکھوں میں ہے تو پانچ سال سزا اگر کروڑوں میں تو دس سال سزا اور پیسے دو گناہ وصول کیے جائیں اگر رشوت لیتا ہوا پٹرا جائے تو سرعام اس افسر کا منہ کالا کیا جائے اور پیسے دینے والے شخص کو پانچ مہینے قید اور پیسے لینے والے افسر کو دس سال قید کی سزا ہونی چاہیے اگر ایسی سزائیں بنائی جائیں اور ان پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے تو پاکستان Pakistan سے کرپشن کا نام ایسے ختم ہو گا جیسے کبھی اس پاک دھرتی ماں کے پیسے کو کسی ناسور نے لوٹا ہی نہیں تھا لیکن اس تمام تر کام میں ایک بات ذہن نشین کرنی پڑھے گی ان تجویز کردہ سزاوں کو خالص طور پر ملکی پیسا لوٹنے والوں کے خلاف استعمال کیا جائے نا کہ سیاسی مخالفوں کے خلاف کیسز بنانے کے لیے-

پاکستان Pakistan کا موجودہ احتسابی نظام صرف نام کا ہی احتسابی نظام ہے تحقیقات دیکھ کر لگتا ہے جس بندے کے خلاف نیب نے کیس بنایا ہے اس نے ملک کو لوٹا ہے لیکن جب عدالت میں کیس جاتا ہے تو کیس کا ڈھرم تختہ ہو جاتا ہے نیب کے پراسیکوٹرز الزامات ثابت نہیں کر پاتے اور عدالت ان کو بری کر دیتی ہے جیسے نواز شریف Nawaz Sharif کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ کیس میں عدم ثبوتوں کی بنیاد پر تین دفعہ کے سابق وزیراعظم نوازشریف کو بری کر دیا گیا- نیب کے ادارے کو مضبوط بنانا پڑے گا تا کہ احتساب ممکن ہو سکے کیونکہ ملکی معشیت بھی احتساب کے ساتھ مشروت ہوتی ہے کیونکہ اگر کرپشن نہیں ہو گی تو حکومت کے پاس پیسے ہوں گے وہ لوگوں کے لیے معاشی پیکیج بنائے گی جس سے لوگوں کو فائدہ ہو گا-

 104