مودی سلامتی کونسل میں شکست سے پریشان

15 مارچ 2019

moodi salamti council mein shikast se pareshan

لاہور: ( روزنامہ دنیا) بھارت India کو سفارتی محاذ پر اس وقت بڑا دھچکا لگا جب بدھ کو سلامتی کونسل میں مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے پیش کی گئی تجویز کو چین China نے ‘ٹیکنیکل ہولڈ’ کا سہارا لیتے ہوئے روک دیا۔ بھارت India نے ثبوت کے طور پر اس آڈیو ٹیپ کو پیش کیا تھا جس میں 14 فروری کو پلوامہ Pulwama میں بھارت India کے نیم فوجی دستے پر ہوئے حملے کی مبینہ طورپر ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ چین China نے یہ کہتے ہوئے تجویز کی تائید کرنے سے انکار کر دیا کہ مسعود اظہر کے خلاف یہ پختہ ثبوت نہیں ہیں۔

"گزشتہ دس برسوں کے دوران مسعود اظہر کو اقوام متحدہ سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کی بھارت India کی یہ چوتھی کوشش تھی۔ اس سے قبل 2009، 2016 اور 2017 میں بھی اسی طرح کی کوششیں کی گئی تھیں لیکن بیجنگ نے انہیں بھی ناکام بنا دیا تھا۔ یہ تجویز فرانس کی قیادت میں 27 فروری کو پیش کی گئی تھی اور رکن ملکوں کو اپنا اعتراض داخل کرانے کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا جو بھارتی Indian وقت کے مطابق 13 مار چ کی رات ساڑھے بارہ بجے ختم ہو رہی تھی لیکن اس سے صرف ایک گھنٹہ پہلے چین China نے اس تجویز پر ‘تکنیکی روک’ لگا دی۔ چین China نے تجویز پر غور کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔ یہ تکنیکی روک چھ ماہ تک قائم رہ سکتی ہے اور اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی ہے۔

سٹریٹجک امور کے بھارتی Indian ماہر کیپٹن اُدے بھاسکر کے مطابق یہ کوئی غیر متوقع پیش رفت نہیں ہے: ‘‘یہ افسوس ناک ہے لیکن اس میں حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ پہلے سے ہی بہت واضح تھا کہ چین China پاکستان Pakistan کے لیے اپنی حمایت بند نہیں کرے گا۔’’سٹریٹجک امور کے ماہر راجیو شرما نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ‘‘فوری نقطہ نظر سے تو ہم اسے شکست کہہ سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ چین China طویل المدتی سفارت کاری کر رہا ہے۔ وہ مختلف امور پر بات چیت میں بھارت India کو بھی شامل کر رہا ہے ۔ خاص طور پر جب سے امریکہ United States کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔’’ اجیو شرما کا مزید کہنا تھا، ‘‘ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ چین China کے پاکستان Pakistan کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، پاکستان Pakistan میں چین China کا بہت ساسرمایہ بھی لگا ہوا ہے۔ ایسے میں پاکستان Pakistan کا ساتھ دینا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔’’

اس نئی پیش رفت پر یہاں حکمران بھارتی Indian ہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان گھمسان کا رن شروع ہوگیا ہے۔ مودی حکومت دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے بالاکوٹ پر مبینہ فضائی حملہ کے بعد مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشت گر د قراردینے کے معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی ہرممکن کوشش کر رہی تھی لیکن تازہ پیش رفت سے اسے مایوسی ہاتھ لگی ہے ۔اس پورے معاملے میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بی جے پی BJP حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے حکومت کی سٹریٹجک اور سفارتی ناکامی قرار دیا اور کہا کہ مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی ایک بار پھر اجاگر ہوگئی ہے۔ پارٹی کے اعلٰی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا، ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آج پھر ایک مایوس کن دن ہے۔ 56 انچ والی گلے ملنے کے سفارت کاری (ہگپلومیسی) اور جھولا جھولنے کے کھیل کے بعد بھی چین China پاکستان Pakistan کا اتحاد بھارت India کو ‘لال آنکھ’ دکھا رہا ہے۔ ایک بار پھر ایک ناکام مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی اجاگر ہوئی۔’’

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں کہا، ‘‘وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi چین China کے صدر شی جنگ پنگ سے خوف کھاتے ہیں۔ جب بھی چین China بھارت India کے خلاف کوئی ایکشن لیتا ہے تو وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi کچھ بھی نہیں بولتے۔’’ ایک اور ٹویٹ میں راہول گاندھی نے طنز کرتے ہوئے کہا، ‘‘وزیر اعظم Prime Minister گجرات میں شی جن پنگ کے ساتھ جھولا جھولتے ہیں، دہلی میں شی جن پنگ کو گلے لگاتے ہیں اور چین China میں ان کے سامنے جھک جاتے ہیں۔’’ دوسری طرف بی جے پی BJP نے تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا۔ اس نے اپنے آفیشل ٹویٹر پر کہا، ‘‘چین China آج سلامتی کونسل کا رکن نہیں ہوتا اگر آپ (راہول گاندھی) کے نانا (پہلے وزیر اعظم Prime Minister ) پنڈت نہرو نے اسے بھارت India کی قیمت پر چین China کو یہ سیٹ تحفہ میں نہیں دی ہوتی۔’’

 29