چین China اپنا یار، جس پہ جان بھی نثار

برملا - نصرت جاوید

15 مارچ 2019

chain apna yaar, jis pay jaan bhi Nisar

بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری نے بدھ کے روز جو پریس کانفرنس کی ہے میڈیا میں اس کی بہت دھوم ہے۔ بہت لوگ حیرانی سے یا جان بوجھ کر سادہ بنے سوال اٹھارہے ہیں کہ پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کے جواں سال رہ نما کو غصہ کیوں آیا۔ارادہ تھا کہ آج کے کالم میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت India میں لیکن ایک اہم مسئلے پر ہاہاکارمچی ہوئی ہے۔ ہمارے دوست چین China نے ایک بار پھر امریکہ United States ،برطانیہ اور فرانس کی جانب سے اٹھائے اس مطالبے کو رد کردیا جس کے ذریعے اقوام متحدہ کو ’’جیش محمد‘‘ کے سربراہ کو ’’دہشت گردوں‘‘ کی فہرست میں ڈال کر مختلف النوع پابندیوں کا نشانہ بنانے کا ارادہ تھا۔پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد بھارت India کو بہت امید تھی کہ اب کی بار چین China اس مطالبے کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائے گا۔ ’’ذرائع‘‘ کے ذریعے بلکہ میڈیا میں یہ کہانی پھیلائی گئی کہ مودی نے اپنی ’’جپھی ڈپلومیسی‘‘ کے ذریعے بھارت India اور چین China کے باہمی تعلقات میں بڑی گیرائی اور گہرائی فراہم کردی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کئی مسائل کے ہوتے ہوئے بھی بہت تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ ایران Iran پر عائد امریکی پابندیوں سے دونوں ممالک کو استثناء ملا ہے۔ ان دو ممالک کو ٹرمپ کے America Firstوالے جنون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے باہمی تعاون کو مزید بڑھانا ہوگا۔چین China سے اب کی بار امید اس لئے بھی باندھی گئی کیونکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی جانب سے پاکستان Pakistan کو گرے لسٹ میں ڈالنے میں اس کا ووٹ بھی شامل تھا۔ چین China نے بھاری بھرکم دلائل کے ساتھ پھیلائی ان تمام امیدوں پر لیکن پانی پھینک دیا۔یہ بات عیاں تھی کہ چین China کے بارے میں امید بھری کہانی اس لئے بھی پھیلائی گئی کہ اگر ’’جیش محمد‘‘کے سربراہ کے حوالے سے وہ بھارت India کو اقوام متحدہ کی چھتری فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا تو عام انتخابات کی طرف بڑھتے ہوئے ’’56انچ کی چھاتی‘‘ والا اپنی تقاریرمیں پاکستان Pakistan سے ’’چین China کی بھی‘‘ دوری کو اپنی سفارتی کامیابی بناکر دکھاتا۔ایسا ہو نہیں پایا اور اب تلملاہٹ ہی تلملاہٹ ہے۔چین China سے امید لگانا مگر خام خیالی تھی اور یہ بات بھارت India ہی کے ایک سینئر ترین سفارت کار نے چند دن قبل جیوتی ملہوترا کو The Printکے لئے تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔شیوشنکرمینن اس سفارت کار کا نام ہے۔اس کا باپ اور سسر برطانوی دور میں ’’برٹش انڈیا‘‘ کی چین China میں سفارتی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ اسے چینی زبان کے کئی لہجوں پر عبور حاصل ہے۔ اپنے کیرئیر کے دوران مینن کئی مراحل میں چین China میں سفارت کاری کے فرائض سرانجام دیتا رہا۔ بالآخر اس ملک میں بھارت India کا سفیر ہوا۔ وہاں سے جنرل مشرف کے دور میں پاکستان Pakistan میں بھارت India کا سفیر بن کر آیا۔ وزارتِ خارجہ سے فراغت کے بعد وہ من موہن سنگھ کا مشیر برائے قومی سلامتی بھی رہا۔ایک جہاں دیدہ سفارت کار ہوتے ہوئے جیوتی ملہوترا کو دئیے انٹرویو میں وہ بہت نپے تلے انداز میں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ بھارت India کو ’’جیش محمد‘‘ کے سربراہ کو اقوام متحدہ کی جانب سے ’’دہشت گردوں‘‘ کی فہرست میں ڈالنے کی کوششوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔اپنی گفتگو میں اس نے بہت مہارت سے یہ سوال بھی اٹھایاتھا اگر چین China بھارت India کی خواہش کے مطابق عمل کرے تو اس کے جواب میں مودی سرکار ’’شکرگزاری‘‘کے اظہار کیلئے کیا فراہم کرسکتی ہے ۔اسے نظر بظاہر ایسی کوئی ’’شے‘‘ نظر نہیں آرہی تھی۔چین China نے بھارت India کی امیدوں پر جو پانی ڈالا ہے اس نے پاکستانیوں کے دل یقینا موہ لیے ہیں۔ ایک بار پھر وہ ’’اپنا یار جس پہ جان بھی نثارہے‘‘ ثابت ہوا ہے۔ذرا ٹھنڈے دل سے مگر سوچیں تو معاملہ فقط ایک تنظیم اور اس کے سربراہ کی ’’حمایت‘‘ یا ’’حفاظت‘‘ ہرگز نہیں ہے۔

پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد اگر بھارت India کے پاس اس واقعہ میں مذکورہ تنظیم کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود تھے تو اسے ان شواہد کو فی الفور اقوام متحدہ وغیرہ کے روبرولانا چاہیے تھا۔ ایسا کرنے کے بجائے اس نے خود ہی مدعی اور منصف بنتے ہوئے بالاکوٹ پر فضائی حملہ کردیا۔ پاکستان Pakistan اگر اس حملے کا مؤثر جواب فراہم نہ کرپاتا تو جنوبی ایشیاء میں بھارت India کی ’’تھانے داری‘‘ عالمی سطح پر تسلیم ہوئی نظر آتی۔اس ’’تھانے داری‘‘ کا ’’دائرہ اختیار‘‘ بتدریج پاکستان Pakistan تک ہی محدود نہ رہتا۔ نیپال،سری لنکا اور خاص کر مالدیپ جیسے ممالک بھی خود کو بھارت India کی تابع ریاست تصور کرنے کو مجبور ہوجاتے۔ پاکستان Pakistan کی محبت کے علاوہ چین China نے اپنے ویٹو کے ذریعے ان ممالک کو بھی بھارت India کی ممکنہ تھانے داری سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔یہ کوشش اس کی طرف سے اس لئے بھی ضروری تھی کہ کئی برسوں سے امریکہ United States چین China کو گھیرے میں لینے کے لئے بھارت India کو اس امر پر اُکسارہا ہے کہ وہ چین China کے جنوب میں واقع سمندر میں اپنی موجودگی اور اس سے جڑے ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھائے۔ اپنی بحری قوت کو چین China پر ’’چیک‘‘ کے قابل بنائے۔اسی باعث آسٹریلیا، جاپان اور ویت نام وغیرہ بھارت India کے بہت قریب آرہے ہیں۔ان ممالک سے ملحق سمندر کو امریکہ United States نے اب Asia Pacificکے بجائے Indo-Pacificپکارنا شروع کردیا ہے۔مختصر لفظوں میں بھارت India کا زیرنگین سمندر۔بھارت India کو اگر اس سمندر میں چین China کا براہِ راست ہمسایہ نہ ہوتے ہوئے بھی ایک ’’چیک‘‘ کی صورت اختیار کرنے کی تڑپ ہے تو پھر اسے یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ چین China اسے اپنے Immediate Neighborhoodیعنی جنوبی ایشیاء میں ’’تھانے دار‘‘ بن کر ابھرنے دے گا۔چین China کی مزاحمت کو وسیع تر جغرافیائی تناظر میں رکھ کر دیکھنا لہذا ضروری ہے۔

چین China نے ایک خاص تناظر میں اقوام متحدہ میں پاکستان Pakistan کا ایک تنظیم کے حوالے سے جو ساتھ دیا ہے اسے سراہتے ہوئے بھی ہمیں اس حقیقت کو ہر صورت نظر میں رکھنا ہوگا کہ ایسی تنظیمیں پاکستان Pakistan کے دوستوں کو سفارتی امتحانات سے گزارنا شروع ہوگئی ہیں اور دوستوں کو ہمیشہ امتحان میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ایسی تنظیموں پر لگام ڈالنا اب ہر صورت ضروری ہوگیا ہے۔

 168