ملا محمد عمر اور جدید اسلامی تحاریک

حرف راز - اوریا مقبول جان

15 مارچ 2019

mola Mohammad Umar aur jadeed islami tharik

ہالینڈ کی صحافی بیٹی ڈیم (DamBette ) کی کتاب ’’ OP ZOEK NAAR DE VIGAND‘‘ جو ولندیزی زبان میں ہے، جس کا انگریزی میں ترجمہ Looking for the enemyیعنی "دشمن کی تلاش" ہے، آج کل دنیا بھر میں ملا محمد عمر کی بارہ سالہ خفیہ زندگی کے بارے میں کیے گئے انکشافات کے حوالے سے ہر جگہ زیر بحث ہے۔ چونکہ یہ کتاب ایک مغربی صحافی نے تحریر کی ہے اس لیے پاکستان Pakistan کا مغرب زدہ، سیکولر لبرل صحافی اور تجزیہ نگار بھی اس پر ایمان لا کر چپ سادھے ہوئے ہے۔ حالانکہ وہ دانشور جوشروع دن سے افغانستان Afghanistan میں آنے والے انقلابات اور طالبان کی حکومت کا تعصب کی عینک اتار کر مطالعہ کرتے رہے ہیں، ان کے نزدیک اس کتاب میں کوئی ایک بھی نئی بات تحریر نہیں کی گئی۔ سترہ سال تک امریکہ United States ، بھارت India اور افغان کٹھ پتلی حکومت کی بولی بولنے والے اور صرف پاکستان Pakistan کی بدنامی کی خواہش دل میں پالنے والے دانشور کس قدر ڈھٹائی سے اپنی تحریروں اور گفتگو میں ملا محمد عمر کے پاکستان Pakistan میں چھپے ہونے کی کہانیاں تراشتے اور کس قدر یقین سے بتایا کرتے تھے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے اوراسے کس نے پناہ دے رکھی ہے۔ لیکن جس طرح طالبان کی عالمی طاقتوں کو شکست کے واقعے نے ان کے رنگ فق کر دیے ہیں ویسے ہی اس کتاب نے ان کی سازشی تھیوریوں کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔ افغانستان Afghanistan میں ہی رہنا، وہیں پر اپنی اسلامی تحریک کی منصوبہ بندی کرنا، اپنے وسائل کو استعمال میں لانا اور خالصتاً اللہ پر توکل کرتے ہوئے جہاد کرنا، یہ طالبان کی اس اسلامی تحریک کے بنیادی تصورات تھے جنہوں نے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ملا محمد عمر کی یہ اسلامی تحریک اپنے وجود میں خالص اور اپنی بود و باش میں جدید دنیا سے مختلف نظر آتی تھی۔ اس اسلامی تحریک کی اصل خصوصیت یہ تھی کہ وہ صرف بود و باش میں ہی نہیں بلکہ اپنی تمام تر اصطلاحات میں بھی اسلامی تھی۔ ان کے ہاں صدر، وزیر اعظم Prime Minister ، وزیر اعلی، پارلیمنٹ، جمہوریت، انقلاب جیسی اصطلاحیں کبھی استعمال نہیں ہوئیں۔ شروع دن سے انکا مقصد اس ماحول اور معاشرے کا قیام تھا جو اسلام کی ابتدائی زندگی یعنی ریاست مدینہ میں قائم کیا گیاتھا۔ اس کیلئے وہ کسی تدریج یعنی منزل بہ منزل اور آہستہ آہستہ جانے کے قائل نہیں تھے، اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے فوری طور پر اسے نافذ کر کے دکھا دیا۔ اس فوری نفاذ کے عوامی سطح پر فیوض و برکات اسقدر تھے کہ سوائے شمالی اتحاد کے وہ علاقے جہاں ایران Iran اور بھارت India کی پشت پناہی سے ان کے خلاف ایک منظم جنگ مسلط کی گئی تھی، پورے افغانستان Afghanistan میں کسی ایک جگہ بھی انہیں مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ بیٹی ڈیم نے اپنی کتاب میں ملا محمد عمر کو اپنی کرامات کی وجہ سے ایک ولی اللہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ کیسے وہ امریکی اڈے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر قیام پذیر رہا، اس کے گھر پر چھاپا پڑا لیکن امریکی اسے پکڑ نہ سکے۔ 23 اپریل 2013ء کو جس دن اس کا انتقال ہوا تو سخت گرم موسم کے باوجود ،قندھار کے ایئربیس پر اس قدر شدید ژالہ باری ہوئی کہ 80 کے قریب ہیلی کاپٹر تباہ ہوگئے۔ایسے واقعات ان لوگوں کے لئے بالکل حیران کن نہیں جو ملا محمد عمر اور تحریک طالبان کو شروع دن سے جانتے ہیں۔ 1994ء کے ستمبر کے مہینے میں جن پچاس کے قریب مردانِ خدا نے افغانستان Afghanistan میں امن کے قیام اور نظام اسلامی کے نفاذ کیلئے سید الانبیا ء ﷺکے جبہ مبارک پر ہاتھ رکھ کر ملا عمر کی بیعت کی تھی ان کے بارے میں میرے جیسے لاتعداد افراد کوکامل یقین تھا کہ ایسے مردان خداکی نصرت کے لئے اللہ اپنے فرشتے ضرور نازل کیا کرتا ہے۔ ملا محمد عمرکی شخصیت رسول اکرم ﷺ کی اس حدیث کے مصداق تھی "تم مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے" (ترمذی، الجامع، ابواب تفصیر )۔ غور کیجئے ، بظاہر بے سروسامانی اور جدید ٹیکنالوجی سے محرومی کے باوجود اللہ نے انکی ایک ایسی حکمت عملی کی طرف رہنمائی فرمائی کہ طالبان آج کامیاب ہیں جبکہ ان سے پہلے اور بعد میں اٹھنے والی تمام تحاریکِ اسلامی یا تو ناکام ہو گئیں یا پھر متنازعہ بن چکی ہیں۔ عالمی نو آبادیاتی طاقتوں سے آزادی کی جدوجہد اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے دوران اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ 1883ء میں مہدی سوڈانی تحریک نے انگریزوں کو شکست دی، لیکن محمد احمد جو اس تحریک کے روح رواں تھے، ان کے مہدی ہونے کے دعوؤں اور کرشماتی و کراماتی کہانیوں نے تحریک کو اصل مقصد سے ہٹا کر اسے درویشوں کی تحریک بنا دیا۔ مصر کی اخوان المسلمون اور برصغیر کی جماعت اسلامی جدید دور میں ،دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کیلئے نشان راہ سمجھی جاتی ہیں۔ مولانا مودودی کے انقلابی خیالات اور ان پر سید قطب شہید کی مہر تصدیق نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو نشاۃ ثانیہ اور انقلاب کے لئے علمی مواد مہیا کیا اور اس مقصدکے لیے افراد کو بھی منظم کیا۔ لیکن ان دونوں تحاریک کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ دونوں مغرب کے عطا کردہ جمہوری ڈھانچے کی غلام ہو کر رہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصر میں مرسی کو اکثریت کے ساتھ حکومت ملی بھی تو اسے طاقت سے اتار پھینکا گیا۔ پاکستان Pakistan میں جماعت اسلامی کیلئے تو اب جمہوری راستے سے برسر اقتدار آنا صرف خواب ہی رہ چکا ہے۔ تقی الدین نبھانی کی حزب التحریرکے علمی کام نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا لیکن وہ غلبے کیلئے جن اہلِ نصرہ کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے ، انہی کے ہاتھوں آج دنیا بھر میں شدید عتاب کا شکار ہیں۔ ایران Iran میں آیت اللہ خمینی نے ایک انقلابی اسلامی حکومت قائم تو کرلی لیکن اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنے ہم مسلک گروہوں کے ذریعے اسلامی انقلاب کو باقی اسلامی ملکوں میں برآمد کرنے ایسی کوشش کی کہ جس کے نتیجے میں ایرانی انقلاب اسلامی قوانین کے باوجود ،یمن Yemen سے لیکر پاکستان Pakistan تک متنازعہ ہوگیا اور اب تو یہ صرف ایران Iran کی علاقائی بالادستی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ القاعدہ کی جہادی تحریک کا مقصد صرف مزاحمت تھی اس لئے وہ نفاذ شریعت تک نہ پہنچ سکے۔ انقلاب اور حکومت انکا مسلہ ہی نہیں تھا۔عراق Iraq اور شام میں سنی علاقوں میں شدید ظلم و تشدد کے نتیجے میں اٹھنے والی تحریک" داعش" نے اسلامی تصور حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ اچانک ایک چھوٹا سا علاقہ قبضہ کر کے ایک ریاست کا اعلان کردیا گیاجس کی وجہ سے دنیا بھر سے مسلمان جذبہ جہاد سے سرشار وہاں جا پہنچے اور امریکہ United States ، روس، ایران Iran اور عراق Iraq ، ان سب نے ملکر انہیں بھون ڈالا۔ افغان جنگ کے دوران ،روس Russia کے خلاف افغانستان Afghanistan کے مجاہدین کی سات تنظیمیں بھی چونکہ اللہ پر توکل کم اور امریکی دولت اور سٹنگرز پر بھروسہ زیادہ کرتی تھیں، اس لیے کبھی بھی ایک جامع تحریک کے طور پر اکٹھا نہ ہو سکیں اور ایک ایسی خانہ جنگی میں مبتلا ہو گئیں ، جس کے نتیجے میں طالبان وجود میں آئے۔ ان تمام کے برعکس مومن کی جس فراست کا مظاہرہ ملا محمد عمر کی اسلامی تحریک نے کیا وہ یقینا اللہ کی نصرت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے پہلے دن سے کسی دوسرے ملک یا طاقت کے بغیر اللہ پر توکل سے جہاد کا آغاز کیا، دنیا میں مروجہ جمہوری سیاسی نظام کے تصور سے بھی دور رہے، افغانستان Afghanistan سے کسی بھی دوسرے ملک میں امام خمینی کی طرح انقلاب برآمد کرنے کی کوشش نہیں کی، اپنی حکومت کو اپنے ہی ملک میں شریعت کے نفاذ تک محدود رکھا۔حکومت چھن جانے کے بعد امریکہ United States اور تمام عالمی طاقتوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک ان عالمی طاقتوں نے یہ تسلیم نہیں کرلیا کہ افغانستان Afghanistan پر حکومت کا حق صرف طالبان کا ہے اور ان کی آئندہ بننے والی حکومت عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت ہوگی۔ یہ تھی حکمت عملی ، جس کے نتیجے میں اگرآج طالبان حکومت بنتی ہے تو پھر ایسی حکومت کو "داعش" کی طرح دہشت گرد قرار دے کر تباہ نہیں کیا جا سکے گا۔ملا عمر۔۔۔ ایک عام مدرسے کا قرآن Quran و حدیث کا عالم، دنیا کی آسائشوں اور ٹیکنالوجی سے دور ایک ایسا رہنما جسکی سیاسی بصیرت اور جہادی فراست اس بات کا ثبوت ہے کہ مومنوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ سچ ہے " تم ہی کامیاب ہوگے اگر تم واقعی مومن ہو (آل عمران:139)۔ اگر ہم کامیاب نہیں ہیں تو ہمیں اپنے مومن ہونے پر شک کرنا چاہیے۔

 191