سپریم کورٹ نے اچھا کیا!!

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

15 مارچ 2019

Supreme Court ne acha kya! !

میں سوچ رہا تھا کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی خرابیٔ صحت اور بڑھتی ہوئی تشویش کہ کہیں جیل میں اُن کو کچھ ہو نہ جائے کے تناظر میں لکھوں گا کہ سپریم کورٹ کو نواز شریف Nawaz Sharif کی اپیل جلد سن لینا چاہئے لیکن اچھا ہوا کہ محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے متعلقہ کیس آئندہ ہفتہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ مجھے ڈر تھا کہ اللہ نہ کرے اگر میاں صاحب کو جیل میں کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا سیاسی اور عوامی ردعمل اگر حکومت کے لیے ہو سکتا تھا تو اس سے پاکستان Pakistan کی عدلیہ کا بچنا بھی ممکن نہ تھا اور ممکنہ طور پر ایک اور عدالتی قتل کی باتیں بھی ہو سکتی تھیں۔ گزشتہ رات ہی ایک ٹی وی ٹاک شو میں پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی مطالبہ کیا کہ میاں صاحب کے کیس کو جلدی سنا جائے۔ یہی بات نون لیگ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ کر رہے تھے اور اس کی سب سے اہم Justificationیہی ہے کہ دوسرے تمام کیسوں میں چاہے وہ پاناما دستاویزات میں سامنے آنے والے پانچ سو پاکستانیوں کے نام ہوں یا نیب کے احتساب عدالتوں میں چلنے والے درجنوں مقدمات، صرف نواز شریف Nawaz Sharif کے کیس کا ٹرائل ہوا اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تناظر میں ایک مقررہ مدت کے اندر اندر نیب نے ریفرنس تیار کیے، روزانہ کی بنیاد پر ان مقدمات کو سنا گیا، عدالت عظمیٰ کے ایک جج صاحب کو اس سارے پروسیس کے لیے مانیٹر جج مقرر کیا گیا۔ کسی دوسرے مقدمہ یا کیس کے لیے ایسا کوئی عدالتی حکم موجود نہ تھا اور اسی وجہ سے اس کیس کے متعلق تنازعات نے جنم لیا۔ نہ صرف یہ بلکہ جن مقدمات میں احتساب عدالت سے نواز شریف Nawaz Sharif کو سزائیں دی گئیں اُن عدالتی فیصلوں پر ملک کے بڑے بڑے قانون دانوں تک نے اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ یہ فیصلے کمزور ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ ایون فیلڈ کیس جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف Nawaz Sharif کو دس سال، مریم نواز Maryam Nawaz کو سات سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی، کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ نے نہ صرف ان سب کی ضمانت منظور کی بلکہ احتساب عدالت کے فیصلے کی دھجیاں اڑا دیں۔ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف Nawaz Sharif کو سات سال کی سزا سنائی گئی اور یہ فیصلہ بھی بہت سے قانون دانوں کی نظر میں اس لیے کمزور ہے کہ سزا مفروضوں کی بنیاد پر دی گئی ہے اور فیصلے میں بار بار انگریزی کے الفاظ ’’Presume‘‘ اور ’’Presumption‘‘ لکھے گئے ہیں۔طبی بنیادوں پر نواز شریف Nawaz Sharif نے اسلام آباد Islamabad ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں فیصلہ اُن کے خلاف آیا۔ اس فیصلے کے خلاف نواز شریف Nawaz Sharif نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور گزشتہ ہفتے درخواست کی کہ اس اپیل کو جلدی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے جس پر سپریم کورٹ نے جلد سماعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو اسپیشل ٹریٹمنٹ (Special Treatment) نہیں دیا جا سکتا بلکہ روٹین کے مطابق جب یہ درخواست سننے کا وقت آئے گا تو اسے سماعت کے لیے مقرر کر دیا جائے گا۔ اس دوران نواز شریف Nawaz Sharif کی طبیعت کے بارے میں تشویش بڑھ گئی اور وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے حکومت پنجاب کو ہدایت جاری کی کہ نواز شریف Nawaz Sharif کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ عمران خان Imran Khan نے اپنے ٹویٹ میں نواز شریف Nawaz Sharif کی صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔ ان حالات میں سپریم کورٹ نے نواز شریف Nawaz Sharif کی اپیل کو آئندہ ہفتے 19مارچ کو سماعت کے لیے منظور کر لیا جو ایک خوش آئند بات ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے بلکہ عدلیہ سے متعلق نواز شریف Nawaz Sharif کے کیسوں میں پائے جانے منفی تاثر کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گی۔ خبروں کے مطابق تین ممبر بینچ نواز شریف Nawaz Sharif کی اس اپیل کو سنے گا اور اس بینچ کی سربراہی محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ بہتر ہوتا کہ نواز شریف Nawaz Sharif کے کیسوں کی اپیلیں سننے کے لیے پاناما کا فیصلہ دینے والے بینچ کے کسی بھی جج صاحب کو شامل نہ کیا جاتا

 164