پاکستان ( Pakistan )کا تیز رفتار احتسابی نظام

Such Do Qadam Door

14 مارچ 2019

پاکستان کا تیز رفتار احتسابی نظام

پاکستان ( Pakistan )کا تیز رفتار احتسابی نظام ---------

کالم نگار: حمزہ میر-----

کائنات کا کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ملک میں مکمل طور پر کرپشن کا خاتمہ نا ہو اور کرپٹ،چور اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ ٹولے کا احتساب نا ہو اگر احتساب کا عمل بلا تفریق ہو گا اور خاص طبقے کا احتساب نہیں ہو گا بلکے جس جس نے ملک خداد کو بےرحم طریقے سے لوٹا اس کا احتساب ہو گا تو ملک ترقی کرے گا اور ملک ترکی، جاپان،جرمنی، اور ملائیشیا ( Malaysia )بن جائے گا ترکی اور ملائیشیا ( Malaysia ) کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے صرف کرپشن کے خاتمہ اور بلا تفریق احتساب کے ذریعے ترقی کی اور آج وہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں کرپٹ اور خورد برد کرنے والے عناصر کو عبرت کا نشان بنایا گیا جس سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ ملکی پیسا لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا اگر پاکستان ( Pakistan )نے بھی ترقی کرنی ہے تو احتساب کی گولی کرپشن کے مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے جیسے شوگر کے مریضوں کے لیے وقت پر دوائی ضروری ہے اسی طرح کرپشن کے مریضوں کے لیے احتساب کی گولی ضروری ہے- خدا خدا کر کے 70 سال انتظار کے بعد اب دل امید سی جاگی ہے کہ اب چوروں اور ملک کو بے دردی کے ساتھ لوٹنے والوں کا احتساب ضرور ہو گا کیونکہ 2018 کے الیکشن میں عوام نے کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے والی جماعت تحریک انصاف اور اس کے لیڈر عمران خان ( Imran Khan )کو الیکشن میں ووٹ دیا اور ملک چلانے کی کمان تحریک انصاف کو دی عمران خان ( Imran Khan )کو ملک کا وزیراعظم بنایا کیونکہ لوگ اب احتساب کی گولی کا اثر دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ 70 سال ایک عرصہ ہوتا ہے پہلے بھی سیف الرحمان احتساب کمیشن بنا لیکن صرف اپوزیشن پر کیس بنے اور "سیاسی انتقام" لیا گیا اور پھر مشرف صاحب نے نیب کا ادارہ بنایا لیکن اس کا بھی ڈھرم تختہ ہو گیا کیونکہ سب کرپٹ ان کے ساتھ شامل ہو گے-

لیکن اب کا احتساب مختلف ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں کے بڑھے بڑھے لوگوں کے نام ملکی دولت لوٹنے والی فہرست میں شامل ہیں وزیردفاعی پیداوار زبیدہ جلال پر بلوچستان ( Balochistan )میں تعلیمی منصوبے میں 7 ارب کا کرپشن کیس ہے اور کیس آخری مراحل میں ہے یہ محترمہ مشرف کی کابینہ میں بھی تھے اور پھر یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں بھی شامل تھیں، وزیردفاع پرویزخٹک پر پشاور میٹرو اور مالم جبہ میں سرکاری اراضی سستے داموں لیز کنے اور نوشہرہ میں مہنگی سڑک بنانے کا الزام ہے ان چیزوں کے کیس خٹک صاحب پر چل رہے ہیں، علی امین گنڈاپور پر معدنیات کا کیس کھل رہا ہے ان پر خرد برد کا الزام ہے جب وہ 2013-2018 تک پختونخوا کے وزیر رہے ڈاکٹر فروغ نسیم پر منی لانڈرنگ ( Money laundering ) کا کیس ہے اور اس کیس میں وہ پیش بھی ہوئے ہیں پنجاب کے سینیر وزیرعبدالعیم کے خلاف بھی کیس ہےاور علیم خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہی پر بھی پنجاب بینک کا کیس ہے جہاں سے انہوں نے قرضے معاف کرواے- شہباز شریف ( Shehbaz Sharif )پر آشیانہ کا کیس تھا اور اب تو رمضان شوگر مل سڑک کا کیس بھی بن گیا ہے اور 56 کمپنی کا کیس بھی کھل رہا ہے یعنی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور رانا مشہود پر 50 کروڑ کا کیس ہے جب وہ پنجاب سپورٹس بورڈ کے چیرمین تھے کیس نیب میں کھل گیا میاں مجتباح شجاالرحمان پر بھی لیپ ٹاپ کا کیس کھل گیا ہے اور شاید کرفتاری بھی عمل میں آ جائے امیر مقام کو بھی غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں نیب گرفتار کرنے والا ہے- دوسری طرف سندھ میں سابق وزیراعلئ سندھ قائم علی شاہ کو نیب نے ریلوے اراضی کے کیس میں طلب کر لیا اور شاید وہ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں اور موجودہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے لیے معملات خراب ہیں کیونکہ فواد حسن فواد کے مراد علی شاہ کے ساتھ تانے بانے مل رہے ہیں اور سابق وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال پر بھی غیرقانونی بھرتیوں کا کیس نیب سندھ نے کھول دیا ہے اور ناصر حسین شاہ پر بھی برتیوں کا کیس کھل گیا ہے اور آصف زرداری کے قریبی نواب یوسف تالپور پر بھی بے نظیر دور میں ٹریکٹر سکیم میں کی گئی خرد برد کا کیس کھل گیا ہے اور خود آصف زرداری کو بھی منی لانڈرنگ ( Money laundering ) کے کیس میں جیل یاترا کرنی ہے کیونکہ انور مجید ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں-

بیوروکریسی کا تاریخ میں پہلی بار احتساب ہو رہا ہے پہلے مشتاق رئیسانی کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر گوندل صاحب کو بھی گرفتار کر لیا ہے پھر احد چیمہ پھر فواد حسن فواد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے کروڑوں کے اثاثے بھی سامنے آ گئے ہیں اور دیگر بیوروکریٹس پر بھی کیس کھل رہے ہیں موجودہ گورنرسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو بھئ نیب نے 3 مرتبہ بلایا اور چیرمین اف- بی- ار جہانگیر خان کو بھی نیب نے پنجاب انرجی کمیشن میں خورد برد کے الزام میں بلایا ہے ایسے کرپٹ لوگوں کو کیوں لگاتے ہیں عمران خان ( Imran Khan )حالانکہ بہت سے افسر موجود ہیں جن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں- بہر حال اچھی بات یہ ہے کہ خدا خدا کر کے قوم کی امید پوری ہونے جا رہی ہے اور بڑھے بڑھے سورماوں پر ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں اور صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ احتساب سب کا ہو گا اوراحتساب بلا تفریق ہو گا کیوںکہ اقبال کا یہ شعر ہی قوم کو آگے لے کر جائے گا

سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

 83