ملّا عمر، امریکہ United States اور پاکستان

قلم کمان - حامد میر

14 مارچ 2019

mlla Umar , America aur Pakistan

یہ 2013ء کا موسم گرما تھا۔ افغان طالبان کے رہنما ملّا محمد عمر کی وفات کو سترہ دن گزر چکے تھے۔ سترہ دن کے بعد اُن کا بیٹا یعقوب اور بھائی ملّا عبدالمنان زابل میں ملّا محمد عمر کی قبر پر کھڑے تھے اور اصرار کر رہے تھے کہ قبر کھود کر اُنہیں متوفی کا چہرہ دکھایا جائے تاکہ تسلی ہو جائے کہ واقعی ملّا محمد عمر کی وفات ہو چکی ہے۔ ملّا محمد عمر کو اس قبر میں اپنے ہاتھوں سے دفن کرنے والا عبدالجبار عمری بار بار یعقوب اور ملّا عبدالمنان کو بتا رہا تھا کہ اُس نے ملّا محمد عمر کی تدفین کی وڈیو اسی لئے بنائی تھی کہ کسی کو کوئی شک نہ رہے اور آپ نے وڈیو دیکھ بھی لی ہے لیکن جذباتی بیٹا اور بھائی قبر کھودنے پر اصرار کرتے رہے۔ آخرکار قبر کھودی گئی۔ ملّا محمد عمر کا کفن ہٹا کر اُن کا چہرہ دیکھا گیا۔ بیٹے اور بھائی کو تسلی ہو گئی تو ملّا محمد عمر کو لکڑی کے ایک تابوت میں منتقل کرکے دوبارہ دفن کر دیا گیا کیونکہ اس سے قبل وہ صرف ایک کفن میں دفن کئے گئے تھے۔ یہ زابل کا وہ علاقہ تھا جہاں ملّا محمد عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال عبدالجبار عمری کے ساتھ گزارے تھے۔ عمری نے ملّا محمد عمر کے بیٹے اور بھائی کو وہ جگہ بھی دکھائی جہاں اس طالبان رہنما نے اپنا وقت گزارا۔ یہاں اُنہیں ملّا محمد عمر کی چار ڈائریاں ملیں لیکن کوئی باقاعدہ وصیت یا خط نہیں ملا۔ یعقوب نے یہ چار ڈائریاں اپنی تحویل میں لے لیں۔ ملّا محمد عمر کی یہ پناہ گاہ زابل میں امریکی فوجی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر تھی اور کئی مرتبہ امریکیوں نے اس پناہ گاہ کے آس پاس چھاپے بھی مارے لیکن وہ ملّا محمد عمر کو زندہ گرفتار نہ کر سکے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو نیدر لینڈز کی ایک صحافی بیٹ ڈیم کی کتاب ’’دی سیکرٹ لائف آف ملّا عمر‘‘ میں سامنے آئے ہیں۔ بیٹ ڈیم نے یہ کتاب پانچ سال کی تحقیق کے بعد لکھی ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کتاب میں کئے گئے اس دعوے کی تصدیق کر دی ہے کہ ملّا محمد عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال افغانستان Afghanistan کے صوبہ زابل میں گزارے اور وہیں 23اپریل 2013ء کو اُن کا انتقال ہوا تاہم یہ کتاب ڈچ زبان میں شائع ہوئی ہے، اس کا انگریزی ترجمہ ابھی مارکیٹ میں نہیں آیا۔ مجھے اس کتاب کے کچھ صفحات کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کا موقع ملا ہے۔

یقیناً بیٹ ڈیم کو عبدالجبار عمری کے ذریعہ ملّا محمد عمر کے آخری ایام کے متعلق اہم تفصیلات ملی ہیں لیکن مجھ سمیت کئی پاکستانی اور افغان صحافیوں کے لئے بیٹ ڈیم کی کتاب میں کوئی ہوشربا انکشاف موجود نہیں ہے۔ افغان حکومت نے اس کتاب میں کئے گئے دعوئوں کو مسترد کر دیا ہے لیکن آنے والے وقت میں نہ صرف طالبان بلکہ امریکہ United States کو بھی اس کتاب کا بہت فائدہ ہوگا۔ کچھ پاکستانی بھی اس کتاب میں سے فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب امریکی سی آئی اے کے ان دعوئوں کو تو جھوٹ ثابت کرتی ہے کہ ملّا محمد عمر پاکستان Pakistan میں روپوش تھے لیکن اس کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر کی چار بیویوں سمیت کئی طالبان رہنما پاکستان Pakistan میں رہتے تھے۔ ملّا محمد عمر کی بیویوں کی تعداد کے بارے میں ڈچ صحافی کا دعویٰ غیر مصدقہ ہے۔ ڈچ صحافی نے یہ بھی لکھا ہے کہ مولانا سمیع الحق مرحوم یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ملّا محمد عمر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فارغ التحصیل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا سمیع الحق نے کبھی ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ مولانا مرحوم نے اپنی انگریزی تصنیف ’’افغان طالبان، وار آف آئیڈیالوجی‘‘ میں واضح طور پر لکھا کہ اُن کے مدرسے میں ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ ملّا محمد عمر یہاں زیر تعلیم تھے۔ بیٹ ڈیم نے یہ بالکل درست لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر نائن الیون سے پہلے صرف ایک آدھ دفعہ پاکستان Pakistan آئے تھے اور نائن الیون کے بعد کبھی پاکستان Pakistan نہیں آئے۔ ڈچ صحافی کو اس کتاب کی تکمیل میں افغان حکومت نے بھرپور معاونت فراہم کی اور ملّا محمد عمر کے آخری وقت کے ساتھی عبدالجبار عمری کے ساتھ اُس کی ملاقات بھی افغان انٹیلی جنس کے ذریعہ ہوئی کیونکہ عمری انٹیلی جنس کی حراست میں ہے لیکن بیٹ ڈیم نے افغان حکومت کے مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا بلکہ جو سچ سمجھا وہ لکھ ڈالا۔ کتاب کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور موجودہ صدر اشرف غنی سمیت افغان انٹیلی جنس کو یہ علم تھا کہ ملّا محمد عمر زابل میں روپوش ہیں اور یہ اطلاعات امریکیوں کو بھی فراہم کی گئیں لیکن وہ ہمیشہ یہ اطلاعات نظر انداز کرتے اور کہتے کہ ملّا عمر پاکستان Pakistan میں روپوش ہے۔ کیا یہ پاکستان Pakistan سے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی نفرت تھی یا شاہانہ غرور جس کے باعث ایک ’’سپر پاور‘‘ 2001ء سے 2015ء تک یہ جھوٹ بولتی رہی کہ ملّا محمد عمر پاکستان Pakistan میں ہے؟ کیا پاکستان Pakistan کی حکومت کبھی باقاعدہ طور پر امریکہ United States سے یہ پوچھے گی کہ آپ سالہا سال تک ہم پر جھوٹا الزام کیوں لگاتے رہے؟ کیا امریکہ United States ویسا ہی جھوٹ نہیں بولتا رہا جیسا جھوٹ آج کل بھارت India کی طرف سے بالاکوٹ میں جیش محمد کے مدرسے کی تباہی کے بارے میں بولا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا ہمیں جواب چاہئے لیکن شاید ہماری حکومت کوئی جواب نہ دے۔ ہمیں یہ جواب خود تلاش کرنا پڑیں گے۔

بیٹ ڈیم کی کتاب کے مطابق عبدالجبار عمری نے بار بار ملّا عمر کو پیشکش کی کہ وہ اُنہیں پاکستان Pakistan لے جا سکتا ہے لیکن ملّا عمر نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے، میں پاکستان Pakistan نہیں جائوں گا۔ وہ پاکستان Pakistan پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ نائن الیون کے بعد پاکستانی ریاست کی پالیسیاں تھیں۔ کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر نے 5دسمبر 2001ء کو روپوش ہونے سے قبل ملّا عبید اللہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہ وہی ملّا عبید اللہ ہیں جو 2010ء میں پاکستان Pakistan کی حراست میں موت کا شکار ہوئے۔ بیٹ ڈیم کی کتاب میں کہا گیا کہ افغان طالبان اور القاعدہ کے نظریات میں فرق ہے۔ اس کتاب میں ملّا محمد عمر کا تعلق نقشبندی سلسلے کے صوفیاء سے جوڑا گیا ہے اور مصنفہ نے لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر زندگی کے آخری ایام میں خود بھی ایک صوفی بن چکے تھے۔ اس کتاب کی مدد سے اقوام متحدہ افغان طالبان پر عائد پابندیاں ختم کر سکتی ہے اور یوں افغان طالبان کے ساتھ امریکہ United States کا مذاکراتی عمل مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ آج کل امریکی انتظامیہ کی طرف سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں پاکستان Pakistan کے مثبت کردار کا بار بار اعتراف کیا جا رہا ہے لیکن پاکستان Pakistan کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے۔ بیٹ ڈیم کی کتاب کے مطابق جب افغان طالبان کی کوئٹہ میں موجود قیادت یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ قطر میں طالبان کا دفتر کھولا جائے یا نہیں تو ملّا محمد عمر سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے دفتر کھولنے کی حمایت کر دی۔ اس طرح یہ کتاب طالبان اور امریکہ United States میں مذاکرات کے عمل کو ملّا محمد عمر کی تائید فراہم کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ طالبان قیادت کی کوئٹہ میں موجودگی بھی ثابت کرتی ہے۔ پاکستان Pakistan کی طرف سے کالعدم تنظیموں کے خلاف کتنی ہی کارروائیاں کر لی جائیں لیکن امریکہ United States کا پاکستان Pakistan پر دبائو ختم نہیں ہوگا۔ افغان طالبان اور امریکہ United States کے درمیان مذاکرات میں بریک تھرو کے بعد کابل میں جو بھی حکومت آئے گی امریکہ United States اُس حکومت کو تعمیر نو کے لئے مالی امداد کے نام پر پاکستان Pakistan کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔ خدارا! یہ مت سمجھئے گا کہ مجھے امریکہ United States سے کوئی ذاتی بیر ہے۔ بالکل نہیں! میں تو دنیا بھر میں امن چاہتا ہوں لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امریکہ United States کا اصل مسئلہ طالبان یا کالعدم تنظیمیں نہیں بلکہ پاکستان Pakistan کا ایٹمی پروگرام ہے اس لئے خاطر جمع رکھیے۔ ڈچ صحافی کی کتاب کا پاکستان Pakistan کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ جو اُس نے لکھا وہ ہم 2006ء سے کہہ رہے تھے۔ پاکستان Pakistan کو امن پسندی کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں جھوٹ بولنے والوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

 283