انداز بدلیں

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

13 مارچ 2019

andaaz badleen

ایک رویہ جس کا سامنا ہم میں سے اکثر لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے وہ ہے بے جا کی ضد ،انا ،ہٹ دھرمی اور بے تکی لاجکس پر قایم رہنے کی عادت ۔جس میں کوئی بھی ملوث ہوسکتا ہے ہم خود ہمارے رشتے دار ہماری اولاد حتی کہ کچھ والدین بھی اس رویے کا شکار ہوتے ہیں ۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ جن میں یہ عادات پائی جاتی ہیں وہ سرے سے مانتے ہی نہیں۔۔نا ہی ان کو کبھی احساس ہوپاتا ہے۔۔۔

کچھ لوگوں میں دیکھا ۔۔بے تکے سے خود ساختہ اصول ہونگیں ان اصولوں کو ان کے گھروں میں آئین کا درجہ حاصل ہوگا۔۔مرتے مر جائینگیں ان اصولوں سے نقصان ہی کیوں نا اٹھانے پڑیں پھر بھی رویے میں لچک پیدا کرتے موت لاحق ہوتی ہے۔

۔چند سال پہلے کی بات ہے میرے ہمسائے میں جن انکل کا گھر تھا غصے کے بہت تیز تھے ۔۔ان کے غصے سے سارا گھر تھر تھر کانپتا تھا۔۔ٹھیک ہے رعب ہونا چاہیے اولاد پر لیکن ایسی بھی کیا سختی کہ معمولی باتوں پر گھر والوں پر مارپیٹ کرنا دھنک کر رکھ دینا ۔۔ ان کی بیوی سے اچھی دعا سلام ہوگئی ۔بہت پیاری نفیس عورت سارا دن گھر کے کاموں میں جتی رہتیں کہ صاحب بہادر کے مزاج کے خلاف نا کچھ ہوجاے۔۔

۔یہ آنٹی اور ان کے بچے سہمے سہمے رہتے۔ان کے گھر کا ماحول مجھے پریشان کرتا۔ میں ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ان کے بچے باپ کے رویے کی وجہ سے نفسیاتی ہوتے جا رہے تھے اور اس چیز کا احساس میں نے انکو دلانا تھا لہذا میں نے یہ چیلنج لے لیا ۔۔

انکل بھی پہلے پہل تو کافی روڈ رہے لیکن میں آتے جاتے انکل کو گرم جوشی سے سلام کرتی ۔۔کبھی بیٹھےہوتے تو میں سلام کے بعد خود ہی حال احوال پوچھنا شروع کردیتی مختلف موضوعات پر بات شروع کردیتی تاکہ ان کا پواینٹ آف ویو پتہ چلے۔۔ان کے لہجے کی رعونت کم ہونے لگی۔۔گویا برف پگھلنے لگی۔۔

۔اب بچوں کو یہ اجازت دی گئی کہ میرے پاس سٹڈی سے ریلیٹڈ ہیلپ لے سکتےہیں۔ تعلقات مزید بہتر ہوے۔۔ میں اب اکثر لطیفے بھی سنا دیتی انکل کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آجاتی تھی۔۔مجھے مناسب وقت کا انتظار تھا اب کہ انکل کو کس طرح سمجھایا جاے کہ یہ رویہ بدلیں۔۔جسکی وجہ سے اولاد باپ سے نالاں رہتی تھی۔

قدرت نے مدد فراہم کی اور ایسا دن بہت جلد آگیا۔

ایک دن آنٹی کے پاس کسی کام کے سلسلے میں گئی یہ بہت زیادہ مصروف تھیں۔۔میں نے استفسار کیا کہ مہمان آرہے ہیں؟ بولیں ہاں بہت اہم مہمان ہیں کام بہت زیادہ ہیں پریشان ہوں۔۔میں نے فورا اپنی خدمات پیش کردیں کہ میں کیا مدد کرسکتی ہوں؟؟ انہوں نے پہلے تو انکار کیا کہ میں سب کرلوں گی لیکن میرے اصرار کو دیکھتے ہوے مجھے ایک کام سونپ ہی دیا ۔۔اور وہ تھا گیسٹ روم کے پردے استری کرکے دینا ۔۔مجھے چند خوب صورت سے پردے آن تھمائے میں نے انکو گنا کل آٹھ پردے تھے ۔۔میں نے اجازت چاہی کہ میں اپنے گھر سے کرکے لا دیتی ہوں ۔گھر آکر میں نے سب پردوں کو بڑی احتیاط اسے آئرن شروع کردی۔۔

۔۔یہ برانڈڈ سلک کے پردے تھے اور انکل جی کے فیورٹ پردے۔۔سات پردے اچھی طرح استری کرچکی اور آخری پردے پر جانے کیا مصیبت آئی کہ ایک سلوٹ نا نکل رہی تھی میں نے سلوٹ کو نکالنے کے چکر میں استری کو ایسا دبایا جب استری اوپر اٹھائی کپڑے کا ٹکڑا ساتھ میں لے گئی۔۔پردے کا یہ انجام دیکھ کر میری روح فنا ہوگئی کہ یہ کیا کردیا۔۔سخت نادم اور شرمندہ ہوکر میں پردے اٹھائے مرے مرے قدموں سے آنٹی کے پاس گئی ۔۔آنٹی میرے اداس چہرے کو دیکھ کر ہی پریشان ہوگئیں ۔۔کیا ہوا ؟؟ میں نے ندامت میں گڑ کر چپ چاپ پردہ آگے کردیا۔۔آنٹی کا تو رنگ ہی فق ہوگیا ۔۔اور مردہ انداز سے بولیں ان للہ وان علیہ راجعون ۔۔

۔۔میں نے چونک کر ان کو دیکھا "آنٹی کوئی مر گیا"؟؟ " مرا تو نہیں لیکن شام تک تمہارے انکل مار ڈالیں گے مجھے " آنٹی کا جواب سن کر میں تڑپ اٹھی۔۔

" کیوں مار ڈالیں گے ؟؟" یہ تو ایک غلطی ہے اور غلطی تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے غلطی پر کون مارتا ہے ۔۔؟؟ "

آنٹی کے چہرے پر تشویش اور جواب دیا " تمہارے انکل غلطی پر بہت مارتے ہیں کہ غلطی ہوئی تو ہوئی کیوں۔۔۔"

میں نے ان سے وعدہ کیا کہ اس بار انکل آپ کو کچھ نہیں کہیں گے میرا وعدہ ہے۔۔اور جب انکل آئیں پردے لگانے لگیں مجھے بلا لینا ۔۔میں جانوں انکل جانیں۔۔آنٹی کو کچھ تسلی ہوئی میں اداس سی گھر لوٹ آئی شام کو چھے بجے کے قریب ان کا چھوٹا بچہ دوڑا آیا ۔مجھے اطلاع دی کہ مما بلا رہی ہیں۔۔میں بچے کی تقلید میں فورا بھاگی ۔دل میں پریشانی کہ میری غلطی کی سزا ان لوگوں کو ملے اگر میں ان سے نظریں کیسے ملاتی پھر۔۔؟

بچہ مجھے سیدھا ڈراینگ روم لے گیا جہاں انکل بچوں کی مدد سے پردے لگا رہے تھے اور آنٹی متوحش نظروں سے اس پردے کو دیکھ رہی تھیں جو میرے ہاتھوں برباد ہوا تھا۔۔مجھے دیکھ کر آنٹی کی جان میں جان آئی اور انکل جی شفقت سے مسکرائے۔۔ وقت کم تھا میں نے جو بھی کہنا تھا انکل سے ڈائرکٹ کہنا تھا تاکہ پردے تک پہنچنے سے پہلے بات کلئیر ہو ۔

۔انکل کا موڈ اچھا تھا . میں نے موقع کی مناسبت سے پہلے ایک جوک سنایا جو انکل نے بڑا انجواے کیا۔۔میں نے ساتھ میں سوال داغا " انکل جی آپ کے بچوں سے غلطی ہوجاے تو کیا کرتے ہیں ؟!" انکل جی سوال پر حیران نا ہوے کیونکہ لطیفے سے ریلیٹڈ تھا۔۔ لہذا آرام سے بولے" میں انکو مارتا ہوں کہ غلطی ہوِی تو کیوں ہوی؟؟"

میری نظر آنٹی پر پڑی جنہوں نے پریشانی سے پہلو بدلا تھا ۔۔میں نے اب پہلا اعتراض کیا " لیکن میرے ابو تو کہتے ہیں بچوں کو غلطی پر نہیں ضد پر مارنا چاہیے ۔۔آپ کا کیا خیال ہے ؟؟ "

انکل جی تھوڑا گڑبڑاے پھر فورا سنبھل کر گویا ہوے ہاں ضد پر بھی مارنا چاہیے۔لیکن غلطی پر بھی مارنا چاہیے۔"

یہ انکل کا آئین تھا اور مجھے پتہ تھا کیسےاس آئین میں ترمیم کرنی ہے۔۔اب میں نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور اعتراض کو تھوڑا سنگین رخ دیا " انکل جی آپ سے بھی کبھی غلطی ہوجاتی ہے نا"؟؟ تب آپ کیا کرتے ہیں"؟؟

مصروف انداز میں اسی پردے کی طرف بڑھے اور بولے " میں نے کبھی غلطی نہیں کی" میں نے شرارت سے مسکرا کر یاد دلایا کہ فلاں وقت آپ سے جگ ٹوٹا تھا میرے سامنے یہ بھی تو غلطی تھی اب جھینپ کر ہنس دیے" بس بیٹا ہوجاتا ہے کبھی کوئی نقصان ۔۔کیا کریں پھر کوئی مصلحت ہوتی ہوگی"

ان کی خود کو دی گئی ڈھیل میں مصلحت کو شامل کرنے پر میں پیچ وتاب کھا کر رہ گئی ۔۔خیر میں نے ان کے پردہ اٹھانے سے پہلے ہی پردہ اچک لیا اور کہا میری آخری رائےکا جواب دے دیں پھر پردہ لگانا ۔۔انکل جی نے الجھن بھری نظروں سے مجھے دیکھا" کیا کہنا چاہتی ہو ؟؟میں نے دل ہی دل میں ہمت جمع کی اور بول پڑی

" جس طرح آپ بچوں کو غلطی پر مارتے ہیں اصولًا انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ جب آپ سے غلطی ہو بچوں سے کہو آو سب مل کر مجھے مارو ۔کیونکہ غلطی کی سزا تو مار ہے نا ؟؟ اب بچوں کو مارو اور اپنے لیے کہو کہ ہم بڑے ہمارے لیے مصلحت تو یہ زیادتی ہے "

انکل کا منہ پہلے حیرت سے کھلا میں بوکھلا کر چپ ہوگئی کہ آج خیر نہیں آج بیوی کے ساتھ مجھے بھی ماریں گے۔۔لیکن ہوا وہ جس کی مجھے قطعا توقع نا تھی ۔۔انہوں نے جاندار سا قہقہہ لگایا ۔۔۔

ہنستےہنستے مجھ سے گویا ہوے "اچھا تو بیٹی اب مجھے مارنا ہے کسی غلطی پر تو کوئی بلا یا چمٹا لے آو پھر میں تیار ہوں مار کھانے کو "

میں نے ہڑبڑا کر نفی میں سر ہلایا " نہیں نہیں انکل جی میرا یہ مقصد نہیں تھا ۔۔اور اب جھٹ سے انکو پردے والا قصہ۔سنایا ساتھ ہی شرمندہ تاثرات کے ساتھ دکھا بھی دیا۔۔ اب سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔کہ پتہ نہیں کیا ری ایکشن آنا۔۔

انکل جی نے پردہ دیکھا ۔۔نرمی سے مسکرائے۔۔میرے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور گویا ہوے " کوئی بات نہیں بیٹا ہوجاتا ہے ایسا ۔۔غلطی تو کسی سے بھی ہوسکتی یہ کہہ کر بیوی کو ہدایت دی کہ اس کو سی لو اور لگا دو ۔ اور مسکراتے ہوے کمرے سے نکل گئے اور آنٹی انتہائی حیرت سے اس انقلاب کو دیکھ رہی تھیں جو کہ وقوع پذیر ہوچکا تھا ۔۔ آنٹی کو ابھی شک تھا کہ انکو رعایت میری وجہ سے ملی تھی۔۔اور مجھے بھی یہی شک تھا۔۔لیکن انکل حیرت انگیز طور پر بدل گئے تھے۔۔ یہ چھوٹا سا واقعہ انکل کو سمجھانے کو کافی ہوا تھا۔۔اس میں ہمارا کمال نا تھا ۔۔کمال تھا تو اس ذات کا تھا جس نے دل بدل دیا اسی لمحے ۔۔کیونکہ بعض اوقات دل بدلنے کےلیے ایسےہی بہانے چاہتا ہے

 156