جھوٹی گواہی سے ملزم بری ہوجاتے ہیں اور سوال عدالت پر اٹھتے ہیں: چیف جسٹس

12 مارچ 2019

jhooti gawahi se mulzim buri ho jatay hain aur sawal adalat par uthte hain : cheif justice

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان Pakistan جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہےکہ جھوٹی گواہی کی وجہ سے ملزم بری ہوجاتے ہیں اور سوال عدالت پر اٹھتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران جھوٹی گواہی سے متعلق چیف جسٹس پاکستان Pakistan جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کیس میں بھی وہی مسئلہ آرہا ہے جو دوسرے کیسز میں آتا ہے، گواہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر بھی جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان Pakistan نے ریمارکس دیے کہ جھوٹی گواہی کی وجہ سے ملزمان بری ہوجاتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ عدالت نے ملزم کو بری کردیا، سوال اٹھتے ہیں کہ ملزم کو عدالت نے بری کیوں کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ شواہد اور گواہ ہی جھوٹے ہوں تو سزا کیسے ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ جھوٹ کی گواہی کا خاتمہ کررہے ہیں لہٰذا گواہوں کو خبر ہوجائے اگر بیان کا کچھ حصہ بھی جھوٹ ہوا تو سارا بیان مسترد ہوگا۔

 82