عزت چاہئے یا ذلت؟

قلم کمان - حامد میر

11 مارچ 2019

izzat chahiye ya zillat ?

یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے، کسی کو دشمنوں کے جنگی طیارے گرا کر عزت ملتی ہے اور کسی کو اپنوں پر ٹینک چڑھا کر تمغے ملتے ہیں۔ ہر تمغہ عزت کا باعث نہیں بنتا، کبھی کبھی ذلت کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ آئیے! آج دو بھولی بسری کہانیاں سنیں۔ ایک عزت کی کہانی ہے، دوسری ذلت کی کہانی ہے۔ پہلی کہانی فلائٹ لیفٹیننٹ سیف الاعظم کی ہے۔ پاکستان Pakistan ایئر فورس کے اس بہادر شاہین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اپنی مہارت اور بہادری سے نہ صرف بھارت India بلکہ اسرائیل کے جنگی طیارے بھی مار گرائے۔ 1965ء میں وہ پی اے ایف بیس سرگودھا میں تعینات تھے۔ بھارت India کیساتھ جنگ کے دوران بھارتی Indian ایئر فورس کا جنگی طیارہ مار گرانے پر انہیں ستارۂ جرأت ملا۔ اگلے ہی سال انہیں اردن بھیج دیا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلی طیاروں نے اردن پر حملہ کیا تو سیف الاعظم نے دو اسرائیلی جہاز تباہ کر دئیے۔ کچھ دنوں کے بعد انہیں عراق Iraq بھیج دیا گیا اور وہاں بھی انہوں نے دو اسرائیلی طیارے تباہ کئے۔ اردن کے حکمران شاہ حسین نے سیف الاعظم کو فوجی اعزازات تو دئیے لیکن وہ سیف الاعظم کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر عمان Oman کی سڑکوں پر گھومنا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ سیف الاعظم کا تعلق مشرقی پاکستان Pakistan سے تھا۔ 1971ء میں پاکستان Pakistan دو لخت ہوا تو وہ بنگلہ دیش ایئر فورس کا حصہ بن گئے اور 1979ء میں گروپ کیپٹن کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ دوسری کہانی بریگیڈیئر ضیاء الحق Zia ul Haq کی ہے۔ وہ 1970ء میں پاکستان Pakistan کی طرف سے اردن بھیجے گئے۔ ستمبر 1970ء میں شاہ حسین نے تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کو اردن سے نکالنے کیلئے ایک فوجی آپریشن کیا جس میں ٹینک بھی استعمال ہوئے۔ اس آپریشن کی قیادت بریگیڈیئر ضیاء الحق Zia ul Haq نے کی۔ اس آپریشن کے دوران پی ایل او اور اردن کی فوج میں شدید لڑائی ہوئی جس میں بہت سے بے گناہ فلسطینی مہاجرین بھی مارے گئے۔ اس آپریشن کی کامیابی پر شاہ حسین نے بریگیڈیئر ضیاء الحق Zia ul Haq کو بھی ایک تمغہ دیا لیکن یہ تمغہ ضیاء الحق Zia ul Haq کیلئے کبھی عزت کا باعث نہ بن سکا۔ فلسطینیوں کے خلاف ان کے آپریشن پر احمد ندیم قاسمی نے ’’اردن‘‘ کے نام سے اپنی نظم کو ان الفاظ پر ختم کیا؎

جو ہاتھ ہم پہ اٹھے

ہمارے ہی ہاتھ تھے

مگر ان میں کس کے خنجر تھے؟

کس کے خنجر تھے؟

کس کے خنجر تھے؟

کس سے پوچھیں؟

چلو، چلیں آئینوں سے پوچھیں

آئینوں سے کیا پوچھتے؟

یہی بریگیڈیئر ضیاء الحق Zia ul Haq 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر براجمان ہوئے تو پی ایل ا و کے سربراہ یاسر عرفات نے کہا کہ افسوس اردن میں فلسطینیوں پر ٹینک چڑھانے والا پاکستان Pakistan کا حکمران بن گیا۔ ضیاء الحق Zia ul Haq نے فلسطینیوں کیساتھ جو کیا اسے پاکستانی قوم بھول چکی ہے لیکن فلسطینی کبھی نہیں بھولیں گے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں پی اے ایف کے ایک اور بہادر شاہین عبدالستار علوی نے شامی ایئر فورس کے مگ 21کے ذریعے اسرائیلی طیارہ مار گرایا اور پاکستان Pakistan کیلئے عزت کمائی۔ مجھے لبنان اسرائیل جنگ کے دوران لبنان اور شام میں کافی وقت گزارنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں مجھے مصر کے راستے غزہ جانے کا اتفاق بھی ہوا اور میں نے اپنی آنکھوں سے ننھے فلسطینی سنگ بازوں کو اسرائیلی ٹینکوں کے فائر سے خون میں نہاتے دیکھا۔ بیروت سے غزہ تک اور دمشق سے قاہرہ تک، میں جہاں بھی گیا عربوں کو پاکستان Pakistan کے پائلٹ یاد تھے۔ وہ پاکستان Pakistan ایئر فورس کے پائلٹوں کی تحسین کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کی مذمت کرنا نہیں بھولتے تھے۔ یہ مت دیکھئے کہ عرب ممالک کے حکمران پاکستان Pakistan کے بارے میں کیا سوچتے اور کیا کہتے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ عرب ممالک کے عوام پاکستان Pakistan کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ آج پاکستان Pakistan کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے جائیں تو اسرائیل اور بھارت India کا پاکستان Pakistan کیخلاف اتحاد ختم ہو جائیگا۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان Pakistan کو اسرائیل کیساتھ دوستی کا مشورہ کون دے رہا ہے؟ کیا اس مشورے کے پیچھے پاکستان Pakistan کا مفاد ہے یا کسی اور کا مفاد ہے؟ 2018ء میں امریکی صحافی باب ووڈ وارڈ کی نئی کتاب Fearیعنی ’’خوف‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر قیمت پر ایران Iran کو عراق، شام، لبنان اور یمن Yemen سے نکالنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کیلئے امریکہ United States نے سعودی عرب Saudi Arabia اور کچھ دیگر خلیجی ریاستوں کا اسرائیل کے ساتھ اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی صحافی داہام الانازی نے عربی اخبار ’’الخلیج‘‘ میں ’’ریاض میں اسرائیلی سفارتخانہ کیلئے ہاں‘‘ کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا کہ سعودی عرب Saudi Arabia کو مغربی یروشلم میں اپنا سفارتخانہ کھولنا چاہئے اور اسرائیل کو ریاض میں سفارتخانہ کھولنا چاہئے کیونکہ یہودی تو ہمارے کزن ہیں جبکہ ایرانیوں اور ترکوں سے تو ہمارا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ عرب میڈیا میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ سعودی عرب Saudi Arabia اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات قائم ہونے چاہئیں یا نہیں؟ سعودی حکومت اس معاملے پر فی الحال خاموش ہے لیکن یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں سعودی عرب Saudi Arabia اور ایران Iran کے درمیان طاقت کی رسہ کشی میں اسرائیل کو سعودی عرب Saudi Arabia کے اتحادی کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب Saudi Arabia کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا اتنا آسان نہیں کیونکہ مسلم ممالک کی بڑی اکثریت نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کئے۔ ان ممالک میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، افغانستان، الجزائر، صومالیہ، سوڈان، شام، ایران، یمن، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات united arab emirates ، تیونس اور دیگر ممالک شامل ہیں لہٰذا پاکستان Pakistan پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ اسرائیل سے دوستی کر لو تاکہ باقی مسلم ممالک کو بھی یہ مشکل کام کرنے میں آسانی ہو۔ پاکستان Pakistan کو یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے اسرائیل اور بھارت India کا پاکستان Pakistan دشمن اتحاد ختم ہو جائیگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان Pakistan کو ایران Iran کے خلاف تشکیل دئیے جانیوالے ایک نئے اتحاد میں شامل کرنے کی تیاری ہے۔ کیا پاکستان Pakistan کا یہ اقدام ہمارے آئین کی دفعہ 40کی خلاف ورزی نہیں ہو گا جو پاکستانی ریاست کو اسلامی اتحاد اور عالمی امن کے فروغ کیلئے کام کرنے کا پابند بناتی ہے؟ ہمیں پاکستان Pakistan کا مفاد دیکھنا ہے یا کرائے کا گوریلا بننا ہے؟

کوئی مانے یا نہ مانے، آج پاکستان Pakistan کو اسرائیل کی نہیں اسرائیل کو پاکستان Pakistan کی ضرورت ہے۔ اسرائیل کے لئے یورپ میں حمایت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ 28یورپی ممالک میں سے 9یورپی ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اسپین، فرانس اور آئرلینڈ بھی فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت فلسطینی ریاست کو نہیں مانتی۔ یورپ کے علاوہ امریکہ United States میں بھی اسرائیل کی مخالفت بڑھ رہی ہے کیونکہ دنیا پر یہ واضح ہو رہا ہے کہ مسئلہ فلسطین حل کئے بغیر انتہا پسندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر حریمی کاربن کھلم کھلا اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل جیوش اینٹی زیاونسٹ نیٹ ورک (آئی جے اے این) کے نام سے یہودیوں کی ایک عالمی تنظیم امریکہ United States ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں اسرائیل کیخلاف سرگرم ہے اور اسرائیلی ریاست کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیتی ہے۔ اس تنظیم کی بانی برطانوی مصنفہ سیلما جیمز خود یہودی ہیں۔ آج اسرائیل کیلئے سیلما جیمز اور نوم چومسکی جیسے دانشور دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نیدر لینڈز کی حکومت نے دنیا بھر کے یہودیوں سے کہاکہ وہ فلسطینیوں کیخلاف اسرائیل کے ظلم پر آواز اٹھائیں، اس صورتحال میں پاکستان Pakistan کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے تو فائدہ کسے ہو گا؟ پاکستان Pakistan کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر مسئلۂ فلسطین کے حل کیلئے موثر کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ مسئلۂ فلسطین کا حل مسئلۂ کشمیر کے حل کی راہیں کھولے گا۔ پاکستان Pakistan کو کسی عالمی طاقت کے دبائو یا چند ارب ڈالر billion dollor کے عوض مشرقِ وسطیٰ میں وہ غلطی نہیں کرنا چاہئے جو 1970ء میں بریگیڈیئر ضیاء الحق Zia ul Haq نے اردن میں کی تھی۔

 333