پاک-بھارت India کشیدگی کو کم کرنے میں ‘تعمیری’ کردار ادا کیا، چینی وزیرخارجہ

09 مارچ 2019

pak-bhart kasheedgi ko kam karne mein' tameeri' kirdaar ada kya, cheeni wazeer kharja

چین China کے وزیرخارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ Pulwama میں حملے کے بعد پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بیجنگ نے ‘تعمیری’ کردار ادا کیا۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وانگ یی نے نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس کے دوران پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ‘چین China نے کشیدگی سے بچنے، واقعے کا جائزہ لینے اور معاملات کو مذاکرات سے حل کرنے کے لیے شروع سے ہی تحمل اور برداشت پر زور دیا’۔

وانگ یی نے پاکستان Pakistan کو ‘آئرن برادر’ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ پاکستان Pakistan اور بھارت India ‘بحران کو ایک موقع سمجھ کر ایک دوسرے سے مل لیں گے’۔

اس سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک-بھارت India کشیدگی میں کمی کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکا سمیت دوست ممالک چین، سعودی عرب Saudi Arabia ، روس، متحدہ عرب امارات united arab emirates ، ترکی اوراردن کی ‘پس پردہ سفارتی’ کوششوں سے پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان جنگ کے خطرات کو ختم کرادیا کیونکہ ایک موقع پر حالات اسی نہج پر پہنچ گئے تھے۔

چینی وزیرخارجہ نے اپنی پریس بریفنگ میں دونوں ایٹمی ممالک پر زور دیا کہ وہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکال لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب کشیدگی کے نتیجے میں مذاکرات کے ساتھ ساتھ عدم اتفاق کے خاتمے کے لیے خیر سگالی کے طور پر راستے نکلے ہوں تو ہم تعاون کے ذریعے ایک اچھا مستقبل بناسکتے ہیں’۔

خیال رہے کہ 14 فروری کو پلوامہ Pulwama میں ہونے والے حملے کے حوالے سے بھارت India نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی ہے اور خود کش حملہ مقامی لڑکے نے کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے بھارت India کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کشیدگی سے بچنے کے لیے بھارت India کو قابل عمل ثبوت دینے کی پیش کش کی تھی تاکہ ثبوت کی روشنی میں کارروائی کی جائے۔

بھارت India اور پاکستان Pakistan کے درمیان حالات اس وقت مزید کشیدہ ہوئے جب بھارتی Indian فضائیہ نے 26 فروری کو پاکستان Pakistan حدود داخل ہوکر بالاکوٹ میں جیش محمد کے مدرسے پر حملے کا دعویٰ کیا حالانکہ اس دخل اندازی کا فوری جواب دیا گیا تھا۔

پاک فضائیہ نے اگلے روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کرکے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے دو بھارتی Indian جہازوں کو مارگرایا تھا اور ایک پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن کی خاطر بھارتی Indian پائلٹ کو خیرسگالی کےطور پر رہا کرنے کا اعلان کیا تھا اور اگلے روز واہگہ بارڈر میں بھارتی Indian حکام کے حوالے کردیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ سربراہ کی نگرانی

نیویارک میں اقوام متحدہ کے ترجمان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان صورت حال کی نگرانی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کر رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس Russia کے مطابق گوتریس کے ترجمان اسٹیفن دوجریک کا کہنا تھا کہ اقواممتحدہ کے سربراہ کے دفاتر ‘دونوں فریقین کے لیے دستیاب’ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سیکریٹری جنرل اور اس کا اسٹاف رابطے میں ہیں اور مختلف سطحوں پر دونوں فریقین سے رابطہ کیا گیا’۔

سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم صورت حال کا بدستور جائزہ لے رہے ہیں اور فریقین سے ملنے کو تیار ہیں’۔

یاد رہے کہ پلوامہ Pulwama حملے کے بعد پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ثالثی کی پیش کش کی تھی۔

اسٹیفین دوجریک نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال پر کہا تھا کہ ’سیکریٹری جنرل نے دونوں ممالک کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرے کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ انتونیو گوتریس نے مزید کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کو قبول ہو تو وہ ثالت کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

 67