'افغانستان Afghanistan میں امن، بھارت India کے ساتھ بہتر تعلقات ہماری ترجیح ہے'

09 مارچ 2019

' Afghanistan mein aman, Bharat ke sath behtar taluqaat hamari tarjeeh hai '

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت India کے ساتھ بہتر تعلقات اور افغانستان Afghanistan میں قیام امن ہماری حکومت کی 2 اہم ترین ترجیحات ہیں۔

روسی نشریاتی ادارے ’آر ٹی‘ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں تنازع کی جانب دیکھنے کے بجائے مسائل کے پر امن حل کی جانب توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بھارت India کے ساتھ کشیدگی پر عالمی برادری کے ردِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان Pakistan کو دنیا بھر سے حمایت حاصل ہوئی، جس میں روس Russia کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اور امریکی صدر کی جانب سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ شامل ہے جبکہ یورپی یونین نے براہِ راست بھارت India کو مخاطب کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کی ہدایت کی۔

چین China کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ معاشی بنیادوں پر پاکستان Pakistan اور چین China کے تاریخی تعلقات قائم ہیں جبکہ چین China اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک CPEC ) کے تحت پاکستان Pakistan میں بڑی سرمایہ کاری کررہا ہے جس کے لیے ہم دیگر ممالک کو بھی مدعو کرچکے ہیں۔

لہٰذا معاشی بنیادوں پر چین China اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے ہم پائیدار امن کا حصول چاہتے ہیں۔

امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان Pakistan کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے، جب امریکا کو ہماری ضرورت ہوتی ہے تو وہ دوست اور جب ضرورت نہیں ہوتی تو وہ دشمن یا اجنبی بن جاتا ہے۔

لیکن اب ہم امریکا کے ساتھ ساتھ روس Russia سے بھی معاشی بنیادوں پر اچھے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں اور سلسلے میں آنے والے تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan ایک خود مختار ملک ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ آزادنہ تعلقات چاہتا ہے اور یقینی طور پر ان تعلقات میں سب سے اہم چیز دو طرفہ مفاد ہوتا ہے، جسے مدِ نظر رکھا جائے گا۔

بھارت India کی جارحیت کے خلاف ایف 16 طیارے کے استعمال کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم ایف 16 کی مکمل ادائیگی کرچکے ہیں اور جہاں تک معاہدے کی خلاف ورزی کی بات ہے تو ہم نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی اس کارروائی میں ایف-16 طیاروں کو استعمال ہی نہیں کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم امن کے لیے کوشش کررہے ہیں اور ایف-16، ایف-17 اور بموں کا سہارا لیے بغیر مسائل حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہمیں معلوم ہے کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے۔

پاکستان Pakistan کی جانب سے کی جانے والی امن کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے حلف اٹھانے سے پہلے ہی بھارت India کو پیش کش کردی تھی کہ اگر آپ ایک قدم اٹھائیں گے تو ہم 2 قدم آگے بڑھائیں گے۔

اور عمران خان Imran Khan نے اپنی یہ پالیسی تبدیل نہیں کی اسی لیے ہم نے کرتار پور سرحد کھولنے کا اعلان کیا اور خطے میں امن کے لیے اقدامات کیے لیکن ہماری کوششوں پر بھارت India کی جانب سے مثبت ردِ عمل نہیں دیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی Indian وزیراعظم نریندر مودی narendra modi انتخابات کے لیے جنگ کا ماحول پیدا کررہے ہیں جس کی وجہ سے امن کا راستہ نہایت دشوار ہوتا جارہا ہے اس لیے ان کوششوں کے دوبارہ آغاز کے لیے ہم بھارتی Indian انتخابات ختم ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان تین راستے موجود ہیں 70 سال میں دونوں ممالک 3 جنگیں لڑ چکے ہیں اور مزید ایک اور بھی لڑ سکتے ہیں، دوسرا راستہ ایک دوسرے کو کمزور کرنا ہے، جیسا کے بھارت India کی جانب سے پاکستان Pakistan میں دہشت گردی اسپانسر کی جارہی ہے اور کلبھوشن سے لیکر لطیف محسود اس کی مثال ہے، ہم بھی انہیں کمزور کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

لیکن تیسرا راستہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوں اور مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جائے اور ہم بھارت India کو اس کی پیشکش کررہے ہیں، اس سے زیادہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ ملٹرائزڈ ریاست بن چکا ہے جہاں ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی Indian فوجی تعینات ہے یہ وہ ماحول ہے جو بھارت India نے کشمیر میں پیدا کیا ہے لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ بھارت India ہمارے ساتھ تعاون کرے تاکہ ہم اپنے مسائل حل کریں۔

 78