کچھ احوال مغربی سرحدکا

جر گہ - سلیم صافی

09 مارچ 2019

kuch ahwaal maghribi sarhad ka

ہوشیار لوگ اپنے دوست اور بے وقوف اپنے دشمن بڑھانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جنگ اور کشیدگی کے دنوں میں تو خصوصی طور پر عقلمند لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اصل دشمن سے نمٹنے کیلئے دور کے دشمنوں کو کم سے کم یا کم ازکم خاموش رکھیں لیکن ہم ہیں کہ دور کے دشمنوں کو بھی اپنے اصل حریف یعنی بھارت India کی طرف دھکیلنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔ بھارت India کے ساتھ کشیدگی سے قبل ہمیں بتایا جارہا تھا کہ چونکہ ہم طالبان کے معاملے میں مدد کررہے ہیں اس لئے امریکہ United States ان دنوں ہم سے بے حد خوش ہے اور ہمیں ایسا نظر بھی آرہا ہے کہ کارگل جنگ کی طرح بھار ت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو کم کرنے میں بھی امریکہ United States نے بنیادی کردار ادا کیالیکن ہمیں یہ بتایا جارہا ہے کہ بھارت India کی حالیہ مہم جوئی کے پیچھے امریکہ United States کا بھی ہاتھ تھا۔ گویا ہم نے امریکہ United States کو بھارت India کی طرف دھکیلنے کی خوب کوشش کی لیکن شکر ہے کہ امریکہ United States اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اس طرف نہیں گیا۔ اسی طرح ہمارے مبینہ وزیر اعظم Prime Minister صاحب نے میڈیا پرسنز کو پٹی پڑھائی کہ بھارت India کی مہم جوئی میں اسرائیل بھی اس کے ساتھ تھا۔ گویا ہم اسرائیل کو بھی دعوت دیتے رہے کہ وہ اپنے دوست بھارت India کی حمایت میں کود پڑے۔ کچھ لوگ تو یہ سازشی تھیوری بھی پھیلاتے رہے کہ ایران Iran بھی بھارت India کی حمایت میں پاکستان Pakistan پر حملے کا منصوبہ بنا چکا تھا لیکن بارشوں کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا حالانکہ ایرانیوں جیسے زیرک لوگ کبھی اس حماقت کا تصوربھی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح ہمیں ایک عرصے سے اس ملک میں یہ پٹی پڑھائی جارہی ہے کہ افغانستان Afghanistan دشمن یا پھر کم ازکم دشمن بھارت India کا ساتھی ہے جبکہ ہم سالوں سے یہ عرض کررہے ہیں کہ افغانستان Afghanistan سعودی عرب Saudi Arabia اور ترکی کی طرح دوست نہ سہی لیکن دشمن بھی نہیں ۔ پاک افغان تعلق کو میں نے فرسٹ کزنز کے تعلق جسے پشتو میں تربور کہتے ہیں کا نام دیا ہے جو کبھی ایک دوسرے سے راضی نہیں رہتے لیکن دشمن بھی نہیں بن سکتے۔ ایک دوسرے کے خلاف ان کی توتو میں ہمہ وقت جاری رہتی ہے لیکن جب بھی بیرونی دشمن کا حملہ ہوتا ہے تو وہ ایک ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان Pakistan سے لے کر آج تک کبھی پاکستان Pakistan اور افغانستان Afghanistan کے تعلقات مثالی نہیں رہے لیکن پینسٹھ کی پاک بھارت India جنگ ہو یا اکہتر کی ، ہر موقع پر افغانستان Afghanistan نے مغربی سرحد پر کوئی چھیڑخانی نہیں کی۔ سابق صدر حامد کرزئی ہمہ وقت پاکستان Pakistan پر برہم رہتے ہیں لیکن جب سلالہ واقعہ کے بعد امریکہ United States کے ساتھ پاکستان Pakistan کی کشیدگی بڑھی تو اسی حامد کرزئی نے میرے ساتھ انٹرویو میں یہ بڑا اعلان کر ڈالا کہ اگر پاکستان Pakistan اور امریکہ United States کی جنگ ہوئی تو افغانستان Afghanistan اپنے پاکستانی بھائیوں کا ساتھ دے گا۔ بھارت India کے ساتھ حالیہ کشیدگی بھی ایسے وقت میں شروع ہوئی جب افغان صدر اشرف غنی پاکستان Pakistan سے شدید ناراض ہیں لیکن اب ایک بار پھر افغان حکومت کی طرف سے پاکستان Pakistan کو پیغام دیا گیا کہ وہ مغربی سرحد کی طرف سے بالکل مطمئن رہے۔ فرانس جیسے ممالک نے بھارت India کے حق میں بیانات دئیے لیکن افغان حکومت کی طرف سے ایک لفظ بھی ایسا سامنے نہیں آیا جس سے بھارت India کے ساتھ ہمدردی یا پاکستان Pakistan کی دشمنی کا تاثر ملتا ہو۔

حسب سابق نازک موقع پر افغانستان Afghanistan نے بھارت India کا ساتھ نہیں دیا اور ہم سب مشرقی سرحد پر کامیابی کا جشن منانے میں مصروف ہیں لیکن مغربی سرحد کی صورت حال پھر بھی قابل اطمینان نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے ۔ پاکستان Pakistan میں فاتحانہ انداز میں جشن منایا جارہا ہے کہ افغان مسئلہ حل ہورہا ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ ہنوز دلی دور است۔ امریکہ United States اور طالبان کی بات بنتی نظرآرہی ہے لیکن بین الافغان مفاہمت سردست بہت مشکل دکھائی دیتی ہے ۔ ابھی امریکہ United States اور طالبان کی صلح ہوئی نہیں لیکن پاکستان Pakistan اور افغان طالبان کے تعلقات میں خرابی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔عمران احمد خان نیازی کی خواہش کی تکمیل کے لئے اسلام آباد Islamabad میں طالبان کی میٹنگ کی احمقانہ کوشش اور اس سے طالبان کی معذرت کے بعد تو کشیدگی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اب اگر طالبان اور امریکہ United States کی ڈیل ہوجاتی ہے اور بین الافغان مفاہمت نہیں ہوتی تو یہ صورت حال افغانستان Afghanistan اور پاکستان Pakistan دونوں کے لئے تباہ کن ہوگی لیکن اگر پاکستان Pakistan کے ساتھ طالبان کے تعلقات بھی خراب ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں توپاکستان Pakistan کے لئے نقصان مزید کئی گنا بڑھ جائے گا ۔ علاوہ ازیں سابقہ فاٹا کی حالت بعض حوالوں سے تشویشناک بنتی ہوتی جارہی ہے ۔ پی ٹی ایم کا مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا بلکہ حکومت جس بے ڈھنگے طریقے سے اس سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے اس سے یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتا جارہا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل پی ٹی ایم سے مذاکرات کے لئے قبائلی اضلاع کے پارلیمنٹیرینز کی جو کمیٹی بنائی گئی ہے ، وہ مسئلے کو حل کرنے کی رتی بھر صلاحیت نہیں رکھتی اور میں ابھی سے لکھ کر دیتا ہوں کہ یہ کمیٹی معاملے کو مزید خراب کرےگی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت فاٹا کے انضمام کے معاملے کا جوبرا حشر کررہی ہے ، اس کی وجہ سے اس کے ثمرات تو سامنے نہیں آرہے ہیں اور الٹا ایک نئے بحران کے جنم لینے کا خدشہ ہے ۔ وعدے کے مطابق وفاقی حکومت نے فاٹا انضمام کے لئے سالانہ ایک سو دس ارب روپے فراہم کرنے تھے اور سرتاج عزیز کمیٹی نے اس کے لئے پورا روڈ میپ بھی بنا دیا تھا لیکن امسال کے دوران نیازی حکومت نے اس مد میں چند ارب روپے بھی نہیں دئیے۔ انضمام تو دور کی بات ، آپریشنز کے متاثرہ آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے بھی فنڈز میسر نہیں۔ خیبر پختونخوا پر محمود خان کی صورت میں ایک اور طرح کے عثمان بزدار مسلط کئے گئے ہیں جن کا اپنے وزراء پر کنٹرول ہے اور نہ وہ وفاقی حکومت سے فنڈز لینے اور خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکٹو وزیراعلیٰ بن گئے ہیں لیکن ان کو اپنے وزرا اور بیوروکریٹ دل سے لیڈر نہیں مان رہے ہیں کجا کہ وہ قبائلی اضلاع تک اپنا کنٹرول دراز کرسکیں۔ قبائلی علاقوں کے حوالے سے گورنر شاہ فرمان کافی متحرک نظر آتے ہیں اور ان کے ذمے جو کام لگایا گیا تھا ، یعنی پولیس اور عدلیہ کے نظام کو وہاں تک توسیع دینا ، وہ انہوں نے مکمل بھی کیا لیکن ان کے بارے میں روز وزیراعلیٰ اور وزرا ء شکایت لگاتے ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کے کام میں مداخلت کررہے ہیں ۔اسی طرح گورنر حسب وعدہ بڑی حدتک لیویز اور خاصہ داروں کی نوکریاں بچانے اور ان کو پولیس سے منسلک کرنے کےلئے لائحہ عمل بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے ۔اسی طرح قبائلی علاقوں کے انضمام کے لئے خشت اول کی حیثیت صوبائی اسمبلی کے انتخابات رکھتے ہیں۔ اس لئے اے این پی جیسی جماعتوں اور ٹرائبل یوتھ جرگہ کا مطالبہ رہا کہ قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات عام انتخابات کے ساتھ کرائے جائیں لیکن مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی PTI کی قیادت کی وجہ سےاس وقت ایسا نہ ہوسکا۔ انضمام کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے صوبائی اسمبلی کے انتخابات اس لئے ضروری ہیں کہ جب وہاں کے منتخب نمائندے صوبائی اسمبلی میں بیٹھ جائیں گے اور ان میں سے کچھ وزیر مشیر ہوںگے تو وہ اپنے علاقوں تک ریاستی رٹ اور وسائل منتقل کرنے کے لئے زور لگائیں گے لیکن بدقسمتی سے اب صوبائی حکومت اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی PTI کے ایم این ایز اور سینیٹرز صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکارہے ہیں ۔ صوبائی حکومت کو ڈر ہے کہ قبائلی اضلاع سے مخالف جماعتوں کے ایم پی ایز کے منتخب ہوجانے کی صورت میں کہیں اسمبلی کے اندر ان کی موجودہ واضح اکثریت متاثر نہ ہوجبکہ ایم این ایز اور سینیٹرز سوچتے ہیں کہ ایم پی ایز کے آنے کی صورت میں ان کے حلقوں میں ان کی چوہدراہٹ میں دیگر شریک سامنے آجائیں گے ۔ اس لئے وہ وفاقی وزیر پیرزادہ نورالحق قادری کی قیادت میں صوبائی سیٹوں میں اضافے کی آڑ لے کر صوبائی اسمبلی کے انتخابات کو ملتوی کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے پی ٹی آئی PTI کے سرپرستوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ جلدازجلد صوبائی اسمبلی کے انتخابات منعقد کروا کر سابقہ فاٹا کے انضمام کے عمل کو مزید ناکامی سے بچا ئیں اور وفاقی وزارت خزانہ کو مجبور کریں کہ وہ پوری ملکی سیاسی قیادت کے وعدے کے مطابق قبائلی اضلاع کے لئے کم ازکم سو ارب روپے کی فنڈ کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

 211