دل کی سنو‘ دل کی مانو

طلوع - ارشاد احمد عارف

08 مارچ 2019

dil ki suno' dil ki manu

عجیب منطق ہے اور ناقابل فہم استدلال ‘ اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو ایک دشمن کم ہو جائے گا اور اکیلے بھارت India سے نمٹنا آسان۔ اگر تسلیم کرنے سے دشمنی کم ہوتی تو بھارت India 15اگست 1947ء سے ہمارا گہرا دوست ہوتا اور کبھی جنگوں کی نوبت آتی‘ نہ پاکستان Pakistan کے وجود کو خطرات لاحق ہوئے۔ اسرائیل کو مصر‘ اردن‘ ترکی نے تسلیم کر رکھا ہے آج تک انہیں کیا فائدہ ہوا ‘کسی نے بتایا نہیں‘ البتہ ترکی شاکی ہے اور مصر پریشان۔ مرحوم یاسر عرفات اورتحریک آزادی فلسطین نے اس اُمید پر کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطینیوں کی آزاد و خود مختار ریاست ترقی و خوشحالی کی منزل تیزی سے طے کرے گی یہ کڑوا گھونٹ بھرا‘ انتفادہ کوکمزور کیا اور اپنے ہی بھائیوں کی مخالفت مول لی مگر نتیجہ صفر۔ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ‘غزہ کے فلسطینیوں کا جینا حرام ہو گیا اور اسرائیلی دارالحکومت یروشلم منتقل۔ مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی‘ سعودی عرب Saudi Arabia کے شاہ عبداللہ مرحوم فلسطینیوں اور عربوں کے جائز مطالبات تسلیم ہونے پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے پرجوش تھے مگر امریکہ United States اور اسرائیل کا منافقانہ رویہ دیکھ کر اپنے فارمولے سے دستبردار ہو گئے۔ برصغیر کے مسلمان قیام پاکستان Pakistan سے قبل ہی فلسطینیوں کی حق تلفی اور صہیونی ریاست کے قیام کے مخالف تھے۔ جب امریکہ United States و یورپ نے یہودیوں کے آزاد وطن کا شوشہ چھوڑا اور فلسطینیوں کی سرزمین پر صہیونی ریاست کی تجویز سامنے آئی تو مصور پاکستان Pakistan علامہ اقبال نے کہا ؎ رندان فرانسیس کا مے خانہ سلامت پُر ہے مے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا مقصد ہے ملوکیت انگلیس کا کچھ اور قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطَب کا اعلان بالفورکی روشنی میں صہیونی ریاست کے قیام پر اقوام متحدہ میں بحث شروع ہوئی تو قائد اعظم نے وزیر خارجہ سرظفر اللہ کو مکمل تیاری کے ساتھ نیو یارک روانہ کیا اور پاکستان Pakistan نے اسرائیل کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی‘ 25اکتوبر 1947ء کو رائٹرز کے نمائندے سے انٹرویو میں قائد اعظم نے کہا’’فلسطین کے بارے میں ہمارے موقف کی صراحت اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے سربراہ ظفر اللہ خان نے کر دی ہے۔ مجھے اب بھی اُمید ہے کہ تقسیم کا منصوبہ مسترد کر دیا جائے گا ورنہ ایک خوفناک ترین اور بے مثال چپقلش کا شروع ہونا ناگزیر ہے۔ یہ چپقلش صرف عربوں اور منصوبہ تقسیم نافذ کرنے والے اختیار کے مابین نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا اس فیصلے کے خلاف بغاوت کرے گی کیونکہ ایسے فیصلے کی حمائت تاریخی اعتبار سے کی جا سکتی ہے نہ سیاسی اور اخلاقی طور پر‘‘ 19دسمبر 1947ء کو بی بی سی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا‘ برصغیر کے مسلمان تقسیم فلسطین کے متعلق اقوام متحدہ کے ظالمانہ‘ ناجائز اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف شدید ترین لب و لہجہ میں غصیلا احتجاج کر رہے ہیں ظاہر ہے کہ برصغیر کے مسلمان امریکہ United States یا کسی اور ملک کی مخالفت مول نہیں لینا چاہتے لیکن ہماری حس انصاف مجبور کرتی ہے کہ ہم فلسطین میں اپنے عرب بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں‘‘ صہیونی ریاست کے طور پر اسرائیل نے صرف فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ نہیں توڑے بلکہ امریکہ United States و یورپ کی سیاسی‘ معاشی‘ اقتصادی اور عسکری تائید و حمائت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا‘ شام‘ اردن اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا‘ عراق Iraq کا ایٹمی پروگرام تباہ کیا‘ سعودی عرب Saudi Arabia کے مقدس مقامات پر قبضے کے مذموم عزائم کسی سے مخفی نہیں ‘گریٹر اسرائیل کی پیش گوئیاں ہوئیں اور پاکستان Pakistan کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کے لئے ایک نہیں کئی بار بھارتی Indian منصوبہ بندی میں شریک ہوا۔ پاکستان Pakistan کی اسرائیل سے سرحد ملتی ہے نہ ہمارے معاشی و اقتصادی مفادات اسرائیل سے وابستہ ہیں۔ عرب ممالک اور ان کے عوام کو ناراض کر کے‘ مظلوم فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر ہم اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو کون یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ اسرائیل دشمنی سے باز آ جائے گا اور جو ہتھیار امریکہ United States سے براہ راست حاصل نہیں کر سکتے وہ اس کا گماشتہ ہمیں فراہم کرے گا۔ اسرائیل بھارت India کے مقابلے میں ہمیں ترجیح کیوں دے گا؟ میلوں دور ایک منحنی ریاست کو پاکستان Pakistan کے ایٹمی پروگرام سے کیا خطرہ ہے کہ اس سے نمٹنے کے لئے بھارت India کو اپنی خدمات پیش کرتی اور ناکام رہتی ہے؟ اسرائیل آخر پاکستان Pakistan سے دوستی کے لئے مرا کیوں جا رہا ہے؟ ان سوالات کا ایک ہی جواب ہے کہ پاکستان Pakistan عالم اسلام کا بازوئے شمشیر زن ہے ۔عالم عرب بالخصوص سعودی عرب Saudi Arabia کی سلامتی کا دارومدار دفاعی طور پر مضبوط اور اقتصادی و سیاسی طور پر مستحکم پاکستان Pakistan پر ہے اسرائیل جانتا ہے کہ پاکستان Pakistan کو رام کئے بغیر وہ عربوں سے اپنا ناجائز وجود منوا سکتا ہے نہ شرق اوسط میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے قابل۔ جب تک پاکستان Pakistan کا اسلامی تشخص برقرار اور ایٹمی پروگرام محفوظ ترقی و پذیر ہے‘ بھارت India جنوبی ایشیا میں بالادستی قائم کر سکتا ہے نہ اسرائیل توسیع پسندانہ عزائم میں کامیاب۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے میں سنجیدہ تھی اور ترکی مددگار مگر بالآخر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی کہ صہیونی ریاست پاکستان Pakistan کے بعض سوالات کا تسلی بخش جواب دے پائی نہ یہ یقین دہانی کرا سکی کہ وہ یروشلم کو دارالحکومت نہیں بنائے گی۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اس حوالے سے اپنی کتاب میں تفصیل بیان کر چکے ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ پھر جموں و کشمیر Kashmir کے بارے میں پاکستان Pakistan اپنے اُصولی موقف پر اصرار نہیں کر سکتا۔ فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ جائزتسلیم کر لیا گیا تو جموں و کشمیر Kashmir پر بھارتی Indian قبضے کی مخالفت کا کیا جواز؟ صہیونی ویسے بھی تاریخی طور پر شریرگروہ ہے۔ سپین میں مسلمان بادشاہ نے ایک یہودی کو وزیر اعظم Prime Minister مقرر کیا‘ جس نے منصب سنبھالتے ہی اہم اداروں میں صہیونی اہلکاروں کے تقرر پر پابندی لگا دی ۔بادشاہ نے پوچھا تو جواب دیا کہ میں ان کی سرشت سے کسی بھی مسلمان کے مقابلے میں زیادہ واقف ہوں‘ جرمنی اور آسٹریا میں یہودیوں پر عرصہ حیات تنگ ہوا تو ترک خلافت نے انہیں پناہ دی اور حسن سلوک سے نوازا مگر سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشوں میں یہ پیش پیش رہے اور شکست و ریخت میں بھر پور کردار ادا کیا ۔جو لوگ پاکستان Pakistan میں سادہ لوحی یا شرارت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہماری اسرائیل سے کیا دشمنی ہے وہ یہی سوال اسرائیل سے کریں کہ آخر وہ پاکستان Pakistan کا دشمن کیوں ہے؟ اور بھارت India سے قدر مشترک کیا ہے؟۔ معاہدہ توڑنے میں یہودیوں کا ثانی صرف بھارتی Indian برہمن ہے فتح خیبر کے بعد رسول اکرم ﷺ نے معاہدے کے تحت یہودیوں کو جان و مال کا تحفظ دیا مگر کچھ عرصہ بعد یہ خلاف ورزی پر اُتر آئے۔نتیجتاً ریاست مدینہ نے وعدہ شکنوں کو نکال باہر کیا۔ عمران خان Imran Khan پاکستان Pakistan کو ریاست مدینہ بنانے کے داعی ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ اسرائیل کے عزائم اور صہیونیوں کی سرشت سے واقف ہوں گے‘ کچھ عرصہ ان کے ساتھ گزار چکے ہیں نئے پاکستان Pakistan کو وہ لاالہ الااللہ کی بنیاد پر ایک ایسی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو کسی کے سامنے دبے نہ جھکے‘ بھارت India اور اسرائیل کا پاکستان Pakistan سے عناد نظریاتی ہے معاشی یا اقتصادی نہیں۔ ہمارے ایٹمی اور میزائل پروگرام سے دونوں الرجک ہیں اور امریکہ United States ان کا ہمنوا‘سنا ہے‘ عمران خان Imran Khan کا اسرائیل کو تسلیم کرنے پر دل نہیں مانتا اگر یہ بات ہے تووہ صرف دل کی سنیںکسی ایرے غیرے کی ہرگز نہیں‘ فرمان رسولﷺ یہی ہے اِستفتِ قلبک(دل سے پوچھو)۔ یہی اقبالؒ و قائدؒ کا سبق ہے اور کشمیری و فلسطینی عوام سے وفا کا تقاضا۔ مصر‘ اردن کو اسرائیل کوتسلیم کرنے سے کچھ نہیں ملا‘ ہم بھی یہ غلطی نہ کریں جس کا انجام بقول شاعر ع آغاز بھی رسوائی‘ انجام بھی رسوائی

 166