بانس کا جنگل

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

07 مارچ 2019

baans ka jungle

قائداعظم محمد علی جناح سگریٹ پی رہے تھے‘ سیکرٹری نے عرض کیا ”سر کیا ہم رسک نہیں لے رہے“ قائداعظم نے پورے یقین سے فرمایا ”ہرگز نہیں‘ ہماری حلف برداری کی تقریب کے پہلے کارڈز کراچی کے ہندوﺅں کو ہی جاری ہوں گے“ سیکرٹری نے گھبراکر عرض کیا ”سرپنجاب کے اندر ہزاروں مسلمان خاندان کاٹ دیئے گئے ہیں‘ ہندو مسلمان اور مسلمان ہندوﺅں کو برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں‘ ہم اگر ان حالات میں حلف برداری کی تقریب میں ہندوﺅں کو دعوت دیں گے تو مسلمان مائینڈ کر جائیں گے“ قائداعظم نے سگریٹ کا کش لیا اور فرمایا ”ملک بن چکا ہے‘ اب پاکستان Pakistan کا ہر شہری پاکستانی ہے‘ وہ خواہ ہندو ہو‘ سکھ ہو‘ پارسی ہو یا عیسائی ہو‘ آپ بس کارڈ جاری کر دو“ سیکرٹری

چپ چاپ باہر نکل گیا۔

یہ قیام پاکستان Pakistan کے وقت ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حلف برداری کی تقریب کا واقعہ تھا‘ قائداعظم نے کراچی میں 15 اگست 1947ءکو حلف لینا تھا‘ جنرل گل حسن مہمانوں کی فہرست لے کر قائداعظم کے دفتر میں حاضر ہوئے‘ قائدنے فہرست دیکھی‘ کراچی کے کسی ہندو کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا‘ قائداعظم نے کاغذ سائیڈ پررکھا اور فرمایا ”میری حلف برداری کی تقریب کے پہلے دعوتی کارڈز کراچی کے ہندوﺅں کو جاری ہوں گے“ یہ حکم اے ڈی سی کےلئے حیران کن تھا‘ وہ ڈرتے ڈرتے بولے ”سر یہ فیصلہ مجھے ٹھیک نہیں لگتا“ آپ دونوں کے درمیان باقی بحث پڑھ چکے ہیں بہرحال قصہ مختصر قائداعظم کے حکم پر ان کی حلف برداری کی تقریب کے پہلے کارڈز ہندوﺅں کو جاری ہوئے اور مسلمانوں کو اس کے بعد دعوت دی گئی‘ پہلی کابینہ بنی تو قائداعظم نے مسلمانوں کےلئے قانون بنانے کی ذمہ داری ہندو دانشور جوگندر ناتھ منڈل کو سونپی‘ منڈل پاکستان Pakistan کے پہلے لیبر اینڈ لاءمنسٹر تھے‘ قائداعظم نے دسمبر میں سر ظفراللہ کو پاکستان Pakistan کا پہلا وزیر خارجہ بنا یا‘ یہ قادیانی تھے اور پورا ملک ان کے عقائد سے واقف تھا لیکن قائداعظم نے قادیانی ظفراللہ کو وزیر خارجہ اور ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو مسلمانوں کا وزیر قانون بناتے وقت ایک لمحے کےلئے تامل نہیں کیا ‘ یہ لوگ کابینہ میں شامل ہوئے اور پاکستانی ہونے کا حق ادا کر دیا‘ قائداعظم کی حیات میں ملک کے اعلیٰ عہدوں پر عیسائی بھی تھے‘ پارسی بھی‘ ہندو بھی اور سکھ بھی‘

کراچی کا زیادہ تر کاروبار یہودیوں‘ پارسیوں اور اینگلو انڈینز کے ہاتھ میں تھا ‘ قائداعظم اپنی ضروریات کی اکثر اشیاءان کے سٹورز سے منگواتے تھے‘ پاکستان Pakistan کا آرمی چیف تک برطانوی عیسائی تھا اور وہ پاک فوج Pakistan Army میں رہ کر اپنی مذہبی عبادات کرتا تھا اور ریاست کو اس کے عقائد پر کوئی اعتراض نہیں تھا‘ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی لاءپریکٹس انگریزو کیل سر جان مولز ورتھ کے چیمبر میں شروع کی اور سیاسی تربیت پارسی دانشور دادابھائی نوروجی سے حاصل کی‘قائد گورنر جنرل تھے تو ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری پارسی پولیس افسر کے پاس تھی‘

آپ اس کی نگرانی میں سفر کرتے تھے اور آپ نے کبھی خود کو اس کی نگرانی میں غیرمحفوظ محسوس نہیں کیا تھا‘ قائداعظم زیارت میں بیمار ہوئے تو آپ کی نرس فلس ڈنہم عیسائی تھی اور آپ اس کی اصول پسندی اور پروفیشنل ازم کی ہمیشہ تعریف کرتے تھے لیکن آج قائداعظم کے اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ آج ہم نے اس ملک کو ملک نہیں رہنے دیا‘ ہم نے اسے مذہبی تعصب کا میدان جنگ بنا دیا ہے‘ ہم اس ملک میں عیسائیوں‘ ہندوﺅں‘ پارسیوں‘ سکھوں اور کیلاشی اقلیتوں کو برداشت کرنے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں‘یہ قائداعظم کے اس ملک کے ساتھ ظلم ہے‘ ظلم عظیم!

ہم پاکستانی مذہبی منافرت میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں لیکن پنجاب کے سابق وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اعتدال کی ساری حدیں پھلانگ دیں‘ یہ چار مارچ کولاہور میں ہندوﺅں کے عقائد کا مذاق اڑاتے رہے اور یہ زبان درازی کے جوہڑ میں چھلانگ لگاتے وقت یہ تک بھول گئے قائداعظم کے پاکستان Pakistan میں اس وقت بھی چالیس لاکھ ہندو رہتے ہیں اور یہ فیاض الحسن چوہان سے زیادہ پاکستانی ہیں‘ چوہان صاحب حکومت کے ان وزراءاور ارکان اسمبلی میں شامل ہیں جو جب بھی بولتے ہیں اپنی زبان سے پوری دنیا کو بتا دیتے ہم اس رتبے‘ اس اعزاز اور اس عزت کے قابل نہیں ہیں‘

یہ لوگ اپنے منہ سے ثابت کرتے ہیں زبان اگر کنٹرول میں نہ ہو تو انسان کو تخت سے روڑی پر آتے دیر نہیں لگتی اور چوہان صاحب آٹھ ماہ کے اقتدار میں روز تخت سے نالی میں چھلانگ لگاتے رہے یہاں تک کہ عمران خان Imran Khan اپنے غلط فیصلے کو ٹھیک کرنے پر مجبور ہو گئے‘یہ بھی مان گئے اگر انسان کی اوقات نہ ہوتو اسے عزت نہیں ملنی چاہیے‘ عمران خان Imran Khan نے فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ لے کر بہت اچھا فیصلہ کیا‘ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے عمران خان Imran Khan نے اپنی فلاسفی تبدیل کر لی ہے‘

یہ اب میرٹ پر جا رہے ہیں اور یہ بہت خوش آئند بات ہے‘ پاکستان Pakistan میں کسی شخص کو مذہبی منافرت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘ یہ قائداعظم کا ملک ہے اور قائداعظم نماز کے دوران بھی فرقے کی نمائش کے خلاف تھے‘ قائد کا خاندان شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا تھا لیکن قائداعظم نے پوری زندگی خود کو صرف مسلمان کہا اور یہ صرف مسلمان رہے ‘دنیا کا کوئی مسلمان کسی دوسرے کے مذہب اور عقائد کا مذاق نہیں اڑاتا‘ ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے‘ ہمارے جھنڈے کا ایک تہائی حصہ سفید رنگ پر مشتمل ہے‘

یہ سفید حصہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے‘ ہمارے ملک میں اگر اقلیتوں کے حقوق محفوظ نہیں ہیں تو پھر ہمیں اس سفید کو بھی سبز کر لینا چاہیے اور فیاض الحسن چوہان جیسے لوگوں کو کھل کھیلنے کا موقع دے دینا چاہیے‘ یہ اٹھیں اور پاکستان Pakistan کے بال ٹھاکرے اور نریندر مودی narendra modi بن جائیں‘ یہ پہلے اقلیتوں کو ماریں اور اس کے بعد مخالف فرقوں کو اڑا دیں تاکہ یہ ملک جہنم بن جائے‘ عمران خان Imran Khan نے بروقت اور قطعی فیصلہ کر کے ہم جیسے معتدل پاکستانیوں کا دل موہ لیا چنانچہ میں اپنے دونوں ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے اٹھا کر انہیں ویل ڈن کہتا ہوں۔

عمران خان Imran Khan کا دوسرا بڑا فیصلہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن ہے‘ حکومت نے جیش محمداور جماعت الدعوة کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کر دیا ہے‘ مولانا مسعود اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر اور بھائی مفتی عبدالرﺅف بھی گرفتار کر لئے گئے ہیں‘ حکومت نے کالعدم تنظیموں کے دفاتر‘ مدارس اور پراپرٹی بھی ضبط کرلی ہے‘ یہ اقدامات بھارت India کی طرف سے پلوامہ Pulwama حملے کے ڈوزیئر کے بعد اٹھائے گئے‘ حکومت کے اپنے لوگوں کا کہنا ہے بھارت India اور پاکستان Pakistan کے درمیان صلح کی کوشش کرنے والے ملکوں نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا‘

حکومت اگر یہ مطالبہ نہیں مانتی تو ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا جائے گا اور یوں ہم دیوالیہ ہو جائیں گے‘ہمارے پاس اب اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا‘حکومت کا جواز درست ہو سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں عمران خان Imran Khan نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن کر کے اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا رسک لیا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ وہ کام ہے جو جنرل پرویز مشرف کر سکے‘ آصف علی زرداری اور نہ میاں نواز شریف‘ بھارت India مولانا مسعود اظہر کے بھائی مفتی عبدالرﺅف کو ائیر انڈیا کے طیارے کے اغواءکا مرکزی ملزم سمجھتا ہے‘

یہ طیارہ 24 دسمبر 1999ءکو کھٹمنڈو سے اغواءہوا تھا‘ اس میں 176مسافر سوار تھے اور یہ افغانستان Afghanistan کے شہر قندہار میں اتارا گیا تھا‘ ہائی جیکرز نے طیارے کے مسافروں کے بدلے بھارت India سے مولانا مسعود اظہر ‘ عمرسعید شیخ اور مشتاق احمد زرگر رہا کرائے تھے‘ یہ لوگ کوٹ بھلوال جموں اور دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے‘ بھارت India نے اپنے اتحادیوں کے ذریعے جنرل پرویز مشرف پر بھرپور دباﺅ ڈالا تھا لیکن جنرل مشرف نے جیش محمد پر کریک ڈاﺅن کیا اور نہ مفتی عبدالرﺅف کو گرفتار کیا‘

بھارت India نے 13 دسمبر 2001ءکو پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھی مفتی عبدالرﺅف کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا لیکن جنرل مشرف خواہش کے باوجود یہ کام نہ کر سکے‘ 2008ءمیں پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کی حکومت تھی‘ شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے‘ ممبئی اٹیکس ہوئے اور اجمل قصاب اور اس کے 9ساتھیوں نے بھارت India کی سماجی‘ معاشی اور سفارتی ہڈیاں توڑ دیں‘ بھارت India نے اس وقت بھی حافظ سعید کے ساتھ ساتھ مولانا مسعود اظہر اور مفتی عبدالرﺅف کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا لیکن آصف علی زرداری بھی خواہش کے باوجود یہ مطالبہ پورا نہ کر سکے‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے دور میں یہ مطالبہ بار بار دہرایا گیا‘

دو جنوری 2016ءکو پٹھان کوٹ کا واقعہ پیش آیا‘ نواز شریف4 جنوری کو سری لنکا کے دورے پرتھے‘ نواز شریف Nawaz Sharif نے سری لنکا سے نریندر مودی narendra modi کو فون کیا اور پٹھان کوٹ واقعے پر تحقیقات کی یقین دہانی کرائی‘نریندر مودی narendra modi نے مولانا مسعود اظہر اور مفتی عبدالرﺅف کی گرفتاری اور کھلا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے وعدہ کر لیا لیکن یہ بھی یہ کام نہ کر سکے‘ عمران خان Imran Khan 20 برسوں میں کالعدم تنظیموں کے خلاف میدان میں اترنے والے پہلے وزیراعظم ہیں‘

یہ فیصلہ اچھا ہے یا برا یہ وقت ثابت کرے گا تاہم وزیراعظم کو مستقبل میں دو دریاﺅں کا سامنا کرنا پڑے گا‘ بھارت India حافظ سعید‘ مولانا مسعود اظہر اور مفتی عبدالرﺅف کا نام بار بار لیتا ہے لیکن یہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا‘ حکومت ثبوتوں کے بغیر ان لوگوں کو زیادہ دیر تک حراست میں نہیں رکھ سکے گی اور دوسرا یہ تمام لوگ ریاست کے پچاس سال پرانے بیانیے اور ستر سال پرانے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کی پیداوار ہیں‘ آپ کچھ بھی کر لیں آپ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل اور ریاستی بیانیہ تبدیل کئے بغیر ان لوگوں کو معاشرے میں تحلیل نہیں کر سکیں گے‘

یہ لوگ ہمیشہ معاشرے میں موجود رہیں گے بس ان کے نام‘ شکلیں اورپتے تبدیل ہو جائیں گے‘ بے نظیر بھٹو اس لڑائی میں شہید ہو چکی ہیں‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif جیل میں ہیں اور عمران خان Imran Khan اپنے لئے خطرات پیدا کر لیں گے چنانچہ یہ اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ پھر ریاست کا بیانیہ تبدیل کریں اور کشمیر کے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کریں‘ حکومت کو کسی کریک ڈاﺅن کی ضرورت نہیں رہے گی ورنہ دوسری صورت میں بانس کے جنگل میں نئے بانس اگ آئیں گے اور آپ بانس کاٹتے کاٹتے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

 215