عمران خان Imran Khan اور اسرائیل

قلم کمان - حامد میر

07 مارچ 2019

Imran Khan aur Israel

یہ ایک پرانی بحث ہے جو نئے پاکستان Pakistan میں ایک نئے زاویے سے دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ عوام الناس کو اس بحث کی خبر نہیں کیونکہ یہ بحث اقتدار کے ایوانوں تک محدود ہے۔ پاکستان Pakistan اور بھارت India میں حالیہ کشیدگی کے بعد وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن پر انہیں صرف پاکستان Pakistan میں نہیں بلکہ بھارت India میں بھی خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ ان اقدامات سے دنیا میں پاکستان Pakistan کی ساکھ بہت بہتر ہوئی۔ پاکستان Pakistan کو صرف بھارت India نہیں بلکہ کئی اور بیرونی ممالک کی سازشوں کا بھی سامنا ہے اور ان ممالک میں اسرائیل سرفہرست ہے۔ 26فروری کو بالا کوٹ کے قریب جابہ میں بھارتی Indian ایئر فورس کے حملے کے بعد سے عالمی میڈیا میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اس حملے میں بھارت India نے اسرائیلی ساختہ اسلحہ استعمال کیا۔ مصدقہ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ بھارت India نے اسرائیل کے ساتھ مل کر راجستھان کے راستے سے پاکستان Pakistan پر ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پاکستان Pakistan کے خفیہ اداروں کو اس حملے کی قبل از وقت اطلاع مل گئی اور پاکستان Pakistan نے بھارت India کو یہ پیغام بھجوایا کہ اگر ہماری سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو بہت بھرپور جواب دیا جائے گا اور یوں بھارت India کا یہ حملہ ٹل گیا۔ بھارت India اور اسرائیل کے اس ’’پاکستان Pakistan دشمن اتحاد‘‘ کے تناظر میں کچھ دنوں سے عمران خان Imran Khan کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ہمیں بھارت India اور اسرائیل کا اتحاد توڑنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں۔ عمران خان Imran Khan کو یہ مشورہ 26؍فروری کے بھارتی Indian حملے سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور 26فروری کو بھارتی Indian حملے کے بعد بھی دیا گیا۔ مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم آزادی فلسطین کے نمائندے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں، اگر مصر، اردن اور ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان Pakistan کو بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں اس طرح پاکستان Pakistan کے خلاف اسرائیل اور بھارت India کا اتحاد ختم ہو جائیگا۔ یہ مشورہ اسرائیل نہیں بلکہ پاکستان Pakistan کے مفاد میں نظر آتا ہے۔ عمران خان Imran Khan یہ مشورہ تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دے دیں تو پورے مغرب کے ہیرو بن سکتے ہیں لیکن ان مشوروں پر ان کا سادہ سا جواب تھا۔ ’’دل نہیں مانتا‘‘

مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان Imran Khan کو دل کی نہیں بلکہ دماغ کی بات ماننا چاہئے لیکن عمران خان Imran Khan کہتے ہیں کہ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم کی تائید نہیں کر سکتا۔ مجھے مشورہ دینے والوں کی نیت پر ذرہ بھر شک نہیں لیکن عمران خان Imran Khan کا جواب سن کر دل کو اطمینان ہوا کہ بہت سی خامیوں کے باوجود عمران خان Imran Khan کسی دبائو اور خوف میں آنے والا سیاستدان نہیں۔ ان کے یوٹرن لینے کی سیاست پر میں نے بہت تنقید کی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اسرائیل کے معاملے پر یوٹرن نہیں لیں گے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معاملہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحث جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کے دور اقتدار میں شروع ہوئی تھی جب امریکہ United States نے ’’آپریشن سائیکلون‘‘ کے ذریعہ افغانستان Afghanistan میں روسی فوجوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ’’مجاہدین‘‘ کو اسلحہ فراہم کرنے کے لئے پاکستان Pakistan کیساتھ ساتھ اسرائیل کی خدمات بھی حاصل کیں۔ 1988میں محترمہ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو ان کو اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے چینل کھولنے کا مشورہ دیا گیا۔ مشورہ دینے والے صاحب سرکاری ملازم تھے۔ اس زمانے میں نصیر اللہ بابر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ایڈوائزر تھے۔ بابر صاحب کو اس مشورے میں سازش کی بو نظر آئی لہٰذا مذکورہ سرکاری ملازم کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1990میں اس سرکاری ملازم نے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ مل کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نواز شریف Nawaz Sharif صاحب کی حکومت آئی تو انہیں بھی اسرائیل کو ’’انگیج‘‘ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ 1993میں محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں تو انہیں پیشکش کی گئی کہ اگر وہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو پاکستان Pakistan کے تمام بیرونی قرضے معاف ہو سکتے ہیں۔ 1994میں ان کی جنیوا میں یاسر عرفات سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے یاسر عرفات کو بتایا کہ مجھے کہا جاتا ہے کہ اگر پی ایل او کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پاکستان Pakistan اور اسرائیل میں بات کیوں نہیں ہو سکتی؟ یاسر عرفات پھٹ پڑے۔ گلوگیر لہجے میں کہا ہمیں مار مار کر اسرائیل سے مذاکرات پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کے لئے تیار نہیں اور مذاکرات کے ذریعہ صرف ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان Pakistan نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کر لی تو ہم مذاکرات کے قابل بھی نہ رہیں گے۔ اس ملاقات کے اگلے دن میں نے ڈیووس میں اسرائیلی وزیر خارجہ شمعون پیریز کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے پاکستان Pakistan کے ساتھ دوستی کی خواہش ظاہر کی لیکن بے نظیر حکومت نے اس معاملے پر بریک لگا دی۔

اسرائیل کے ساتھ دوستی کی کھلم کھلا کوششوں کا آغاز جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا۔ اگر ایسی کوشش نواز شریف Nawaz Sharif یا محترمہ بے نظیر بھٹو کرتے تو واجب القتل قرار پاتے۔ مشرف حکومت کی طرف سے اسرائیلی حکومت کے ساتھ سرعام رابطوں پر پاکستان Pakistan کی پارلیمنٹ میں تو شور ہوا لیکن غداری اور کفر کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والے خاموش رہے۔ واضح رہے کہ عمران خان Imran Khan سمیت وہ تمام پاکستانی جو اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے مخالف ہیں ، یہودیوں کے ساتھ تعلقات کے مخالف نہیں۔ یہودیوں کے ساتھ تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں فرق ہے۔ بہت سے یہودی بھی اسرائیل کی فلسطین دشمن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ جس طرح بھارت India کی طرف سے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اسرائیل نے فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیل نے 2017میں تل ابیب کے بجائے یروشلم (بیت المقدس) کو اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ United States نے تو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کر دیا، کیا پاکستان Pakistan یروشلم میں اپنا سفارتخانہ قائم کر سکتا ہے؟ پاکستان Pakistan کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد کشمیر پر پاکستان Pakistan کا موقف مضبوط ہو گا یا کمزور؟ 23مارچ کو ہم یوم پاکستان Pakistan مناتے ہیں۔ 23مارچ 1940کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے فلسطینی مسلمانوں کے حق میں بھی ایک قرار داد منظور کی تھی۔ 1945میں قائد اعظمؒ نے بمبئی کے ایک جلسے میں امریکی صدر ٹرومین کے خلاف شیم شیم کے نعرے لگوائے اور کہا کہ وہ دس لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کے بجائے امریکہ United States میں آباد کیوں نہیں کر لیتا؟ 1947میں اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین نے قائداعظمؒ کو ٹیلی گرام بھیجا کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں لیکن پاکستان Pakistan نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی مخالفت کی۔ جن مسلم ممالک نے رائے عامہ کو نظر انداز کر کے اسرائیل کو تسلیم کیا وہاں انتہاء پسندی نے جنم لیا۔ مصر ایک مثال ہے۔ ترکی نے 1949میں اسرائیل سے تعلقات قائم کئے لیکن آج دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو صرف بھارت India کے ساتھ اس کے اتحاد کی نظر سے نہیں بلکہ مسئلہ فلسطین پر قائداعظمؒ کے موقف کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے۔ فلسطین اور کشمیر کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر عمران خان Imran Khan کا دل نہیں مانتا لیکن فیصلہ عمران خان Imran Khan نے نہیں پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ اس معاملے پر بند کمروں میں نہیں پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں بحث ہونی چاہئے۔ ہمیں دھوکے میں نہیں رہنا چاہئے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد بھی پاکستان Pakistan کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوں گی۔ اصل نشانہ پاکستان Pakistan کا نیوکلیئر پروگرام ہے۔ اسرائیل صرف نیو کلیئر فری پاکستان Pakistan کا دوست بن سکتا ہے۔

 237