محدود جنگ کی آڑ میں خود مختار کشمیر کا منصوبہ

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

06 مارچ 2019

mehdood jung ki aarr mein khud mukhtaar Kashmir ka mansoobah

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے دل موہ لئے۔ وزیر اعظم Prime Minister کا کہنا تھا کہ اگر حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں تو ہم بہادر شاہ ظفر نہیں بلکہ ٹیپو سلطان بنیں گے۔پاکستان Pakistan نے بھارت India کو مذاکرات کی سنجیدہ پیشکش کرکے بین الاقوامی حمایت حاصل کی ہے اور پاکستان Pakistan کے خلاف تمام بیرونی سازشوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ امریکہ United States ‘ برطانیہ‘ چین China اور روس Russia کی جانب سے پاکستان Pakistan اور بھارت India کو تلقین کی گئی کہ وہ مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کریں۔وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے بھارتی Indian پائلٹ کو رہا کرکے بھارت India کو دانشمندی کی راہ دکھا ئی ہے۔ 1965ء کی جنگ کے دوران ایک بھارتی Indian پائلٹ، جو بھارتی Indian فیلڈ مارشل کا بیٹا تھا‘ پاکستانی ایئر فورس کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ اس کو صدر ایوب خان نے سر کاری مہمان قرار دے کر والیٔ سوات میاں گل زیب کے ہاں ٹھہرایا اور سیز فائر کے بعد اس کو خاموشی سے بھارت India بھجوا دیا۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan بھی اپنے طرزِ عمل‘ بیانات اور اقدامات سے باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت India خطرات سے کھیلنے سے باز آئے۔ بھارت India کے داخلی مسائل گمبھیر قسم کے ہیں‘ پانچ ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جبکہ خالصتان کا مسئلہ الگ ہے۔ آزادیٔ کشمیر کی تحریک تقریبا ًمکمل طور پر تیار ہو چکی ہے۔ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی صورتحال نے بھارت India کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی ایک نئی راہ پر چل نکلی ہے‘ آزادی کا سورج طلوع ہوا چاہتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دورۂ آگرہ کے بعد پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان امن عمل کا آغاز ہوا تھا ۔باہمی تنازعات کے حل کے لئے مذاکراتی گروپ کے ذریعے واجپائی اور منموہن سنگھ سے گفتگو جاری رہی اور کشمیر کے باب میںوزیراعظم نہرو کے 1964ء کے فارمولے پر کام ہو رہا تھا ۔ آئے دن مذاکرات ہو رہے تھے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اعتماد سازی کی تجاویز کے انبار لگ گئے‘ جن سے خطے میں پائیدار امن کی امید بندھی تھی۔ مگر ممبئی حملوں سے سب کیے کرائے پر پانی پھیر دیا گیا۔ سارا کیا دھرا بھارت India کا اپنا تھا مگر الزام پاکستان Pakistan پر لگا دیا گیا اور باہمی رابطے کی سب راہیں بند کر دی گئیں۔

گزشتہ دس برس سے پاکستان Pakistan کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت India کسی بھی بامقصد مذاکرات سے انکاری رہا۔پاکستان Pakistan کی وزارت خارجہ میں ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی جو خوش آئند قدم تھا۔ مشاورتی کونسل میں وزارت خارجہ کے ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو شامل کیا گیا ۔ اسی کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے وقار اور عزتِ نفس پر حرف آئے بغیر ہم اس مشکل صورتحال سے نکل آئیں اور خطہ جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے۔ وزارت خارجہ کو بھارت India کے سابق سیکرٹری خارجہ اور بعد ازاں وزیر مملکت برائے خارجہ امور پی کے دھر‘ سردار سورن سنگھ‘ کلدیپ نائر اور پنڈت جواہر لال نہرو کی 1964 کی تجاویز پر بھی غو ر و خوض کرنا چاہئے اور بھارت India کو آئینہ دکھانے کے لئے ان کی سفارشات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے۔ پاکستان Pakistan نے اپنی قوت کا برملا اظہار کر نے کے بعد نریندر مودی narendra modi کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔پاکستان Pakistan کی عسکری اور سول قیادت پاکستان Pakistan کے اندرونی اور بیرونی مسائل کو دیکھتے ہوئے امن کی خواہش مند ہے کیونکہ سی پیک CPEC معاہدے پر عملدرآمد سے پاکستان Pakistan اس خطے کا خوشحال ترین ملک بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان Pakistan کی موجودہ قیادت کو ملکی اور بین الاقوامی حکمتِ عملی کے رموز کو سمجھنے کی صلاحیت کا حامل ہونا ضروری ہے کیونکہ امریکہ United States پاکستان Pakistan اور بھارت India میں ایک محدود جنگ کروانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ امریکہ United States کے صدر ٹرمپ اسی لائن پر کام کر رہے ہیں ۔ایک ایسی محدود جنگ جو کنٹرول لائن پر رہے اور بین الاقوامی سرحد کو متاثر نہ کرے۔ ایٹمی جنگ کا اس لئے اندیشہ نہیں رہے گا کیوں کہ لائن آف کنٹرول خطہ متارکہ کے مترادف ہے اور عبوری سرحد کا درجہ رکھتی ہے۔ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی سے مبرا ہے اور بھارت India الیکشن سے پیشتر اورالیکشن کے بعد لائن آف کنٹرول پر دباؤ بڑھائے گا۔

امریکی حکمت عملی کے تحت کنٹرول لائن کی صورتحال آؤٹ آف کنٹرول ہونے پر امریکہ United States یورپی یونین اور اقوام متحدہ مداخلت کریں گے اور کشمیر کی خود مختاری کے نام پر اسے اپنے عارضی کنٹرول میں لے کر جنوبی سوڈان کی طرز پر عالمی فوج کے سپرد کردیا جائے گا۔ اس طرح یہ ریاست امریکہ United States کے تابع ہو گی‘ جس طرح انڈونیشیا Indonesia سے علیحدہ مشرقی تیمور کی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ خود مختار کشمیر میں گلگت بلتستان‘آزاد کشمیر اور جموں کے سوا پورا مقبوضہ کشمیر شامل ہوگا۔ جموں کو بھارت India کے پاس رہنے دیا جائے گا اور یہی منصوبہ پنڈت جواہر لال نہرو نے 1964 ء میں شیخ عبداللہ کی وساطت سے فیلڈ مارشل ایوب خان کو بھجوایا تھا‘ جسے صدر ایوب خان نے مسترد کردیا تھا۔ اس طرح امریکی منصوبے کے مطابق پاکستان Pakistan اور بھارت India میں کشیدگی ختم ہو جائے گی‘خطے میں امن اور مستحکم ہوجائے گا اور چین China کا محاصرہ بھی فو ل پروف ہو جائے گا۔ افغانستان Afghanistan سے اٹھنے والے خطرات پر بھی نظر رکھی جاسکے گی اور وسطی ایشیا میں پہلے سے موجود امریکی اثرات مزید موثر ہو جائیں گے۔ چین China اور روس Russia اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے‘ جبکہ پاکستان Pakistan کی قیادت کو بھی امریکی اور بھارتی Indian منصوبے کا مکمل طور پر ادراک ہے۔

امریکہ United States اور یورپی یونین کے منصوبے قوم کے سامنے پیش کردیئے ہیں ‘اب پاکستان Pakistan کی حکومت اور عوامی قیادت کو احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان Pakistan میں کشمیر کی آواز اٹھانے والی تنظیموں کو فنڈنگ یورپی یونین سے کس منصوبے کے تحت دی جا رہی ہے؟ ایسی این جی اوز کے دفاتر اور ان کے سربراہان کی رہائش گاہیں پوش علاقوں میں ہیں اور ان کی منی ٹریل کے بارے میں کسی ادارے نے ان سے سوالات نہیں پوچھے۔ ان این جی اوز کی خاطر برائے نام احتجاج کرنے کے لئے جو خواتین باہر نکلتی ہیں ان کا پس منظر بھی سامنے آنا چاہیے۔ کشمیر کے نام پر پاکستان Pakistan میں جو این جی اوز کام کررہی ہیں‘ دراصل ان کی پشت پر مغربی اداروں کی فنڈنگ ہے‘ جبکہ ان کے عزائم‘ خودمختار کشمیر کی صورت میں پاکستان Pakistan کو مفلوج کرنا ہے۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے عالمی منصوبہ بندی پر بہت زیادہ نظر نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارا ایک مضبوط ریاستی موقف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا بھی اسی طرح سوچتی ہے جس طرح ہم سوچتے ہیں۔ مگر ایسا ہوتا نہیں۔بڑی طاقتیں اپنے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی بساط بچھاتی ہیں‘ چاہے ہم اسے دیکھ یا سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں۔ اس لیے لازمی ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے چوکنا رہیں اور اپنی تیاری رکھیں کہ کشمیر یوں کی مرضی کے خلاف ہر طرح کے منصوبے کی راہ روک سکیں۔پچھلے پانچ برس سے بھارت India کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جس طرح انسانی حقوق پامال کئے گئے‘ اس کے نتیجے میں کشمیریوں میں غم و غصہ بلند ترین مقام پر ہے۔ اسی صورتحال نے عالمی سطح پر مظلوم کشمیریوں کی حالت ِ زار کو بحث کا موضوع بنایا ہے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق نے پہلی بار کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی‘ جس میں بھارت India پر ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ سے بھی مظلوم کشمیریوں کی المناک صورتحال دنیا پر نمایاں ہوئی۔ مگر پاکستان Pakistan کے خلاف بھارت India کی پیدا کی گئی جارحانہ صورتحال نے مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ دنیا محسوس کرنے لگی ہے کہ مسئلہ کشمیر Kashmir Issue حل کئے بغیر پاکستان Pakistan اور بھارت India میں پائیدار امن کا کوئی امکان نہیں؛چنانچہ یہ موقع ہے کہ ہم بحیثیت ملک اور قوم ہوشیار رہیں اور غور سے دیکھتے رہیں کہ مغربی ممالک مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کے لیے کس قسم کے منصوبوں پر عملدرآمد کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

 287